کالم

حقِ زندگی ۔۔۔!

فلسطین کا مسئلہ محض ایک خطے، ایک قوم یا ایک مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ مسئلہ اس بنیادی اصول سے جڑا ہے کہ زمین پر بسنے والا ہر انسان عزت، تحفظ اور زندگی کے حق کا حقدار ہے۔ جب دنیا کے کسی حصے میں کسی قوم کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے، اس کی زمین چھینی جاتی ہے، اس کے گھروں کو ملبے میں بدلا جاتا ہے اور اس کے بچوں کے خوابوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے تو یہ صرف ایک قوم کی تکلیف نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی اجتماعی شکست بن جاتی ہے۔ فلسطین کا معاملہ بھی اسی شکست کی علامت ہے، جہاں طاقت، مفاد اور سیاست نے انصاف اور اخلاقیات کو بارہا پس پشت ڈالا ہے۔بورڈ آف پیس یا عالمی امن سے وابستہ کسی بھی ادارے کا بنیادی مقصد طاقتور ریاستوں کے مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ مظلوم اقوام کی آواز بننا ہونا چاہیے۔ فلسطینی اتھارٹی کا ایسے عالمی فورمز میں کردار اس لیے ناگزیر ہے کہ وہ ایک ایسی قوم کی نمائندگی کرتی ہے جو دہائیوں سے اپنی زمین، اپنی آزادی اور اپنے مستقبل کیلئے جدوجہد کر رہی ہے ۔ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنا کسی ایک فریق کی فتح نہیں بلکہ عالمی انصاف کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ریاست کا قیام دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ فلسطینی عوام بھی دنیا کے دیگر اقوام کی طرح خود مختاری، سلامتی اور وقار کے حق دار ہیں۔ اگر عالمی برادری واقعی امن چاہتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دیرپا امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب انصاف کو بنیاد بنایا جائے ۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ فلسطین کی سرزمین صدیوں سے فلسطینیوں کی رہی ہے۔ یہاں کی تہذیب، ثقافت، زبان اور معاشرت اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ یہ خطہ کسی مصنوعی آباد کاری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کا گھر ہے۔ مختلف ادوار میں اس سرزمین پر مختلف سلطنتوں نے حکمرانی کی مگر مقامی آبادی نے ہمیشہ اپنی جڑوں کو برقرار رکھا۔ جدید دور میں طاقت کی سیاست نے اس تاریخی حقیقت کو بدلنے کی کوشش کی، آبادیوں کی جبری منتقلی کی گئی، بستیاں بسائی گئیں اور زمینوں پر قبضے کیے گئے۔ ان اقدامات نے نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کیے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فلسطین میں ہزاروں بے گناہ افراد کو قتل کیا گیا، جن میں بچوں اور بچیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ وہ بچے جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہیں سمجھ پائے تھے، جنگ اور تشدد کی نذر ہو گئے۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے لختِ جگر کو سینے سے لگانے کے خواب دیکھے تھے، ان خوابوں کو ملبے تلے دفن ہوتے دیکھنے پر مجبور ہوئیں۔ اسپتال، اسکول، عبادت گاہیں اور رہائشی علاقے محفوظ نہ رہے۔ یہ سب کچھ اس دنیا کے سامنے ہوا جو انسانی حقوق، جمہوریت اور امن کے دعوے کرتی ہے۔ ایسے حالات میں ظالم کو عالمی امن کے اداروں میں جگہ دینا اور مظلوم کی فریاد کو نظرانداز کرنا انصاف کی روح کے منافی ہے۔ امن کا تصور محض جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی قوم کو مسلسل ظلم، محاصرے اور محرومی کا شکار رکھا جائے اور پھر اس سے امن کی توقع کی جائے تو یہ حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ فلسطینی عوام کی مزاحمت دراصل زندگی کے حق کی جدوجہد ہے۔ یہ جدوجہد کسی مذہب یا نسل کیخلاف نہیں بلکہ اس نظام کے خلاف ہے جو طاقت کو حق پر فوقیت دیتا ہے ۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بندوق اور بم کبھی بھی دنیا میں امن پیدا نہیں کر سکتے۔یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ کسی مسئلے کے حل کیلئے اجتماعی سزا یا نسلی نفرت کو فروغ دینا کسی طور درست نہیں۔ دنیا کا ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی مذہب، رنگ یا نسل سے تعلق رکھتا ہو، اس بات کا حق دار ہے کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی سیاسی، معاشی یا سماجی زیادتی نہ ہو۔ اسلام، یہودیت، عیسائیت اور دیگر مذاہب سب انسانی جان کے احترام کا درس دیتے ہیں۔ اگر مذہب کے نام پر نفرت اور قتل کو جائز قرار دیا جائے تو یہ مذہب کی روح کے خلاف ہے۔ فلسطین کا مسئلہ بھی اسی انسانی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے جہاں مظلوموں کے حقوق کا تحفظ ہو ۔بین الاقوامی قوانین شہریوں کے تحفظ، جبری قبضے کی ممانعت اور انسانی حقوق کی پاسداری کا واضح تقاضا کرتے ہیں۔ ان قوانین کی موجودگی کے باوجود اگر طاقت کے بل بوتے پر زمینوں پر قبضے کیے جائیں اور آبادیوں کو بے گھر کیا جائے تو یہ عالمی نظام کی ناکامی ہے۔ فلسطین میں ہونے والی زیادتیوں پر مثر احتساب نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ اس بے بسی کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انصاف کو سیاست پر فوقیت دی جائے اور اصولوں کو مفادات پر قربان نہ کیا جائے۔دنیا آج جن مسائل کا شکار ہے، ان میں جنگیں، مہنگائی، معاشی عدم استحکام اور سماجی بے چینی سرِفہرست ہیں۔ جنگوں نے نہ صرف لاکھوں جانیں لیں بلکہ معیشتوں کو بھی تباہ کر دیا۔ مہنگائی نے عام انسان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے میں امن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے مگر امن صرف بیانات اور قراردادوں سے نہیں آتا بلکہ عملی اقدامات سے آتا ہے۔جب تک طاقتور اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور کمزوروں کے حقوق کا اعتراف نہیں کیا جاتا، تب تک دنیا میں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔نفرت کی سیاست نے دنیا کو تقسیم کر دیا ہے۔ قومیں، مذاہب اور رنگ ایک دوسرے کیخلاف کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو اٹھانا پڑتا ہے جو نہ جنگ کا فیصلہ کرتا ہے اور نہ ہی اس کے نتائج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ فلسطینی عوام بھی اسی عام انسان کی نمائندگی کرتے ہیں جو صرف امن، عزت اور زندگی چاہتے ہیں۔ ان کی خواہشات نہ غیر فطری ہیں اور نہ غیر قانونی، بلکہ یہ وہی خواہشات ہیں جو دنیا کا ہر انسان رکھتا ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی میڈیا اور طاقتور ریاستیں اکثر حقائق کو اپنی سہولت کے مطابق پیش کرتی ہیں۔ مظلوم کی آواز کو یا تو دبایا جاتا ہے یا اسے شدت پسندی کے لیبل سے بدنام کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا بلکہ انصاف کے تقاضوں کو بھی مجروح کیا۔ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسے سچ کو تسلیم کرنا ہوگا، چاہے وہ سچ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ سچ یہ ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ طویل عرصے سے ناانصافی ہو رہی ہے اور اس ناانصافی کا ازالہ کیے بغیر امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔فلسطین کا مسئلہ ہمیں انسانیت کا مشترکہ درد یاد دلاتا ہے۔ یہ مسئلہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس حد تک اپنے ضمیر کی آواز سنتے ہیں۔ کیا ہم واقعی انسانوں کو ان کے رنگ، نسل یا مذہب سے بالاتر ہو کر دیکھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ اگر ہم واقعی ایک پرامن دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں نفرت کے بیج بونے کے بجائے محبت، رواداری اور انصاف کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہر انسان کو جینے کا حق ہے، چاہے وہ فلسطینی ہو یا کسی اور خطے کا باشندہ۔واضح ہو کہ فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی معلوم ہو کہ طاقت عارضی ہوتی ہے مگر انصاف ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ اگر آج دنیا نے انصاف کا ساتھ نہ دیا تو آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔ فلسطینی عوام کی جدوجہد دراصل حقِ زندگی کی جدوجہد ہے اور اس جدوجہد کا ساتھ دینا ہر اس انسان کی ذمہ داری ہے جو امن، محبت اور انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ یہی راستہ ایک بہتر دنیا کی طرف لے جاتا ہے، ایسی دنیا جہاں جنگوں کی جگہ امن ہو، نفرت کی جگہ محبت ہو، مہنگائی کی جگہ خوشحالی ہو اور ہر انسان کو جینے کا حق حاصل ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے