بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 34.6°C
Wednesday, 17 June 2026 | پاکستان: 2 محرم 1448

بھارت کے نام نہاد قومی ایام کشمیری عوام کیلئے یوم سیاہ کیوں؟

Saturday, 31 January, 2026

دنیا میں جب بھی کسی ریاست کے قومی دن منائے جاتے ہیں تو عموماً ان دنوں کو عوامی خوشی، اجتماعی فخر اور ریاستی استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جن میں قومیں اپنی آئینی بالادستی، جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں پر فخر کا اظہار کرتی ہیں مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ہر جشن اپنے اندر سچائی نہیں رکھتا اور ہر ترانے کے پیچھے آزادی کی خوشبو نہیں ہوتی۔ بعض قومی دن ایسے بھی ہوتے ہیں جو اصل میں مظلوم اقوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بن جاتے ہیں اور جن کے شور میں دبی ہوئی کراہوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ بھارت کا نام نہاد یوم جمہوریہ بھی انہی دنوں میں شمار ہوتا ہے جو اپنے جلو میں آئین و قانون کا دعویٰ لیے ہوئے ہے مگر عملاً طاقت، جبر اور انسانی حقوق کی پامالی کی داستان بن چکا ہے۔اگر جمہوریت واقعی عوام کی حکمرانی کا نام ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کس عوام کی حکمرانی نافذ ہے؟۔ وہاں نہ عوام کی مرضی شامل ہے نہ ان کی آواز سنی جاتی ہے نہ ان کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کشمیری عوام ایک ایسی حقیقت میں سانس لے رہے ہیں جہاں بندوق قانون سے بالاتر ہے اور فوجی بوٹ شہری آزادیوں کو روندنے کی علامت بن چکا ہے۔ بھارت ہر سال اپنے یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کو اس انداز میں مناتا ہے کہ مقبوضہ وادی کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور لاکھوں انسانوں کی روزمرہ زندگی کو عسکری منصوبہ بندی کی نذر کر دیا جاتا ہے۔نام نہاد جشن کے چند گھنٹوں کیلئے پورا خطہ محاصرے میں لے لیا جاتا ہے۔ گھروں کی چھتیں فوجی نگرانی میں آ جاتی ہیں ۔ سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں۔ بازار ویران ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی ادارے خاموش کر دیے جاتے ہیں ۔ نقل و حرکت جرم بن جاتی ہے اور شناخت محض ایک کاغذ نہیں بلکہ شک کی بنیاد پر سزا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ وہ تصویر ہے جو بھارت کی جمہوریت کا اصل چہرہ دکھاتی ہے۔ اگر کوئی ریاست اپنے قومی دن منانے کیلئے اپنی ہی زیر نگیں آبادی کو یرغمال بنانے پر مجبور ہو تو اس کے جمہوری دعوؤں پر سوال اٹھنا ناگزیر ہو جاتا ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی کسی عارضی سیکورٹی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل منصوبہ بند قبضے کا تسلسل ہے۔ سات لاکھ سے زائد مسلح اہلکاروں کی تعیناتی اس خطے کو دنیا کا سب سے زیادہ فوج زدہ علاقہ بناتی ہے۔ جدید ہتھیار، ڈرون، نگرانی کے کیمرے، ناکے، بنکرز اور گشت کرتی بکتربند گاڑیاں اس امر کی گواہ ہیں کہ یہاں آئین نہیں بلکہ طاقت بولتی ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت مزید شدت اختیار کر لیتا ہے جب بھارت اپنے نام نہاد قومی ایام منانے کی تیاری کرتا ہے۔کشمیری عوام کا ان دنوں کو یوم سیاہ کے طور پر منانا محض ایک علامتی احتجاج نہیں بلکہ ایک اجتماعی اعلان ہے کہ وہ اس قبضے کو قبول نہیں کرتے ۔ یہ احتجاج اس بات کی شہادت ہے کہ سات دہائیوں کی فوجی یلغار، قتل و غارت، جبری گمشدگیوں، اجتماعی قبروں، ماورائے عدالت قتل اور سیاسی قید و بند کے باوجود کشمیری عوام کے شعور کو شکست نہیں دی جا سکی۔ ہر ہڑتال، ہر بند بازار ، ہر سنسان سڑک یہ پیغام دیتی ہے کہ مسئلہ کشمیر زندہ ہے اور زندہ رہے گا ۔ بھارت کی جانب سے پانچ اگست دو ہزار انیس کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ اس حقیقت پر آخری مہر تھا کہ بھارت اب کسی پردے یا لبادے کا محتاج نہیں رہا۔ اس اقدام نے نہ صرف کشمیریوں کے محدود آئینی حقوق بھی سلب کر لیے بلکہ بھارت کے جمہوری دعوؤں کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ بھارت کی یہ پالیسیاں محض کشمیر تک محدود نہیں رہیں بلکہ خود بھارت کے اندر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیلئے تنگ دائرے بنتے جارہے ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی، ہندتوا نظریہ اور اکثریتی جبر نے بھارت کے سیکولر تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ حقیقت اب عالمی مبصرین اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں بھی تسلیم کی جا رہی ہے کہ بھارت بتدریج ایک ایسی ریاست میں ڈھل رہا ہے جہاں اختلاف جرم اور اقلیت ہونا سزابن چکا ہے ۔کشمیری قیادت کی اکثریت آج بھی بھارتی جیلوں میں قید ہے۔ سیاسی جماعتیں پابندیوں کا شکار ہیں۔ صحافت آزاد نہیں رہی۔ انسانی حقوق کے کارکنان کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ زمینوں اور املاک پر قبضے کے ذریعے آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ کسی جمہوری ریاست کی علامات نہیں بلکہ ایک نوآبادیاتی نظام کے خدوخال ہیں۔عالمی انسانی حقوق کے اداروں کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کب تک رسمی بیانات اور تشویش کے اظہار تک محدود رہیں گے۔ اگر انسانی حقوق واقعی عالمگیر قدر رکھتے ہیں تو پھر کشمیر میں ان کی پامالی کو نظر انداز کرنا دوہرے معیار کی بدترین مثال ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں معمولی خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں مگر کشمیر جیسے سنگین اور مسلسل انسانی المیے پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر بھارت کا موقف مضبوط اور جمہوری ہے تو وہ کشمیری عوام کو رائے دینے سے کیوں خوفزدہ ہے؟ استصواب رائے سے انکار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت کو اپنی پوزیشن پر خود اعتماد نہیں۔ بندوق کے سائے میں لہرایا جانیوالا ترنگا کشمیری عوام کے دلوں میں وفاداری پیدا نہیں کرسکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے بل پر مسلط کی گئی حکمرانی کبھی دیرپا نہیں ہوتی۔جنوری کا مہینہ کشمیریوں کیلئے دکھوں کی علامت رہا ہے۔ اسی مہینے میں کئی المناک سانحات نے جنم لیا جن میں بیگناہ شہریوں کا اجتماعی قتل شامل ہے ۔یہ واقعات بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر ایسے دھبے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں اور سچ کو دبانے سے تاریخ کا رخ نہیں بدلا جا سکتا۔کشمیری عوام آج بھی اپنے موقف پر ثابت قدم ہیں۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ وہ نہ ماضی میں مرعوب ہوئے تھے نہ آج ہیں اور نہ آئندہ ہونگے۔ ان کی جدوجہد کسی قوم یا مذہب کیخلاف نہیں بلکہ ایک ناجائز قبضے کیخلاف ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *