ہر دلاور بخت آور ہوتا ہے، ہر بخت آور دلاور ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اسم با مسمی ہوتے ہیں ،اپنے نام کا بھرم رکھتے ہیں۔ جھنگ والوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ سچا بھی ہوتا ہے اور پکا بھی۔ ایک جماعت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ بندہ اس جماعت سے نکل بھی جائے تو وہ جماعت بندے کے اندر سے نہیں نکلتی۔ یہی بات اہلیان جھنگ کے بارے میں بھی بجا ہے، جو علاقے انتظامی ضروریات کے تحت ضلع جھنگ سے نکل چکے ہیں، جھنگویت ان کے اندر سے نہیں نکل سکتی ہے ۔آباو اجداد میں سے کوئی جھنگوی ہو تو ہر نسل جھنگوی ہی ہوتی ہے۔ ہمارے دوست چوہدری دلاور موجودہ ضلع چنیوٹ کے رہائشی ہیں اور جھنگ کی ثقافت کا بہترین نمونہ ہیں۔ قانون میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان نے صوبائی سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ نوجوان نے قرآن شریف حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے بہت بڑا اثاثہ ہیں۔اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے بھی اور ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان کے علاقے میں جاتے ہیں اور کسی مسئلے کے وجہ سے دلاور خان سے رابطہ کرتے ہیں۔ دنیا کے حالات ہمیشہ سے نازک رہے ہیں ،گزارا مل جل کے ہی ہوتا ہے۔ کوئی گاڑی منگواتا ہے ، کوئی پٹرول ڈلواتا ہے، یوں ایک زمانہ ڈنگ ٹپاتا ہے ۔کئی لوگ تو ڈنگ ٹپاتے ٹپاتے ایک جہان سے دوسرے جہان میں ٹپک جاتے ہیں لیکن ان کے ارمان پورے نہیں ہوتے ۔چند ارمان تو کیا ، ان کا ایک ارمان بھی پورا نہیں ہوتا کیونکہ مہنگائی ہمیشہ سے موجود رہی ہے ہے۔ مہنگائی کی ایک ہم قافیہ بہن مہنگائی سے بھی زیادہ خطرناک ہے، جی ہاں کالم نگار کی مراد تنہائی سے ہے ۔، مہنگائی اور تنہائی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مہنگائی غریب آدمی کو تنہائی کی طرف لے جاتی ہے۔ سب سے خطرناک غربت اچھے دوستوں سے محروم ہونا ہے ۔اگر اچھے دوست میسر ہوں، تو تنگ دستی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اچھا دوست زور آور بھی ہوتا ہے اور دل آور بھی،اچھا دوست فورٹ منرو کی سیر کرواتا ہے اور کبھی کبھی لے جاتا ہے پشاور بھی ۔پشاور بہادر لوگوں کی سرزمین ہے ۔بہادر لوگ ہی کسی کی مدد کرتے ہیں۔ ہمارے دوست دلاور خان زور اور بھی ہیں اور دل کے کھلے ڈلے بھی۔آج کے دور میں کسی دوست کو ذاتی پٹرول بھری گاڑی بمعہ ڈرائیور کے پیش کر دینا بہادری کی انتہا ہے۔ یہ کہنا ،جائیں اپنے عزیز و اقارب کی شادی نہیں، شادیوں میں شرکت کر ائیں،کسی صاحب ظرف کا ہی کام ہے۔ دلاور خان دوستوں کے لیے ہر طرح کی بہادری کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، اس لیے قریبی دوست انہیں دل آور کہتے ہیں۔ وہ زمانہ گزر گیا جب کوئی خاتون کہتی تھی، گڈی تو منگا پٹرول میں پوانی آں۔جنگ کے بعد گاڑی خریدی جا سکتی ہے پٹرول ڈلوانا ، مشکل لگتا ہے۔ ایران کی جنگ کے بعد پٹرول ڈلوانے والا شخص دل کا غریب ہو ہی نہیں سکتا، رئیس اعظم ہی ہو سکتا ہے یا پھر پٹرول پمپ کا مالک۔ہمارے بھائی دلاور خان خوبصورت شخصیت ہیں ۔ وہ دل کے رئیس ہیں، اتنے بڑے رئیس ، ایک دفعہ تقاضا کرنے پر گڈی بھی دے دیتے ہیں اور پٹرول بھی ڈلوا دیتے ہیں۔ کالم نگار ٹھہرا اصلی غریب، روٹی، کپڑا اور مکان کی طرح اسے گاڑی، پٹرول اور ڈرائیور، تینوں درکار ہوتے ہیں۔ ایک سفر درپیش تھا ۔ایک پرانے جاننے والے صاحب کو گزارش کی ،وہ وعدہ کر کے بھول گئے تو خیال آیا دلاور خان بھی اسی علاقے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ دل کا رشتہ بھی تھا، رشتہ داری بھی تھی اور محبت قائم دائم تھی ۔ کچھ لوگوں کو احسان کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ یقین کیجیے، احسان کرنے کا سلیقہ کم کم لوگوں کوہی آتا ہے۔ دلاور انہی نایاب لوگوں میں سے ایک ہیں ۔بڑے لوگ تو بڑے ہوتے ہی ہیں ،ان کے ارد گرد کے افراد بھی ان سے اچھائی سیکھتے ہیں۔ دلاور صاحب کے ڈرائیور اظہر علی سے بھی تفصیلی گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ لاہور میں ڈسٹرکٹ مونیٹرنگ افیسر کی خدمات سر انجام دینے والے دلاور خان سیالکوٹ، ملتان اور بہاولپور میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔پی ایچ اے فیصل اباد میں دلاور خان کو خدمات سر انجام دیتے ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے۔ فیصل آباد شہر کو خوبصورت بنانے کیلئے وہ دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ ان کی ٹیم قابل افراد پر مشتمل ہے۔ ڈرائیور کسی بھی سرکاری محکمے میں ریڑھ کی ہڈی کی مانندہوتا ہے ۔اظہر صاحب طویل عرصے سے مینیجنگ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل کے ڈرائیور کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ بھارت سے ہجرت کر کے میانوالی آباد ہونے والے راجپوت گھرانے کے بزرگ نے میانوالی سے فیصل آباد ہجرت کا فیصلہ بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے کیا ،کیونکہ ان کے خیال میں فیصل آباد بہتر تعلیمی سہولیات کا حامل شہر تھا۔ خیال بالکل بجا تھا۔ فیصل آباد پاکستان کا فخر ہے ،جھنگ والے اس بات پر بڑا فخر کرتے ہیں کہ فیصل آباد کبھی جھنگ کی تحصیل رہ چکا ہے۔ضلع چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے دلاور خان صوبائی مینجمنٹ سروس کے افسر ہیں۔ ڈی سی جھنگ ہونا محاورہ تھا۔ دلاور خان اے سی جھنگ رہ چکے ہیں۔ ہماری دعا ہے ، وہ کسی دن ڈی سی جھنگ کے عہدے پر بھی فائز ہوں۔ابتدائی تعلیم ضلع چنیوٹ کے تعلیمی اداروں سے حاصل کرنے والے نوجوان افسر لا گریجویٹ ہیں۔
دیپال پور میں بطور اسسٹنٹ کمشنر فرائض سر انجام دینے والے فیصل آباد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ آجکل وہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ فیصل آباد شہر میں پارکوں کی تعداد قابل ذکر ہے۔ گرین بیلٹس بھی جا بجا نظر آتی ہیں۔ موجودہ حکومت نے شہروں کی خوبصورتی پر انتہائی توجہ دی ہے۔ شہر خوبصورت ہو تو ذہنی امراض کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ پارکس کسی بھی جدید شہر کا تعارف ہوتے ہیں۔باغ جناح، کلیم شہید، کشمیر پار ک اور دیگر پارکس میں عوام کی کثیر تعداد کا روزانہ آنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ فیصل آباد میں پارکس کی حالت بہت بہتر ہے۔ لاہور اپنے پارکس کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اب پنجاب کے دیگر شہر بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہے۔ ہر شہر میں ایسے مقامات نظر آتے ہیں جہاں فیملیز تفریح کیلئے جاتی ہیں۔ پی ایچ اے کا آغاز لاہور سے ہوا، پھر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز پر پی ایچ اے بنے۔ اب پی ایچ اے کا دائرہ کار مزید بڑھایا جا رہا ہے۔جہاں جہاں بھی پی ایچ اے قائم ہوئے ہیں شہر کی خوبصورتی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔جو لوگ اپنے شہروں کی خوبصورتی کے لیے کوششیں کرتے ہیں، ان کی کوششوں کی تحسین کرنی چاہیے۔ بھوانہ جیسی تحصیل میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود دلاور خان نے ملک کا اعلی ترین امتحان پاس کیا۔دلاور خان جیسے ان گنت افسران اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنے خوابوں کی تعبیر پا چکے ہیں۔تعلیم ترقی کے آسمان کو چھونے کے لیے بہترین زینہ ہے۔ہمارے ہاں آج بھی انسان اپنی سب سے بڑی سفارش خود ہے ،محنت کرنے والے کسی انسان کا راستہ کبھی کوئی نہیں روک سکا،بختاور اور دلاور وہی ہے جسے اپنی محنت اور خالق کائنات کی رحمت پر مکمل بھروسہ ہو،نئی نسل سے گزارش ہے،اپنے وطن کو خوبصورت بنانے کے لیے اپنا کردار خوبصورتی سے ادا کریں، ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے،یہ وطن ہمارا ہے،ہم سب پاکستان ہیں ،اپنے وطن کے پاسبان ہیں، ہم دلاور بھی ہیں،بختاور بھی ,مقدر کے دھنی بھی،قسمت کے یا ور بھی۔

