ہفتے کے روز بلوچستان ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی سے لرز اٹھا۔بیرونی پشت پناہی کی شہ پرہونے والے ان بہیمانہ حملوں میں بلوچستان کے 9شہروں کو نشانہ بنایا گیا ،صد شکر کہ سیکورٹی فورسز کی بر وقت جوابی کارروائیوں سے دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد واصل جہنم ہو گئی۔دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں 3 خودکش حملہ آوروں سمیت 92دہشت گرد ہلاک جبکہ 15سیکیورٹی اہلکار اور 18شہری شہید ہوگئے ۔ دو روز میں ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133ہوگئی، گوادر میں دہشت گردوں کے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 10 مزدور شہید ہوگئے، مسلح افراد نے مستونگ میں الصبح 6 بجے شہر پر دھاوا بول دیا تھا ۔ دہشت گردوں نے بازار، سنیٹرل جیل، ایک تھانے، سابقہ لیویز ہیڈ کوارٹرز، کیسکو آفس پر بھی حملے کرکے 3 گاڑیاں نذر آتش کیں، 30قیدی چھڑا لیے اور 2 نجی بینک نذر آتش کر دیے،نوشکی میں مسلح افراد نے ڈی سی کو اغوا کرلیا ہے، حسب سابق کالعدم دہشت گرد گروپ بلوچ لبریشن آرمی بی ایل اے نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت اس کی مذمت کی ہے۔وزیراعظم نے کامیاب آپریشن پر فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا بلوچستان میں حملوں کے پیچھے بھارت ہے، دہشت گردوں اور ان کے ماسٹرز کو نہیں چھوڑیں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر صوبہ بلوچستان میں یہ بزدلانہ کارروائیاں کیں۔ ان حملوں کا مقصد مقامی آبادی کی زندگیوں کو مفلوج کرنا اور بلوچستان کی ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلیئرنس آپریشن مکمل کیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ قومی ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن عزمِ استحکام کے تحت غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حالیہ منظم حملے پہلا موقع نہیں جب صوبے کے مختلف شہروں میں بیک وقت مسلح افراد داخل ہوئے، پولیس کو نشانہ بنایا گیا، سرکاری اور سکیورٹی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہو اور خود کش حملے بھی کیے گئے ہوں۔تاہم حالیہ حملوں میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے اندر بھی ہوئی ہیں۔ کوئٹہ کو نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا ہے اور شہر کو محفوظ بنانے کیلئے اس کے اردگرد سکیورٹی چیک پوسٹس وغیرہ کی مدد سے حصار قائم کیا گیا ہے۔ شہر کے اندر بھی مختلف مقامات پر چیک پوسٹس موجود ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردوںکے تازہ اور مربوط حملوں نے صوبے میں ایک بار پھر امن و امان کی مخدوش صورتحال اور اس سے نمٹنے کیلئے داخلی سلامتی کو درپیش چیلنجز عیاں کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلاشبہ پاکستان کے سیکورٹی ادارے جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کی سلامتی دن رات کوشاں ہیں لیکن بیرونی ملک دشمن طاقتوں نے اپنے تمام وسائل پاکستان کو بدامنی کا شکار کرنے کے لئے جھونک رکھے ہیں۔تاہم یہ نکتہ بھی سر اٹھا رہا ہے کہ بلو چستان کی سلامتی کیلئے اب تک اپنائی گئی غیر موثر حکمت عملی نے حالات کو سنبھالنے کے بجائے مزید بگاڑ دیا ہے، جس سے صوبہ ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔حالیہ کچھ عرصہ میں بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث صوبے میں مزید کشیدگی پھیل رہی ہے ۔ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں تشدد اب معمول بنتا جارہا ہے۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 کے مطابق ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2024کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 366افراد زخمی ہوئے جو ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر تنازعات سے جڑے پرتشدد واقعات جن میں دہشت گرد حملے، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سرحدی جھڑپیں اور اغوا شامل ہیں، ان حملوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی توجہ ریاست کو تھکانیاور عوام میں خوف ہراس پھیلانا ہے۔ کچھ برسوں کے سکون کے بعد خودکش حملوں کی واپسی اس جائزے کو تقویت دیتی ہے۔ دہشت گردی جغرافیائی طور پر بھی مخصوص علاقوں میں مرکوز ہے۔ تمام دہشت گردانہ حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہورہے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی کو حملہ کرو اور بھاگ جاؤتک محدود نہیں رکھا، بلکہ اب اس میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، اغوا اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری بھی شامل ہو چکی ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ملک کی مغربی پٹی سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے بڑی فالٹ لائن بنی ہوئی ہے۔ریاست کی طرف سے بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔گزشتہ دو دن کے اندر بلوچستان میں ڈیرح سو کے قریب دہشت گردوں کا مارا جانا اسکی دلیل ہے۔قوم ملک کے تمام سیکورٹی اداروں کیساتھ ہے،دشمن کسی مغالطے میں نہ رہے۔
سندھ طاس معاہدہ ، سلامتی کونسل میں آریا فارمولہ اجلاس
پاکستان کی میزبانی میں معاہدات کی حرمت کے تحفظ کے موضوع پر آریا فارمولہ اجلاس 30 جنوری کو منعقد ہوا، بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے حوالے سے اجلاس میں بھارت کے سوا تمام خطوں سے چالیس رکن ممالک شریک ہوئے۔ مقررین نے اس بنیادی اصول پر زور دیا کہ معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے کیونکہ یہی عالمی استحکام اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی بنیاد ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر بھارت کی جانب سے 1960کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اقدام کی طرف توجہ دلائی۔آریا فارمولہ اجلاس غیر رسمی ہوتے ہیں، جن کا مقصد سلامتی کونسل کے ارکان کو کھل کر اور آزادانہ طور پر خیالات کے تبادلے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں سفیر، عاصم افتخار احمد نے اجلاس کی صدارت کی جس میں 40 سے زائد ممالک کے وفود اور ماہرین نے شرکت کی۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ معاہدے صرف رسمی دستاویزات نہیں ہوتے بلکہ یہ پرامن بین الاقوامی تعلقات کا نظام ہوتے ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب لاکھوں لوگوں کی زندگیوں سے جڑے وسائل کو کسی ایک فریق کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے تو اس کے خطرات فرضی نہیں بلکہ حقیقی اور فوری ہوتے ہیں، خاص طور پر پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کے اثرات نچلے علاقوں میں رہنے والے لوگوں پر پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی عدالتِ انصاف بھی یہ واضح کر چکی ہے کہ نیک نیتی قانونی ذمہ داریوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کا بنیادی اصول ہے۔ تنازعات کویکطرفہ اقدامات سے نہیں بلکہ طے شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔سفیر نے کہا کہ آج کل معاہدوں کو من مانی تشریحات، تاخیر، معطلی یا یکطرفہ فیصلوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے25 کروڑ افراد جو نچلے علاقوں میں رہتے ہیں، ان کے لئے پانی زندگی کی حیثیت رکھتا ہے، اور کسی بھی قسم کی یکطرفہ رکاوٹ کے انسانی،ماحولیاتی اور امن و سلامتی پر سنگین اثرات ہو سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگست 2025 میں عدالتِ ثالثی نے اہم فیصلے دیے، جن میں واضح کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے، کوئی بھی فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
اداریہ
بلوچستان میں دہشتگردوں کی بڑی کارروائی ناکام
- by web desk
- فروری 2, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 82 Views
- 1 ہفتہ ago

