جب سولہ دسمبر آتا ہے تو ہمارے زخم تازہ ہو جاتے ہیں کہ کس طرح ہمارے مشرقی بازو کو ایک بین الاقوامی سازش کے تحت ہم سے الگ کیا گیا۔ اس کا جازہ لینے کےلئے ہمیں ماضی میں جھانکنا ہو گا۔ بنگالیوں سے نفرت کی ابتدا ایوب خان کے 1958کے مارشل لا کے بعد سے ہوگی تھی۔ 1956 کا آئین معطل کر کے ایوب خان نے صدارتی نظام کے نفاذ کےلئے 1962کا آئین لاگو کیا۔ اس طرح ملک سے پارلیمانی نظام کی بساط لپیٹ دی گی۔ صدر ایوب خان کی کابینہ کے ایک بنگالی وزیر قانون جسٹس ریٹارڈ محمد ابراھیم نے اپنی کتاب ڈاریز آف جسٹس محمد ابرھیم ،میں لکھا کہ میں نے ایوب خان کو وارننگ دی کہ صدارتی نظام نافذ نہ کریں اس سے پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ ایوب خان بنگالیوں سے سخت نفرت کر تھے انہوں نے ایک پنجابی ریٹارڈ جج محمد منیر کو اپنا وزیر قانون بنایا اور بنگالیوں کو کرش کرنے کا ٹاسک دیا۔ جسٹس منیر اپنی کتاب "فرام جناح ٹو ضیا” میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان نے انہیں ایک بنگالی وزیر رمیزالدین سے علیحدگی یا کنفیڈریشن کی بات کرنے بھیجا لیکن وہ نہ مانے۔ محترمہ فاطمہ جناح کو مشرقی پاکستان میں بہت پسند کیا جاتا تھا انہیں انتخابات میں دھاندلی کے زریعے شکست دی گی اور انہیں غدار تک کہا گیا۔محترمہ فاطمہ جناح بنگالیوں کے لئے امید کی آخری کرن تھیں۔ بنگالی محب وطن تھے وہ الگ ہونا نہیں چاہتے تھے مسلم لیگ کا قیام 1906 میں ڈھاکہ میں عمل میں آیا اور تحریک پاکستان میں بنگالیوں نے بھر پور کردار اداکیا ۔ 1940کی قرار داد لاہور پیش کرنے والے اے کے فضل الحق بھی بنگالی تھے ۔ شیخ مجیب الرحمن بھی الگ ہونا نہیں چاہتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ میرے چھ نقاط قرآن یا حدیث تو نہیں ہیں۔ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ ایوب خان کی کابینہ کے بنگالی وزیروں کےساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا جاتا تھا۔ اگر تلہ سازش کیس میں شیخ مجیب کی گرفتاری نے اسے بنگالیوں کا ہیرو بنا دیا۔ ہر طرف سے ناکامی کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے بغاوت کا راستہ اپنا لیا۔ انہوں نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں تاریخی خطاب کیا جسے دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے سنا۔ وہ امار دیش تومار دیش بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے ۔ شیخ مجیب الرحمن نے جب تقریر شروع کی تو ان کے سر کے اوپر بنگلہ دیش کا جھنڈا لہرایا گیا۔ انہوں نے عوام سے خطاب کرتے ہوے پاکستان کی تاریخ کے چھبیس سالہ مارشل لاو¿ں کا ذکر کیا ۔ شیخ مجیب نے کہا اکثریت پارٹی عوامی لیگ کے لیڈر کی حیثیت سے میں نے پندرہ فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا لیکن یحییٰ خان نے اقلیتی پارٹی پی پی پی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کے مشورے سے تین مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا ۔ ہم چھ نقاط پر سمجھوتہ نہ کرنے کی شرط پر مان گے۔ پھر گول میز کانفرنس بلای گی۔ اس کے بعد چھبیس مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا۔ ہمارے چار مطالبات تسلیم کے جائیں۔ مارشل لا ختم کیا جائے۔ فوج بیرکوں میں واپس جائے ۔ عوام کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاے۔ اقتدار فوری طور پر عوام کے منتخب نمایندوں کو منتقل کیا جاے۔ حکومت نے شیخ مجیب کے خطاب کے بعد انہیں غدار قرار دے کر عوامی لیگ پر پابندی لگا دی۔شیخ مجیب نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی۔ مشرقی پاکستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے حکومت نے ملکی اور غیر ملکی پریس پر سینسر لگا دیا ۔ 1972میں فضل القادر چوہدری کی کتاب ” بنگلہ دیش جینو سایڈ اینڈ ورلڈ پریس شائع ہوی جس میں ڈیلی ٹیلی گراف کے نامہ نگار سامن ڈرنکس نے لکھا کہ حکام نے مشرقی پاکستان میں آپریشن کی خبریں چھپانے کےلئے غیر ملکی نامہ نگاروں کو ہوٹل میں بند کر دیا یا کراچی بھیج دیا لیکن سامن کلارکس حکام کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو گئے ۔ مکتی باہنی نامی تنظیم نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اندرا گاندھی کے دور میں گنگا طیارہ اغوا کرکے لاہور لایا گیا جس کی زمے داری الذلفقار نامی تنظیم نے قبول کی۔ اس کا مقصد پاکستان کی فضائی ناکہ بندی کرنا تھا تا کہ تازہ کمک نہ پہنچ سکے۔ مشرقی پاکستان میں اس وقت تیس ہزار فوج موجود تھی ایک ماہ تک مقابلہ کیا جا سکتا تھا ۔ آخر کار16 دسمبر 1971 کو پلٹن میدان ڈھاکہ میں مشرقی کمانڈ کے جنرل نے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کر دیے۔پاکستان کے 90 ہزار فوجی بھارت کی قید میں چلے گے ذوالفقار علی بھٹو نے پولینڈ کی جنگ بندی کی قرار داد پھاڑ دی تھی۔ بھٹو نے بطور صدر پاکستان اور سول چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے ۔ انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا پاکستان بچ گیا حالانکہ ہمارا مشرقی بازو ٹوٹ گیا تھا۔ 1972کے انتخابات میں بھٹو پر دھاندلی کا الزام لگا مذاکرات ہوے دستخط ہونے والے تھے کہ جنرل ضیاالحق نے بھٹو کا تختہ الٹ دیا اور گیارہ سال حکومت کی۔ بعد میں پی پی پی اور مسلم لیگ ن باریاں لیتی رہیں۔ پی ٹی آی بھی پونے چار سال تک حکمران رہی۔تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران کی حکومت ختم ہوی۔ سیاست دانوں اور بیورو کریسی نے جی بھر کے اس ملک کو لوٹا کہ ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا۔ چالیس سال تک ڈکٹیٹر حکومت کرتے رہے اسی لے جمہوریت مستحکم نہ ہو سکی۔ اب الیکشن کا اعلان ہو چکا نئی منتخب حکومت کو ملکی سمت درست کرنی ہو گی۔ ہمیں اب ماضی کی تلخ یادیں بھلا کر پاکستان کو خوشحال اور کرپشن فری بنانا ہو گا۔
٭٭٭٭٭
کالم
جب پاکستان ٹوٹ گیا
- by web desk
- دسمبر 16, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 497 Views
- 1 سال ago
