کالم

بھارت کا سندور جھڑپ میں شکست کا اعتراف

بھارتی آرمی چیف جنرل اْپندر دویدی نے اعتراف کیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے پاس تمام سیٹلائٹ معلومات تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز، کون سا طیارہ اور یونٹ کہاں ہے؟بھارتی آرمی چیف پریس کانفرنس کے دوران اعتراف کر بیٹھے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے پاس تمام سیٹلائٹ معلومات تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز، کون سا طیارہ اور یونٹ کہاں ہے؟ پاکستان کو سیٹلائٹس کے ذریعے مکمل معلومات حاصل تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز،کون سی مرکزی یونٹ یا کون سا طیارہ کہاں حرکت کر رہا ہے۔ جنرل اْپندر دویدی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ جموں و کشمیر میں صورتحال نازک ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔ پاکستان اور چین نے راکٹ فورس کھڑی کی ہے اور اس طرح کی راکٹ فورس کھڑی کرنا بھارت کی بھی ضرورت ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں گذشتہ سال اپریل میں سیاحوں پر ہونیوالے حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔بھارت نے ان حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ پاکستان کی جانب سے اس کی سختی سے تردید کی جاتی رہی ہے۔اسی تناظر میں مئی کے اوائل میں انڈیا اور پاکستان کے بیچ فضائی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ انڈیا نے پاکستان کیخلاف اپنے حملوں کو ‘آپریشن سندور’ کا نام دیا تھا جبکہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی کو آپریشن ‘بنیان مرصوص’ کا نام دیا تھا۔اپنی پریس کانفرنس میں انڈین آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن سندور بدستور جاری ہے اور آئندہ کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔ آپریشن سندور واضح سیاسی ہدایات اور مکمل آزادی کے تحت عمل یا ردعمل کی اجازت کے ساتھ تینوں افواج کے بہترین اشتراک کی مثال ہے۔ میں اس آپریشن کے لیے قومی سطح پر تمام شراکت داروں کے فعال کردار کا اعتراف کرتا ہوں۔’ہماری معلومات کے مطابق مغربی جانب کے کیمپوں میں آٹھ کیمپ ابھی بھی وہاں فعال ہیں، ایسا لگتا ہے کہ تقریباً 100 سے 150 لوگ ابھی بھی وہاں موجود ہیں۔’ پاکستان ان لوگوں کی حمایت کر رہا ہے جو بنیاد پرستی کو فروغ دیتے ہیں اور لوگوں کو یہاں آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر ہم مکمل طور پر الرٹ ہیں کیونکہ آپریشن سندور اب بھی جاری ہے۔ بھارت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپندرہ دِویدی کی 13 جنوری 2026 کی سالانہ پریس کانفرنس میں جھوٹے بیانیے دہرائے گئے تاکہ اپنی جارحیت کو جائز ثابت کیا جا سکے اور کنٹرول لائن پر زبردستی”نیامعمول ” نافذ کرنے کی کوشش کی جا سکے۔جنرل دویدی کے دعوے بے بنیاد اورجھوٹ پر مبنی ہیں تاکہ مئی 2025 کے تصادم میں بھارت کی ناکامیوں کو چھپایا جاسکے ۔ آپریشن سندور میں22 منٹ کی کارروائی کی کوئی حقیقت نہیں۔ پاکستان کے فیصلوں کو متاثر کرنے یا 100 پاکستانیوں کو ہلاک کرنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ بھارت کا پروپیگنڈا ہے تاکہ خود کو پھرتیلا اور بالادست ظاہر کیا جائے حالانکہ پاکستان کی فوج نے بھارت کو بھاری نقصان پہنچانے کے بعد جنگ بندی پر مجبور کردیا۔ بھارتی آرمی چیف کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس مئی میں پاکستان کے ساتھ فوجی کشیدگی کے دوران انڈیا نے پاکستان میں ‘دہشتگردی کے اہداف پر 22 منٹ تک حملے کیے جس سے پاکستان میں افراتفری پھیل گئی تھی۔’ مئی 2025 کے دوران پاکستان کیخلاف شروع کیا گیا ‘آپریشن سندور اب بھی جاری ہے۔’ جنرل اوپیندر دویدی نے دعویٰ کیا کہ ‘اس طرف اتنی افراتفری مچی ہوئی تھی کہ انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کارروائی ہو رہی ہے ۔’تاہم انڈین آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ ‘ہم لڑائی کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے تھے کیونکہ ہم نے اپنا سیاسی و فوجی مقصد حاصل کر لیا تھا۔’کنٹرول لائن پردہشت گرد کیمپوں کے الزامات جھوٹے ہیں۔ان علاقوں میں عام شہری رہتے ہیں اور بھارت مستقبل میں دراندازی کے بہانے تلاش کررہا ہے۔ پاکستان کے پاس ایسا کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے،یہ بھارت کاپیشگی حملے کا جواز پیداکرنے اور کشمیری عوام کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔بھارتی آرمی چیف کا پاکستان اور چین کے ماڈل پر مبنی راکٹ فورس کا منصوبہ بھارت کا جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے ان کے عزائم کو ظاہر کرتا ہے ۔بھارت نے مئی کے تصادم کے دوران جھوٹی خبریں پھیلائیں۔ امریکا چین اقتصادی اور سلامتی کمیٹی کی 2025 کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بھارت کے خلاف چار روزہ جھڑپ میں واضح طورپرپاکستان نے کامیابی حاصل کی۔ امریکی اعتراف پاکستان کی کامیابیوں کی تصدیق کرتا ہے جس میں جدید میزائل PLـ15 سے بھارتی طیاروں کو مار گرایا گیا ۔ بین الاقوامی رپورٹس پاکستان کے متوازن رویے کی تعریف کرتی ہیں اور بھارت کے اقدامات کو جوہری خطرے اور علاقائی عدم استحکام کا سبب قرار دیتی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی ثالثی اور دباؤ نے جوہری جنگ کو روکا، لاکھوں جانیں بچائیں اور پاکستان کی سول و فوجی قیادت کی تعریف کی، جبکہ بھارت نے تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے