کالم

جنگ ستمبر۔۔۔قوت اےمانی کی آئےنہ دار

معرکہ ستمبر پاکستان کی تارےخ کا عدےم المثال ،روشن اور عہد آفرےں باب ہے ۔زندہ قومےں ان واقعات کی ےاد تازہ کرنے کی تقارےب جنہوں نے انہےں حےات تازہ عطا کی ہو بڑے خلوص و احترام وتزک و اختشام سے مناتی ہےں ۔ ےوم دفاع اور شہداءمنانے کا مقصد مادر وطن کے دفاع کےلئے اپنے عظےم ہےروز کو خراج تحسےن پےش کرنا ہے ۔کسی بھی قوم اور ملک کی تارےخ اس کے ماضی حال اور مستقبل پر مبنی ہوتی ہے ۔اقوام اپنے حال کا محاسبہ کرتی ہےں اور اپنے ماضی کے آئےنے مےں مماثلت تلاش کرتی ہےں اور پھر اپنے حال سے ماضی کا تقابل ۔قوموں کی زندگی مےں بعض اےسے مقامات آتے ہےں کہ قوم کا ہر فرد اپنی ہر چےز قربان کرنے حتیٰ کہ اپنی جان تک دےنے پر تےار ہو جاتا ہے ،وہ ہے وطن کی محبت کا جذبہ ،ےہ جذبہ اس وقت بےدار ہوا جب 6 ستمبر 1965 ءکو رات کی تارےکی مےں ہندوستان نے پا کستان پر شدےد جارحانہ حملہ کر دےا ۔ےوم دفاع ہر سال 6ستمبر کو ان شہےدوں کی ےاد مےں مناےا جاتا ہے جنہوں نے بھارت کے شبخون مارنے پر ارض وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانےں قربان کر دی تھےں ۔اگر تارےخی تناظر مےں 1965پاک بھارت جنگ کی وجوہات کا جائزہ لےا جائے تو معلوم ہو گا کہ جنگ ستمبر کے Genesisمسئلہ کشمےر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور بھارتی وزےر اعظم جواہر لال نہرو کے کشمےرےوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کا حق دےنے کے وعدوں سے مسلسل انحراف مےں پائے جاتے ہےں ۔ پاکستان نے محفوظ اور محتاط گورےلا کاروائےوں سے کشمےر آزاد کرانے کا منصوبہ بناےا اور اسے ”آپرےشن جبرالٹر “ کا نام دےا گےا پاکستان کے سامنے 1948ءکی کشمےر کو آزاد کرانے کی محدود پاک بھارت جنگ مےں کامےابی کا تجربہ تھا ۔ےاد رہے کہ ہم نے 1948کی اس محدود جنگ مےں آزاد کشمےر کو بھارتی فوج کے قبضے سے چھڑاےا تھا جب اگست65ءمےں گورےلا کاروائےاں شروع ہوئےں تو توقع سے بھی زےادہ کامےابےاں حاصل ہونے لگےں ۔کشمےر بھارت کی گرفت سے نکلتا دکھائی دے رہا تھا ۔پے در پے عسکری کامےابےوں پر بھارت بوکھلا گےا اور اپنی پاکستان سے پانچ گنا بڑی فوج سے پاکستان کی سرحدوں پر کھلا حملہ کر دےا ۔بھارتی حکمت عملی کا فوکس لاہور پر قبضہ تھا ۔وہ بی آر بی کے دوسری جانب تک پےش قدمی کر چکا تھا ےعنی لاہور کی سرحد سے تےن مےل اندر داخل ہو گےا تھا ۔پھر دونوں فوجوں مےں جو گھمسان کا رن پڑا ،اس مےں پاکستانی افواج نے شہرےوں کے بے مثال معاونت سے شجاعت کے جو مظاہر ے لاہور ،قصور اور سےالکوٹ سےکٹر پر جنگ مےں ہوئے اس نے دنےا کو ورطہ حےرت مےں ڈال دےا۔ہمارے جانبازوں نے سےالکوٹ چونڈہ کے محاذ پر ٹےنکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی اور دشمن کے چھ سو ٹےنک کے حملے کو نہ صرف روکا بلکہ پسپا کر دےا ۔ہمارے جوان ٹےنکوں کی ےلغار کے آگے جسموں سے بم باندھ کے لےٹ گئے اور دشمن کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دےا ۔ان سر فروشوں نے عظمت اور بہادری کی تارےخ کا اےک نےا باب کھولا اور ہر فرد اور ہر نسل کےلئے بہادری ،شجاعت ، مر مٹنے کا فےض اور حوصلہ بخشا ۔ستمبر 1965کاوہ کےا جذبہ تھا ،اس جذبہ دفاع کا ہر اےک عنصر متحرک تھا ۔ےہی سبب تھا کہ پورے سماج کے اےسے فقےد المثال روےوں سے اےسا منظر پےدا ہو گےا کہ دنےا مےں دفاع وطن کے جذبہ کو جذبہ ستمبر کا جذبہ ملا ۔ہمارے جانبازوں نے دشمن کے ٹےنکوں کی دےواروں اور توپ خانہ کی ےلغاروں کو اپنے سےنوں پر روکا تھا ۔ہمارے شاہبازوں نے دشمن کی فضاﺅں مےں ہی ان کے کرگس شکار کئے ۔ہماری محدود ائےر فورس نے جو معرکے مارے اور جس طرح بھارت کے دور دراز ائےر بےسز پر ہی بھارتی فضائےہ کو وہےں تباہ کےا ۔پاکستان کے ہوا باز اےم اےم عالم نے ڈےڑھ منٹ مےں پاکستان کی فضا مےں حملہ آور بھارتی فضائےہ کے پانچ طےارے گرانے کا جو عظےم جنگی کارنامہ سر انجام دےا وہ پوری دنےا کی فضائی جنگ کی تارےخ کا اب تک نہ ٹوٹنے والا رےکارڈ ہے ۔ہماری بحرےہ نے بےک وقت خشکی ،سطح آب اور فضا مےں اپنی موجودگی کا احساس دلاےا ۔6ستمبر65ءکی پاک بھارت جنگ سے ہمےں ےہ ناقابل فراموش تجربہ بھی ہوا کہ مادےت کے رنگا رنگ فلسفے ،جن کی چمک دمک سے ہمارے ذہن مرعوب تھے جنگ شروع ہوتے ہی اےسے غائب ہوئے جےسے طلوع سحر سے پہلے افق پر جمع ہونے والی گھٹائےں غائب ہو جاتی ہےں ۔دکانداروں نے ملاوٹ اور ڈاکوﺅں نے ڈاکوں سے کنارہ کشی اختےار کر لی ۔زخمےوں کو خون دےنے کےلئے پوری قوم نے بلڈ بےنک بھر دےے ۔ہر ہوشمند بچے سے لےکر ضعےف العمر تک ذہنی اور جسمانی طور پر جذبہ جہاد سے سرشار ہو گےا ۔ہر شعبہ زندگی مےں شرےک افراد نے اپنا اپنا مثالی کردار ادا کےا ۔وطن عزےز کے عام شہری سے لےکر تمام شاعر ،ادےب ،موسےقار ،گلوکار،آرٹسٹ ،اساتذہ ،علمائے کرام سےاسی قائدےن ،شہری ڈےفنس کے رضاکار اور پولےس کے جوان اےثار و قربانی کا پےکر بن گئے۔الغرض بھارت کے مسلح حملے کا جواب دےنے کےلئے پوری قوم اپنے سرفروش مجاہدوں کی پشت پر سےسہ پلائی ہوئی دےوار کی مانند کھڑی ہو گئی ۔قوم کا ہر فرد اپنے اپنے محاذ پر سر فروش مجاہد بن گےا ۔ےہ جنگ اےسی تھی جو جسموں کے ساتھ نہےں دلوں ،دماغوں اور اےمانوں کے ساتھ لڑی گئی ۔دشمن کا خےال تھا کہ وہ چشم زدن مےں پاکستان کو ہڑپ کر جائے گا لےکن جس قوم کے ارادے پختہ ہوں اور ےقےن کامل خدا پر ہو وہ سنگلاخ چٹانوں سے بھی ٹکرا کر پاش پاش کر سکتی ہےں ۔وطن عزےز پاکستان جس سے ان دےکھے محبت کی گئی ،ہجرت عظےم کے شہداءنے جسے اپنے لہو سے چراغ جلا کر روشن کےا جسے اپنا بنانے کےلئے عصمتےں قربان ہوئےں اس کے معرض وجود مےں آنے سے قبل وطن عزےز کی تارےخ کے ورق ورق پر اےثار کی داستانےں رقم کر کے اسے پاک شہےدوں کی اےک ضحےم کتاب بنا دےا گےا ۔اس کی تحرےک تارےخ مےں بدلی تو اسے انسانی لہو رنگےن کر گےا ۔شہداءنے آغاز ہی مےں اسے اپنے لہو سے سجاےا اور پھر 1965مےں اپنے سے پانچ گنا بڑی فوجی قوت کا مقابلہ کرتے ہوئے وطن عزےز کی سرحدوں کی حفاظت مےں نثار ہو گئے ۔اس کا حاصل بھی قربانےوں کا مرہون منت ہے اور اس کا استحکام بھی اس کے محافظوں کی حمےت کا مظہر ہے ۔6ستمبر 1965 کو اےک اےسا جذبہ ابھر کر سامنے آےا جو دنےا کی عسکری قوتوں کےلئے اےک مثال قائم کر گےا ۔ساری دنےا کو ہم نے ےہ دکھلا دےا کہ ہم مےں ہمت اور شجاعت بھی ہے اور حق پر جان دےنے کی جرا¿ت بھی ۔افواج پاکستان نے اسلام اور پاکستان کی سر بلندی ،ملک و قوم کی بقا اور سالمےت و استحکام پر آنچ نہ آنے دی ۔پاکستان اور بھارت کے درمےان کشےدگی اور محاذ آرائی سے قطع نظر اہل کشمےر بھی گزشتہ چالےس برس سے بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف برسر پےکار ہےں اور اےک لاکھ سے زائد حرےت پسند کشمےر کی آزادی کےلئے اپنی جانےں نچھاور کر چکے ہےں ۔مقبوضہ کشمےر مےں سےاسی جدوجہد کا استعارہ اور الحاق پاکستان کی سب سے توانا آواز سےد علی گےلانی 92برس کی عمر مےں نظر بندی کے دوران ہی عازم خلد برےں ہو گئے ہےں ہم انہےں ان کی آزادی کےلئے جدوجہد اور طوےل قےدو بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنے پر سلام پےش کرتے ہےں ۔ان کے انتقال پر پوری پاکستانی قوم ان کے خاندان اور کشمےری قوم کو تعزےت پےش کرتے ہوئے افسردہ ضرور ہے لےکن ےقےن دلاتی ہے کہ حالات کےسے بھی کےوں نہ ہوں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہےں اور مقبوضہ کشمےر مےں آزادی کا سورج طلوع ہونے کے بعد بھی آپ کے شانہ بشانہ رہےں گے۔معرکہ ستمبر کا بنےادی محرک مسئلہ کشمےر ہی تھا ۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمےان جتنی بھی جنگےں لڑی گئےں ان کے پےچھے تنازع کی اصل وجہ کشمےر ہی رہا ۔1971مےں ہمےں اپنے مشرقی بازو سے بھی محرومی اختےار کرنا پڑی ۔ےہ درست ہے کہ جنگ تباہی و ہلاکت ہے ہر شخص اور ملک امن کا خواہاں ہے ۔بھارت ہر سال اپنے دفاعی بجٹ مےں اربوں کا اضافہ کر رہا ہے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کی پالےسی پر عمل پےرا ہے ۔بھارت نے افغانستان مےں جو سرماےہ کاری کی وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کےلئے کی لےکن پاک فوج نے ہمےشہ اس کا منہ توڑ جواب دےا آج افغانستان مےں بدلتی ہو ئی صورتحال کی وجہ سے اس کے سارے حربے ناکام ہو گئے ہےں ۔ ہم آج 6ستمبر کے حوالے سے مادر وطن پر جانثار ہونے والے شہےدوں کو عقےدت بھرا سلام پےش کرتے ہےں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے