بچوں کا خیال رکھا کریں ان کا خیال رکھنا ہم سب پہ فرض ہے۔آج کے بچے کل کا مسقبل ہیں۔اگر ملک کو سنوارنا ہے تو بچوں پر توجہ دیں، ہم سب بھی کبھی بچے ہوا کرتے تھے۔ سقراط کہتا ہے کہ میں جب چھوٹا تھا تو صبح بہت دیر سے اٹھتا تھا، والدہ کو میری اس روش سے سخت پریشان تھی، کیوں کہ وہ مجھے بہت بڑا تاجر دیکھنا چاہتی تھی۔ ایک دن مجھے ایک استاد صاحب کے پاس لے گئی تاکہ وہ مجھے سویرے اٹھنے کی فوائد بتائیں۔ اس استاذ نے ایک کہانی کے ذریعے مجھے موٹیویٹ کرنے کی کوشش کی۔ کہا:”دو پرندے تھے، ایک سویرے اٹھ کر کیڑے مکوڑے تلاش کر کے پیٹ بھرلیتا تھا اور دوسرا دیر سے اٹھتا، جس کیلیے کوئی کیڑا مکوڑا زمین پر رینگتا ہوا نہ ملتا کہ وہ اسےکھا سکتا۔”یہ کہانی سنا کر استاذ نے سقراط سے فیڈ بیک لیتے ہوئے پوچھا: ”اس کہانی سے آپ نے کیا سمجھا؟”سقراط نے کہا :”جو کیڑے جلدی اٹھتے ہیں، وہ جلدی کھائے جاتے ہیں۔” یہ سن کر استاد اور ماں حیران رہ گئے۔ استاد نے کہا یہ بچہ مچور ہو چکا ہے۔ اسے اپنی مرض کرنے دی جائے۔ لہزا اگر اپ کے بچے دوسروں سے ہٹ کر ہیں تو ان پر نظر رکھیں توجہ دیں لیکن پریشان نہ ہوا کریں۔ بچے بھی مشکلات سے دوچار رہتے ہیں انہیں سنا کریں!ان کے مسائل سنا کرین اور ہنگامی بنیادوں پر حل کیا کریں۔ تمام بچوں کا خیال رکھناہم پہ فرض ہے۔ مگر ہم اس فرض کو نبھاتے نہیں، جس کی وجہ سے بعض بچے بچپن سے ہی مشکل حالات سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔غربت کا ماں باپ کی علیحدگی کا نقصان سب سے زیادہ بچوں کو ہوتا ہے۔اسی غربت اور والدین کی جدائی کی وجہ سے بچہ بری عادات اپنا لیتا ہے۔کوئی چوری پہ لگ جاتا ہے کوئی بھیگ مانگتا شروع کر دیتا ہے کوئی گندگی کے ڈھیروں سے جانوروں کے ساتھ کھانا کھاتا ہے ۔ایسے میں یہ بچے بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ بعض بچے مان باپ کی علیحدگی کی وجہ سے در بدر ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی بعض بچے ایک خاص گروہ کی وجہ سے والدین کی گود سے چوری کر لیے جاتے ہیں۔ پھر اپنی مرضی سے ضرورت مندوں کے ہاتھوں ایسے بچوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ جب یہی بچی بچیاں تھوڑے بڑے ہوتے ہیں تو حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری چکاری کرنے لگ پڑتے ہیں۔ برے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ پھر جوان ہو جر وہی کام کرتا ہے جو وہ بچپن میں کیا کرتا تھا۔پھر برے کاموں کے کرنے پر جیل چلے جاتے ہیں۔ جہاں ان کا کوئی پروسان حال نہیں ہوتا پھر جیلوں کا ماحول انہیں انسان بنائے جانے کے بجائے ان بچوں کو کرائم کا بادشاہ بنا دیتے ہیں۔ دنیا ساری میں ایسے بچوں کی بہتری کیلئے این جی اوز اور حکومتی ادارے کام کر رہے ہیں۔بچوں کے حقوق کے تحفط کیلئے میرا محترم دوست ضیا احمد اعوان ایدوکیٹ سپریم کورٹ رات دن کام کرتے دکھائی دیتا ہے۔ اکثر ہم اسے میڈیا اور عدالتوں میں سنتے رہتے ہیں۔ ضیا اعوان بچوں کے حقوق کے لیے زندگی کے مختلف لوکل اور انٹرنیشنل فورم پر جنگ کرتے چیخو پکار کرتے دیکھتے سنتے رہتے ہیں۔28 نومبر کو بچوں کے کیس کیلئے اسلام آباد سپریم کورٹ کی پیشی پر آئے تھے۔ مصروفیات کے باوجود کچھ وقت ہمیں گپ شپ کے لیے دیا۔ اس ملاقات میں اپنے اس کیس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ جو اپ کی خدمت میں پیش ہے۔اسلام آباد، 28نومبر 2024سپریم کورٹ کے چھ رکنی آئینی بینچ نے بچوں کی ٹریفکنگ، اغوا اور گمشدگی جیسے سنگین مسائل پر اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہونےوالی اس سماعت میں ایڈووکیٹ ضیا احمد اعوان، آئی جی سندھ، ایڈیشنل ہوم سیکرٹری سندھ، سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے، اٹارنی جنرل پاکستان اوردیگر فریقین بھی اس کیس میں موجود تھے۔سپریم کورٹ میں سماعت کا آغاز کوئٹہ، بلوچستان میں بچے کے اغوا کے کیس سے ہوا، جس کے باعث شہر میں احتجاج اور شٹر ڈان جاری تھا۔ اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ وہ اور آئی جی بلوچستان اس معاملے پر ججز کو چیمبرز میں رپورٹ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے اس درخواست کو قبول کیا اور رپورٹ پیش ہونے کے بعد بتایا گیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے اس معاملے پر نوٹس لیا ہے۔ لہذا سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت رپورٹ آنے تک ملتوی کر دی۔ اس کے بعد عدالت نے ایڈووکیٹ ضیا احمد اعوان کی جانب سے بچوں کے اغوا اور ٹریفکنگ کے بڑے مسئلے پر جزوی سماعت بھی کی ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد میں سیاسی بدامنی اور امن و امان کی صورتحال کے باعث عدالت کی ہدایت کے مطابق اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید وقت دینے کی درخواست کی تاکہ بچوں کے اغوا اور ٹریفکنگ کے مسئلے کے حل کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ عدالت نے ان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے دو ہفتوں کے لیے سماعت ملتوی کر دی اور تمام متعلقہ فریقین کو اجلاس منعقد کر کے جامع سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔گزشتہ سماعت میں عدالت نے پاکستان کے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی تھی کہ وہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آئی جی پولیس، ہوم سیکرٹریز اور درخواست گزار ایڈووکیٹ ضیا احمد اعوان کے ساتھ ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کریں اور 28 نومبر کو ہونے والی اگلی سماعت سے قبل ٹھوس سفارشات پیش کریں۔ ایڈووکیٹ ضیا احمد اعوان نے کہا، "یہ مہلت ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم بچوں کے تحفظ کے لیے ایک قومی ایکشن پلان تیار کریں۔ ہمیں اس چیلنج کو مستقل حل میں تبدیل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کرنے ہوں گے۔”یہ سماعت بچوں کے تحفظ کے عالمی مطالبات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جس میں بچوں کے حقوق اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔ مددگار نیشنل ہیلپ لائن 1098، جو چائلڈ ہیلپ لائن انٹرنیشنل کی بانی رکن اور یونیسف کی دہائیوں پر محیط شراکت دار ہے، نظامی اصلاحات کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ ہم تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس اہم مسئلے کے حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں۔ اب دیکھتے ہیں عدالت کیا حکم صادر کرتی ہے۔ ہمارے یہاں بچوں کے لیے الگ سے چلڈرن کورٹ بنائی جائیں۔ جن گھروں دوکانوں میں بچے کام کرتے ہیں یہی لوگ بعد میں ان پر چوری کے مقدمات بناتے ہیں۔ جب کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چائے گزارش ہے کہ بچوں کو عدالتی نظام سے مت گزاریں۔ ایسے بچوں کے فیصلے سالوں میں نہیں ہفتوں میں ہونے چائے۔ بچے کو ججز سنا کریں۔ انہیں بولنے دیا کریں۔ انصاف جتنا جلد ہو بچوں کو دیا جائے۔ بچوں کی سمگلنگ کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں۔ حکومت کی زمہ داری ہے کہ سکول کے وقت کوئی بچا گھومتے پھرتے نظر نہیں آئے۔ حکومت بچوں کو نہ صرف مفت تعلیم دے اور مفت کھانا بھی دے۔ بلکہ انہی مفت علاج کی سہولتیں بھی فراہم کرے۔ جن بچوں کے پاس رہنے کو جگہ نہیں والدین کا سایہ نہیں انہی حکومت چھت بھی دے۔ ایسا کرنا یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ہم اس ملک کو فلاحی اسٹیٹ بنائیں گے۔ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ انہیں پیار دیں، یہ پھول ہیں۔انہیں پڑھائیں ، کام سکھائیں، ہنر مند بنائیں۔ اس کام میں ہم سب کو ساتھ دینا ہو گا۔ انہیں تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی دینا ضروری ہے۔ ۔!!

