ن لیگ کے رہنما میاں نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید ناصرکی رحلت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی اسلام کےلئے وقف کر رکھی تھی۔ وہ پہلے جنرل تھے جنہوں نے جو بات بھی کی وہ کر گزرے۔ انہوں نے کئی بار وزیر اعظم کے احکامات پر بھی عمل نہیں کیا بلکہ جو مناسب سمجھتے تھے ، وہ کرتے تھے۔ میں نے انہیں جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیا، تو وہ تبلیغ کےلئے پہاڑوں پر چلے گئے۔ ان کو ڈھونڈنے کےلئے بھیجا جانے والا ہیلی کاپٹر دو دفعہ ناکام واپس آیا۔ وہ سچے مسلمان تھے۔ وہ ساری عمر دین کی تبلیغ میں مصروف رہے۔ میاں نواز شریف جمعہ کے روز عسکری ولاز میں جنرل جاوید ناصر کی رہائش گاہ پر پہنچے اور ان کے بیٹے و رشتہ داروں سے تعزیت و شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔کور کمانڈر سمیت بہت سے فوجی افسران ،زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اور تبلیغی جماعت کے رہنما ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کےلئے آئے۔محترم لیاقت بلوچ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے بھی ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پرانہوں نے جنرل جاوید ناصر کی دینی و علمی خدمات پرروشنی ڈالی۔ تبلیغی جماعت کے رہنما جناب نعیم بٹ نے جنازے سے خطاب میں بتایا کہ میرا مرحوم سے 35 سالہ تعلق رہاہے۔ میں نے فوج کے بہت سے جرنیل دیکھے ہیں مگر ان جیسا جنرل نہیں دیکھا جس کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے ہوں۔یہ اس بات کی شہادت ہے کہ انہوں نے دین کی تبلیغ کا حق پوری طرح ادا کیا۔ جہاں بھی جس ملک میں بھی رہے، نماز کبھی ترک نہیں کی۔ پاکستان کی تاریخ کے پہلے جنرل تھے جن کی داڑھی تھی۔جہاں کہیں نماز کا وقت ہوتا، اذان دیتے بلکہ اقامت بھی پڑھتے یا امامت بھی کرادیتے۔ یہ ان کا روزمرہ کا معمول تھا کہ وہ نماز کے وقت مسجد میں بہت پہلے آجاتے، اذان دیتے، اقامت پڑھتے ، نماز کے بعد وہ اکثر قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے۔ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کےلئے بہت کام کیا۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر)جاوید ناصرنے پاکستان کیلئے بیشمار خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے لڑاکا فوج میں اعلیٰ ذہانت پیدا کرنے والے جرنیل تیار کئے تاکہ بھارت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ وہ پاک فوج کے ENC انجینئر انچیف اور WAR COURSE کے چیف بھی رہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں نوجوانوں کو دین کی طرف راغب کرنے میں 45 سال صرف کئے۔ پاکستان کے میزائل سازی کے پروگرام میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر میں بھی حصہ لیا تھا۔پاکستانی انٹر سروسز انٹلیجنس مبینہ طور پر بوسنیائی جنگ کے دوران میں ایک فعال فوجی انٹیلیجنس پروگرام چلا رہی تھی جو 1992ء میں 1995ءتک جاری رہا۔ مبینہ طور پر جنرل جاوید ناصر کی نگرانی میں، اس پروگرام پر عملدرآمد ہوا جس میں جنگ کے دوران میں بوسنیا کے مجاہدین کے مختلف گروہوں کو اسلحہ کی منظم فراہمی اور تقسیم کو مربوط کیا گیا۔ برطانوی مو¿رخ مارک کرٹس کے مطابق، آئی ایس آئی نے بوسنیائی دستہ، سعودی عرب کی مالی اعانت کے ساتھ منظم کیا تھا۔پاکستان نے جولائی 1995ءمیں جنیوا میں مسلم ممالک کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ پاکستان کے اس وقت کے صدر، فاروق لغاری نے بیان دیا کہ سربیا کے جارحیت پسندوں کو مطمئن کرنے کی مغربی پالیسی اثر نہیں دکھا رہی ہے۔ اسکے بعد پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے اسلحہ کی پابندی کے باوجود بوسنیا کی حکومت کو اسلحہ فراہم کرے گا۔ پاکستان بوسنیا میں اقوام متحدہ کی امن فوج کےلئے چوتھی سب سے بڑی امدادی جماعت بن گیا اور اس نے بوسنیا کے مسلمانوں کی حفاظت اور سربوں سے مقابلہ کرنے کےلئے اپنے فوجیوں کو وہاں رکھنے کا وعدہ کیا جبکہ فرانس اور دیگر ممالک اپنے فوجیوں کی حفاظت کےلئے اپنی فوج واپس لانا چاہتے تھے ۔ جنرل ناصر نے بعد میں اعتراف کیا کہ، بوسنیا میں اقوام متحدہ کے اسلحے کی پابندی کے باوجود، آئی ایس آئی نے بوسنیائی مجاہدین کو اینٹی ٹینک ہتھیاروں اور میزائل دیے جنھوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کے حق میں جنگ کا رخ موڑ دیا اور سربوں کو محاصرہ ختم کرنے پر مجبور کر دیا ۔ 2011ءمیں سابق یوگوسلاویا کےلئے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل نے 1990ءکی دہائی میں سربیا کی فوج کے خلاف بوسنیا کے مسلم جنگجوو¿ں کی مبینہ حمایت کے لیے آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر کو تحویل میں رکھنے کا مطالبہ کیا تھا، حکومت پاکستان نے، خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے ناصر کو اقوام متحدہ کے ٹریبونل کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اس تنازع کے عروج کے دوران میں، پاکستان کی وزارت خارجہ نے متعدد خطرے سے دوچار بوسنیائی پاشندوں کو تنازع والے علاقوں سے نکال لیا جو پاکستان ہجرت کر گئے۔ 1998ءمیں پاکستانی ڈراما الفا براوو چارلی میں اس پروگرام کی چھوٹی سی نوعیت کا ذکر کیا گیا تھا اور ان پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ تب سے، پاکستان اور بوسنیا کے مابین خارجہ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی اسلام کےلئے وقف کر رکھی تھی۔ دین کی تبلیغ کےلئے تبلیغی جماعت کے ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں اور بیرون ملک سفر کئے۔ شوگر کے مریض تھے۔ کچھ عرصے سے بیمار تھے۔ علاج کے بعد کچھ طبیعت سنبھل گئی تو مسجد میں چلے گئے۔ وضو کیا اسی سے ان کی طبیعت بگڑ گئی اور گھر پہنچ کر فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ اللہ تعالیٰ انکی مغفرت کرے۔ پاکستان کی سرزمین کا چپہ چپہ انکی اسلامی خدمات اور باجماعت نماز کی گواہی دے گا ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت العدن میں جگہ دے۔ آمین
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے
کالم
جنرل(ر)جاوید ناصر نے تبلیغ دین کا حق ادا کیا
- by web desk
- اکتوبر 20, 2024
- 0 Comments
- Less than a minute
- 625 Views
- 1 سال ago

