کالم

بھارت میں متنازع ترمیمی بل منظوری پر احتجاجی مظاہرے

بھارت میں متنازع وقف ترمیمی بل کی لوک سبھا کے بعد راجیا سبھا سے منظوری پر بھارت بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے، اپوزیشن جماعتوں نے متنازع بل کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کر دیا۔ کانگریس اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے متنازع بل کی آئینی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، متنازع بل کے خلاف احمد آباد، کولکتا اور چنئی سمیت بھارت بھر میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔مظاہرین نے مقدس اثاثوں پر سیاست نامنظور کے بینر اٹھائے ہوئے تھے، مظاہرین نے حکومت سے متنازع بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ لوک سبھا میں بل کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے جبکہ بل کو حتمی منظوری کے لیے صدر کو بھیجا جائے گا۔مودی حکومت نے مسلمانوں کی وقف کردہ زمین کے انتظام میں زبردست تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا ہے جس سے حکومت اور مسلمانوں کے درمیان ممکنہ طور پر کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔زمین اور جائیدادیں وقف کے زمرے میں آتی ہیں جو مذہبی، تعلیمی یا خیراتی مقاصد کے لیے کسی مسلمان کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں اور ایسی اراضی کو منتقل یا فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اور مسلم تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً 8 لاکھ 51 ہزار 5 سو 35 جائیدادیں اور 9 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جس سے وہ بھارت کے سرِ فہرست تین بڑے زمینداروں میں شامل ہوتا ہے۔وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے پیش کردہ وقف (ترمیمی) بل میں مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس سے حکومت کو متنازع وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار مل جائے گا۔یہ قانون مسلم برادری اور مودی حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور بھارت نے تقسیم سے جنم لینے والے مسائل اقلیتوں کے حقوق یا متروکہ جائیدادوں کے متعلق نہرو لیاقت معاہدے میں طے کیا تھا کہ دونوں ممالک اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔ اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی تمام رکن ممالک کو اقلیتوں کے تحفظ کا پابند کیا گیا ہے۔ بی جے پی کی ہندو راشٹریہ کی پالیسی کی وجہ سے بھارت اقلیتوں کے لئے جہنم بنتا جا رہا ہے۔ سرکاری سرپرستی میں اقلیتوں کو ہراساں اور ان کی عبادت گاہوں کو نذر آتش کرنا معمول بن چکا ہے۔ ہندو انتہا پسند صرف مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو ہی شہید نہیں کر رہے بلکہ دیگر اقلیتیں بھی ہندو راشٹریہ کی پالیسی سے محفوظ نہیں جس کا ثبوت ہندو انتہا پسندوں کا چرچوں کو نذر آتش کرنا ہے۔ اب بی جے پی نے سرکاری سطح پر ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے پارلیمنٹ سے وقف املاک کا ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس کے بعد مذہبی مقامات کے ساتھ وقف املاک اور مسلمانوں کے تاریخی مقامات پر قبضہ کی سازش ہے۔ بہتر ہو گا اقوام متحدہ بھارت سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کرے تاکہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو امان مل سکے۔ راجیا سبھا میں کانگریس رکن کپل سبل نے کہا کہ وقف بورڈ کی زمین فروخت نہیں کی جاسکتی، حکومت مداخلت نہ کرے، بہار کے ضلع مظفر پور سے جنتا دل یونائیٹڈ کے سینئر رہنما ایم راجو نیر اور محمد تبریز صدیقی نے پارٹی سے استعفیٰ دے
دیا۔وزیراعلیٰ تامل ناڈو ایم کے اسٹالن نے کہا کہ ڈی ایم کے وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ میں جائےگی، ترمیمی بل وقف بورڈ کی خود مختاری کے خلاف ہے، اس سے اقلیتی مسلم آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔ متنازع وقف ترمیمی بل کیخلاف کانگریس کے بعد اب سخت گیر ہندو تنظیم شیوسینا بھی بول پڑی ہے۔ ایوان بالا میں مہاراشٹرا سے شیوسینا کے رکن سنجے راوت نے کہا مودی حکومت مسلمانوں کے بارے میں اتنی فکرمند ہو رہی ہے جتنا شاید محمد علی جناحؒ بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔مسلمانوں کو دہشتگرد اور غدار کہنے والی بی جے پی کا مسلمانوں کی وقف جائیدادیں بیچ کرمسلمان لڑکیوں کی شادی کروانیکا اعلان دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔مسلم پرسنل لا بورڈ اور تمام مسلم تنظیموں نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کو وقف املاک سے کھلواڑ کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہ لے اور ملک کوجمہوریت کے بجائے تانا شاہی کی طرف نہ لے کرجائے۔مسلم رہنماﺅں نے مودی حکومت پر زوردیا کہ وہ اس ترمیمی بل کو فورا واپس لے بصورت دیگر مسلمان ملک گیراحتجاج کرنے پر مجبور ہو ں گے۔یہ قانون 1991 میں کانگریس حکومت کے دور میں پی وی نرسمہا راو¿ نے پیش کیا تھا۔ اس قانون کے مطابق، 15 اگست 1947 سے پہلے موجود عبادت گاہوں کی نوعیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں ایک سے تین سال تک قید یا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس وقت ایودھیا کیس عدالت میں زیر سماعت تھا، اس لیے اسے اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے سروے کی اجازت دے کر عبادت گاہوں کے تنازعات کو بڑھا دیا ہے۔ دشینت دوے نے کہا کہ اس سے ملک میں مذہبی تنازعات بڑھیں گے اور عدالت کو اس پر روک لگانی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے