کالم

تنازع کشمیر، عالمی قوانین کی روشنی میں

مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کے فورا بعد جنم لینے والا وہ تنازع ہے جو سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی جنوبی ایشیا سمیت عالمی سیاست کے ضمیر پر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔یہ مسئلہ دو ریاستوں کے درمیان سرحدی اختلاف نہیں بلکہ عوامی، قانونی اور اخلاقی مسئلہ ہے جس کا مرکز و محور کشمیری عوام کا وہ حق ہے جسے عالمی قوانین نے تسلیم تو کیا مگر عملاً نافذ نہ کیا جا سکا۔ عالمی قانون کی روح، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی اصول اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی خطے کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق حاصل ہے اور یہی اصول مسئلہ کشمیر کی بنیاد بھی ہے۔اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں حقِ خود ارادیت کو بین الاقوامی نظام کی اساس قرار دیا گیا ہے۔اسی اصول کے تحت دنیا کے درجنوں خطوں میں عوام کو آزادی یا الحاق کا حق دیا گیا مگر کشمیر اس عالمی معیار سے محروم رہا۔ 1948اور 1949میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے واضح قراردادوں کے ذریعے اسے متنازع علاقہ تسلیم کیا اور کہا کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے ۔یہ قراردادیں کسی وقتی سیاسی ضرورت کے تحت نہیں عالمی قانون کے مسلمہ اصولوں کے مطابق منظور کی گئیں اور آج بھی قانونی طور پر موثر ہیں۔ عالمی قانون میں ایسی مثال نہیں کہ کسی متنازع علاقے کی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کر کے عوام کے حقِ رائے دہی کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے۔ عالمی قوانین طاقت کے استعمال، فوجی قبضے اور آبادی کے تناسب میں زبردستی تبدیلی کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں مقامی آبادی کے بنیادی حقوق کا تحفظ قابض قوت کی ذمہ داری ہوتی ہے، مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں طویل فوجی موجودگی، مسلسل لاک ڈائون، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اس قانونی فریم ورک کے برعکس ہیں ۔ 5اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ اور اس کی جغرافیائی و انتظامی تقسیم عالمی قانون کے اس بنیادی اصول سے متصادم ہے کہ کسی متنازع خطے کے مستقبل سے متعلق فیصلے یکطرفہ طور پر نہیں کیے جا سکتے۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور عالمی نظامِ قانون کی ساکھ کیلئے بھی ایک چیلنج ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف سیاسی بیانیہ نہیں عالمی قانون کے تسلیم شدہ اصولوں پر مبنی ہے۔ پاکستان آغاز ہی سے اس بات پر قائم ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ایک بین الاقوامی تنازع ہے جسے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں حل ہونا چاہیے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو مسئلے کی روح سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر استصوابِ رائے کے انعقاد کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ موقف کسی توسیع پسندانہ عزائم کا نتیجہ نہیں بلکہ اس عہد کی تکمیل ہے جو عالمی برادری نے خود کشمیری عوام سے کیا تھا۔ پاکستان نے ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ قانونی اور انسانی مسئلہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ چاہے وہ جنرل اسمبلی ہو، سلامتی کونسل، او آئی سی یا انسانی حقوق کے عالمی ادارے، پاکستان نے مستقل طور پر اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی عالمی ضمیر کیلئے قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مسئلے کا حل نہ جنگ میں ہے اور نہ ہی طاقت کے استعمال میں بلکہ پرامن مذاکرات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر کشمیری عوام کی حمایت کی ہے، عسکری تصادم کو کبھی حل کے طور پر پیش نہیں کیا۔عالمی قوانین کی روشنی میں دیکھا جائے تو مسئلہ کشمیر کا تسلسل دراصل عالمی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔جہاں عالمی قانون طاقتور ریاستوں پر موثر انداز میں لاگو نہ ہو سکے، وہاں انصاف کا تصور مجروح ہوتا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھی یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے کہ قوانین اور قراردادیں موجود ہیں، مگر ان پر عمل درآمد سیاسی مصلحتوں کی نذر ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کا موقف یہی ہے کہ دیرپا امن کا راستہ قانون، انصاف اور عوامی رائے کے احترام سے ہو کر گزرتا ہے نہ کہ جبر اور طاقت سے۔مسئلہ کشمیر کسی خطے یا قوم کا نہیں یہ اس سوال سے جڑا ہے کہ کیا عالمی نظام واقعی کمزور اقوام کے حقوق کا محافظ ہے یا نہیں۔ جب تک کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت نہیں ملتا، یہ تنازع نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کیلئے خطرہ رہے گا بلکہ عالمی قانون کی اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کرتارہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے