بریگزٹ کو اب نو سال کے قریب ہو چکے ہیں، مگر اس کے اثرات آج بھی برطانوی معیشت میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت، جسے کبھی استحکام، قانونی بالادستی، مضبوط اداروں اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ترین جگہ سمجھا جاتا تھا، آج سست روی، غیر یقینی اور پالیسی انتشار کا سامنا کر رہی ہے۔ پاکستان میں بیٹھا قاری شاید حیران ہو کہ ایک سیاسی نعرہ کس طرح ایک اتنے مستحکم ملک کی معیشت کو جھنجھوڑ سکتا ہے، لیکن بریگزٹ اس کی ایک زندہ مثال ہے2016 کے ریفرنڈم میں عوام کو یقین دلایا گیا کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل کر زیادہ خوشحال اور زیادہ خود مختار ہو جائے گا۔ Take back control کا نعرہ اتنی قوت سے ابھارا گیا کہ عوامی جذبات نے معاشی حقیقتوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ مگر نو سال بعد جو تصویر سامنے ہے، وہ جذباتی سیاست کی نہیں بلکہ معاشی نقصان کی تصویر ہے۔معاشی تحقیق کے عالمی ادارے NBER کی تازہ رپورٹ کے مطابق بریگزٹ کے بعد برطانوی GDP تقریبا 6 سے 8 فیصد کم رہی ہے۔ یہ محض ایک نمبر نہیں یہ اتنا بڑا نقصان ہے کہ برطانیہ کو کئی سالوں تک غیر معمولی شرحِ ترقی درکار ہوگی تاکہ وہ پچھلے خسارے کو پورا کر سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری میں تقریبا 12 سے 18 فیصد کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ لندن جو کبھی یورپ کا اقتصادی دل تھا، اب صورتِ حال یہ ہے کہ درجنوں بڑی کمپنیاں اپنے ہیڈکوارٹر پیرس، ایمسٹرڈیم اور فرینکفرٹ منتقل کر چکی ہیں۔ برطانوی تجارت مجموعی طور پر 20 فیصد کم ہو گئی ہے۔ اس پورے معاملے کی جڑ بے یقینی ہے۔ کاروبار یہ جاننا چاہتے تھے کہ اب یورپی یونین کے ساتھ تجارت کیسے ہوگی؟ لیبر کہاں سے آئے گی؟ کسٹم کی نئی شرائط کیا ہوں گی؟ مگر وضاحت کے بجائے انہیں نئی رکاوٹیں، اضافی چیک، اور کاغذی کارروائیوں کا ایک ایسا سلسلہ ملا جس نے چھوٹے کاروباروں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔بریگزٹ کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے وہ ہیں جو یورپی کارکنوں پر چلتے تھے۔ ٹرک ڈرائیور، زرعی مزدور، تعمیرات کے ماہرین، نرسز، اور ریستورانوں میں کام کرنے والا عملہ ہزاروں افراد برطانیہ چھوڑ کر اپنے ملکوں واپس چلے گئے۔ اس خلا نے مزدور کی قیمت بڑھا دی اور پیداوار کم کر دی۔اسی طرح برطانوی طلبہ یورپی یونیورسٹیوں کی کم فیسوں اور اسکالرشپس سے محروم ہو گئے، جب کہ یورپی طلبہ نے بھی برطانیہ کا رخ کم کر دیا۔ یعنی تعلیم کا شعبہ بھی متاثر ہوا۔ معیشت سست ہوئی تو سیاست میں اینٹی امیگریشن مہم شدت اختیار کرنے لگی۔ تقریبا 18 فیصد تارکینِ وطن کے خلاف سخت بیانیہ مقبول ہونے لگا، جس نے ماحول مزید تلخ کر دیا۔ حکومت، جو پہلے ہی معاشی دبا میں تھی، اب سیاسی دبا کا بھی شکار ہے۔ بریگزٹ کے فیصلے نے برطانوی سیاست کو تقسیم کر دیا ہے، اور معاشی بحالی کئی گنا مشکل ہو چکی ہے۔ یورپی یونین کو بھی نقصان ہوا، مگر نسبتاً کم۔ برطانیہ جیسی بڑی معیشت کے نکلنے کے باوجود 27ممالک کی مشترکہ طاقت، مضبوط تجارتی روابط اور ادارہ جاتی ہم آہنگی نے یورپ کو بڑے بحران سے بچا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ میں کوئی سنجیدہ سیاسی جماعت یونین سے نکلنے کی بات نہیں کرتی۔ بریگزٹ اب قومی خود مختاری کا ماڈل نہیں رہا بلکہ ایک خبردار کرنے والی مثال سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اصل سبق ہمارے خطے جنوبی ایشیا کیلئے ہے۔ اگر برطانیہ جیسا مستحکم ملک صرف ایک سیاسی جذباتی فیصلے سے معاشی نقصان اٹھا سکتا ہے، تو پاکستان، بھارت، بنگلادیش یا افغانستان جیسے غیر مستحکم ممالک کا کیا بنے گا جہاں پہلے ہی سیاست بے یقینی اور ادارے کمزور ہیں؟ بریگزٹ نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ معیشت سرحدیں بند کرنے سے نہیں، بلکہ دروازے کھولنے سے ترقی کرتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی modern معیشت الگ تھلگ رہ کر مضبوط نہیں ہو سکتی۔ اس روشنی میں پاکستان اور بھارت کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں کے درمیان تجارت نہ ہونے کے برابر ہے، حالانکہ دونوں ملکوں کی مجموعی مارکیٹ ایک ارب سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت محض تجارت کھول دیں تو اربوں ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے، ٹرانسپورٹ لاگت کم ہو سکتی ہے، صنعتی شعبے مضبوط ہو سکتے ہیں اور خطے میں روزگار بڑھ سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے کم مربوط خطہ ہے۔ یہاں اندرونی تجارت صرف 5 فیصد ہے، جب کہ یورپ میں یہ 60فیصد سے زیادہ ہے۔ امریکہ اور چین جیسے سخت حریف بھی ایک دوسرے سے تجارت کرتے ہیں، کیونکہ جدید دنیا میں معیشت دشمنیوں سے نہیں چلتی۔ اگر یورپ، جس نے دو عالمی جنگیں لڑیں، باہمی تعاون سے دنیا کا کامیاب ترین اقتصادی بلاک بن سکتا ہے تو پاکستان اور بھارت کیوں نہیں؟بریگزٹ کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ جذبات اور قوم پرستی اچھی چیزیں ضرور ہیں، مگر جب یہی جذبات معاشی حقائق پر غالب آ جائیں تو نقصان یقینی ہوتا ہے۔ پالیسی سازی ہمیشہ ٹھنڈے دماغ، تحقیق اور علاقائی تعاون پر مبنی ہونی چاہیے۔ ورنہ قیمت عوام کو ادا کرنی پڑتی ہے جیسا کہ آج برطانوی عوام ادا کر رہے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے پاس موقع ہے کہ وہ اس تجربے سے سیکھیں اور اپنے خطے کو ترقی کی راہ پر ڈالیں۔ دشمنی میں نہیں، تجارت میں فائدہ ہے۔ بندشوں میں نہیں، روابط میں ترقی ہے۔ جنگ میں نہیں، تعاون میں مستقبل ہے۔ دنیا بدل چکی ہے سوال یہ ہے کہ کیا جنوبی ایشیا بدلنے کو تیار ہے؟

