کالم

”بورڈ آف پیس”: امن کی تعبیر یا طاقت کا کھیل؟

عالمی سیاست میں میں مسئلہ فلسطین المناک بھی ہے اور دردناک بھی اور جب بھی مستقبل کا مئورخ اس مسئلہ پہ لکھے گا تو اس کا قلم ہمیشہ خون آلود ہوگا، فلسطین کا امن ہمیشہ ایک پرکشش مگر پیچیدہ تصور رہا ہے۔ ہر چند سال بعد کوئی طاقت ایک نیا منصوبہ، فورم یا دستاویز پیش کرتی ہے جسے امن کی امید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ کے ”بورڈ آف پیس” پر باضابطہ دستخط کے بعد یہ سوال دوبارہ اٹھا ہے کہ آیا یہ فورم واقعی مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کو منطقی انجام تک پہنچا سکے گا یا یہ بھی عالمی سیاست کے انہی تجربات میں شامل ہو جائے گا جو وعدوں اور محدود نتائج کے درمیان کہیں کھو جاتے ہیں۔معاہدے کی دستیاب تفصیلات کے مطابق بورڈ کا بنیادی ہدف جنگ بندی کے بعد انتظامات، انسانی امداد کی نگرانی اور غزہ کی تعمیرِ نو ہے۔ بظاہر یہ ایک فوری عملی ردِعمل کی شکل میں نظر آتا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ روایتی عالمی ادارے کئی مواقع پر سست اور غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ مگر اس فورم کا ڈھانچہ واضح کرتا ہے کہ فیصلہ سازی چند طاقتور ممالک کے ہاتھ میں مرکوز رہے گی جو کثیرالجہتی امن کے روایتی اصولوں کے منافی ہے۔مالی پہلو بھی واضح ہے: رکنیت کیلئے بھاری شراکت، حتیٰ کہ ایک ارب ڈالر تک کی شرط زیرِ غور ہے۔ اگر واقعی امن کی میز پر بیٹھنے کی قیمت اتنی بلند رکھی گئی، تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔ اصولی موقف اور مالی حقیقتیں ایک دوسرے کے متضاد ہو سکتے ہیں، اور یہی تضاد بورڈ کی کامیابی یا ناکامی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کی شمولیت اصولی طور پر اس کے دیرینہ فلسطینی مؤقف سے ہم آہنگ ہے، مگر اگر مالی بوجھ زیادہ ہو تو یہ اصولی موقف حقیقی اثر سے محروم رہ سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کا کردار بھی ایک خاص تضاد پیدا کرتا ہے۔ ان کا سیاسی مزاج، میڈیا پر گرفت اور بڑے بیانیے گھڑنے کی صلاحیت بورڈ کی تشہیر میں نمایاں ہے۔ بظاہر وہ خود کو عالمی امن کا فعال کھلاڑی دکھا رہے ہیں، لیکن یہ امکان بھی کم نہیں کہ امن کی اصل کارروائی میڈیا شو اور بین الاقوامی دکھاوے کے سائے میں دب جائے۔ اس تجزیے کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا بورڈ صرف دکھاوا ہے یا حقیقی سفارتی اور انسانی اثرات کے لیے ایک فعال فورم ہے۔فلسطینی عوام اس فورم کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔ نہ تو وہ باضابطہ رکن ہیں اور نہ ہی فیصلہ سازی میں براہِ راست شامل ہیں۔ اس سے خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاستی مستقبل کے فیصلے صرف عبوری انتظامات اور امدادی سرگرمیوں کے سائے میں دب جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ امن نہیں بلکہ ایک نیا سیاسی تعطل ہوگا۔اسرائیل کی شمولیت ایک اور تضاد ہے۔ بورڈ کے ذریعے اسرائیل کو عالمی سطح پر قانونی اور سیاسی تحفظ مل سکتا ہے، خاص طور پر سکیورٹی انتظامات اور آبادکاری کے معاملات میں۔ مگر یہی عمل اگر مسلم دنیا کے ممالک اور پاکستان کے ذریعے فلسطینی حقوق پر دباؤ بڑھانے کیلئے استعمال ہوا، تو اسرائیل پر سیاسی چیلنج بھی بڑھ سکتا ہے۔ بورڈ کا اثر اسرائیل کے طویل مدتی مفادات اور خطے میں طاقت کے توازن پر بھی پڑ سکتا ہے۔مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم حماس اور حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کے امکانات پر غور کریں۔ اگر فلسطینی یا لبنانی گروہ غیر مسلح کیے گئے، اور اسرائیل اپنی عسکری برتری برقرار رکھے، تو یہ ”امن” نہیں بلکہ طاقت کا رسمی توازن ہوگا۔ یہ نقطہ تجزیہ کی سب سے حساس حقیقت ہے: امن کی کارروائی کے دوران طاقتور فریق کو محدود کرنے کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیںاور یہ منظر بھی دیکھنے والا ہوگا کہ پاکستان اور اسرائیل ممکنہ طور پر ایک ہی میز پر امن کی بات کر رہے ہوں گے، جبکہ پاکستان آج بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کے لیے پابندی کا لیبل موجود ہے۔ یہ منظر عالمی سیاست کی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اصول اور عملی سیاست اکثر ایک دوسرے کیساتھ چلتے ہیں، مگر ہم آہنگ نہیں ہوتے اور پاکستان کے وہ عناصر جو ان کے بقول یہودی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بنے مصنوعات کے بائکاٹ کا ہمیشہ درس دیتے تھے اور اس ہی سے ان کی روزی روٹی اور نوالہ وغیرہ وابسطہ ہوتا تھا دیکھتے ہیں وہ اب کیسے پینترے بدلتے ہیں اور کیسے کیسے وہ یہودیوں اور اہل کتاب کے فضائل بیان کریں گے؟۔بورڈ کی مالی ذمہ داری، رکن ممالک کی طاقت، اور فلسطینی عوام کی غیر موجودگی ایسے عناصر ہیں جو بورڈ کے حقیقی اثرات کو پرکھنے کی کلید ہیں۔ اگر مالی اور سیاسی طاقت بورڈ کی کارروائی کو کنٹرول کرے، تو کیا یہ امن کی میز ہوگی یا صرف ایک عالمی منظرنامہ جہاں دکھاوا اور میڈیا اثرات فیصلہ کرتے ہیں؟ پاکستان، اسرائیل اور دیگر ممالک کی شرکت سے کیا حقیقی انسانی اور سیاسی اثرات مرتب ہوں گے؟ فلسطینی عوام کی غیر موجودگی میں کیا امن واقعی ممکن ہے یا یہ صرف ایک ظاہری عمل ہے؟ اور آنے والا وقت بتائیگا کہ کیا بورڈ آف پیس امن کی نئی تعبیر پیش کر سکے گا یا یہ بھی طاقت اور میڈیا کے کھیل میں ایک اور تجربہ ثابت ہوگا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے