بلآخر 45دن کے بعد فریقین عارضی جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں اور ابتدائی طور پر دونوں میں یہ طے پایا ہے کہ وہ اپنے مسائل باہمی گفت و شنید اور مذاکرات کے ذریعے حل کرینگے ،جنگیں کسی مسائل کاحل نہیں ہوا کرتی مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت کوئی ایک فریق تنگ آکر جنگ چھیڑنے کا ذمہ دار قرار پاتا ہے ، غزہ میں اسرائیل حماس جنگ میں بھی تقریباً یہی ہوا کہ طاقت کے زعم میں مبتلا اسرائیل کمزور اور نہتے فلسطینیوں سے نہ تو مذاکرات پر آمادہ تھا اور نہ ہی وہ کسی قسم کی بات چیت ماننے پر راضی تھا بلکہ وہ ارض فلسطین کو طاقت کے زور پر تہس نہس کرکے وہاں پر مزیدنئے یہودیوں کی آبادکاری کیلئے نئی بستیاں بسانے کے پروگرام بنائے بیٹھا تھا ، نہتے فلسطینی بے چار ے اپنے ملک میں غلام بنے جارہے تھے ، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوتیں اس قضیے کو آسانی سے حل کرسکتے ہیں مگر وہ بھی جان بوجھ کر مسلم کشی کے منصوبوں میں برابر کے حصے دار بنے رہے اور جب اسرائیل کو نقصان پہنچنے لگا تووہ مگر مچھ کے آنسو بہانے لگے ، یہ بات تو اب طے ہوچکی ہے کہ اقوام متحدہ مسلمانوں کی بجائے یہودی اور عیسائی طاقتوں کی محافظ تنظیم بن چکی ہے ، اس لئے ایک جانب جہاں مسلمان ملکوں کو اپنی طاقت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا وہاں اس کے ساتھ ساتھ او آئی سی نامی تنظیم کو اس سطح پر لانا ہوگا کہ دیگر عالمی تنظیمیں اس کی بات کو سنجیدگی سے سنے اور پھر تسلیم کرے، ہم تو یہ بھی سنتے چلے آرہے تھے کہ مسلمان ممالک کی ایک مشترکہ فوج بھی کھڑی ہوچکی ہے مگر اس پوری جنگ میں نہ تو یہ فوج نظر آئی اور نہ ہی اس کی جانب سے کوئی بیان نظر میں گزرا ، یہ سب مسلمان ممالک کے حکمرانوں کی ذاتی کمزوریوں کے باعث ہوا، اسرائیل کے اطراف میں آباد مسلمان ممالک اگر حماس کی مدد نہیں کرسکتے تھے تو کم از کم اپنی افواج کو ہی الرٹ کردیتے تو اس سے اسرائیلی حملوں کی شدت میں کمی واقع ہوسکتی تھی مگر انہوں نے اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر اپنے ممالک کی سرحدیں بند کردیں جنگ میں ہمیشہ دوطرفہ نقصان ہوا کرتا ہے ، اس جنگ نے جہاں حماس اور فلسطینیوں کو نقصان پہنچایا تو اسرائیل کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ ا اور اس پر واضح ہوگیا کہ فلسطینی اپنے حقوق کے دفاع کیلئے کسی وقت پر اٹھ کر کھڑے ہوسکتے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ پر بھی واضح ہوگیا کہ جنگیں ہمیشہ جذبے سے لڑی جاتی ہیں نہ کہ تیر وتفنگ سے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ سچائی بھی کھل گئی کہ اپنی جنگ ہمیشہ خود ہی لڑنا پڑتی کوئی دوسرا آکر انکی جنگ نہیں لڑے گا تاہم اپنے پیچھے بہت ساری تلخیاں چھوڑ کر عارضی طور پر اب جنگ بند ہوچکی ہے اور اس مرحلے پر اس مسئلے کی بنیادی اور ضروری وجوہات کا حل ڈھونڈنا ہوگا بصورت دیگر یہ مسئلہ ہمیشہ باعث جنگ بنا رہے گا، اخباری اطلاعات کے مطابق قطر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں عارضی وقفے کا اعلان کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کردیا ۔قطر کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ کیا جائے گا، جنگ میں وقفے کا آغاز 24گھنٹے کے اندر ہوگا۔ معاہدے کے تحت درجنوں فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا۔ حماس اپنے پہلے مرحلے میں تقریباً 50اسرائیلی خواتین اور بچوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں اسرائیل تقریبا 150 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، ان میں زیادہ تر خواتین اور نابالغ ہیں۔اس میں اسرائیل کی طرف سے مصر سے روزانہ 300 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا اور جنگ روکنے کے دورن مزید ایندھن غزہ میں داخل کرنا شامل ہے۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں حماس کئی دنوں تک جنگ بندی میں توسیع کے بدلے درجنوں اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر سکتی ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل کابینہ نے جنگ میں وقفے کی منظوری دی تھی ۔ کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ مشکل لیکن درست ہے۔ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں حماس کی قید میں موجود 50 افراد کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور عارضی جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری دی۔اسرائیل نے جنگ بندی کے خاتمے کے فورا بعد غزہ میں حماس کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ عالمی دنیا میں اس معاہدے کاخیرمقدم کیاجارہاہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ معاہدے کے تمام پہلوﺅں پر مکمل طور پر عمل کیا جانا ضروری ہے۔جنگ بندی کے حوالے سے اردن نے کہا کہ اسے امید ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ایک ایسا قدم ہوگا جس سے غزہ کا بحران ختم ہوگا اور فلسطینیوں کو نشانہ بنانے اور ان کی اپنی سرزمین سے نقل مکانی کو روکا جاسکے گا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ روس اسرائیل اور حماس کے درمیان انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔دوسری جانب اسرائیل کی رات بھر غزہ کے مختلف علاقوں پر بمباری جاری رہی، خان یونس میں اپارٹمنٹ پربمباری سے مزید 10فلسطینی شہید اور 22 زخمی ہوگئے جبکہ نصائرات کیمپ میں گھر پر حملے میں بھی مزید 17 افراد شہید ہوئے۔7اکتوبر سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 14 ہزار 128 سے زائد ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی 33 ہزارسے تجاوز کر چکی ہے۔غزہ کے اسپتالوں سے قاہرہ لائے گئے 28 فلسطینی نومولود بچوں کی حالت خطرے سے باہر نہیں ہے جبکہ کئی بچوں کے والدین اور پورے گھرانے شہید ہوچکے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں میں اب تک 5 ہزار سے زائد بچے بھی شہید ہو چکے ہیں۔عسکری آپریشنز کیلئے استعمال کا الزام لگا کر غزہ کے اسپتالوں پر حملوں اور اسرائیلی افواج کے جانب سے اسپتالوں کے محاصروں پر ردعمل دیتے ہوئے حماس نے کہا کہ اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے اسرائیل طبی مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ غزہ کے کسی بھی اسپتال کو عسکری مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا، اسرائیل نے شمالی غزہ کے شہریوں کو مصر میں دھکیلنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ غزہ کے شہری اپنی سرزمین چھوڑکر کہیں نہیں جائیں گے۔غزہ میں جانی نقصانات پر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں موجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات منسوخ کردی گئیں۔ غزہ میں فلسطینیوں کے جانی نقصان کے سوگ میں تقریبات منسوخ کی جارہی ہیں، اس مرتبہ کرسمس روایتی سجاوٹ، روشنیوں اور کرسمس ٹری کے بغیر سادگی سے منائی جائے گی اور صرف دعائیہ و مذہبی تقریبات ہوں گی۔ کرسمس پر غزہ میں جنگ کے متاثرین کیلئے دعائیہ اجتماعات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔بیت لحم میونسپلٹی کے عملے نے مختلف علاقوں میں پہلے سے کی گئی سجاوٹوں کو بھی ہٹادیا ہے۔
نگران وزیر اعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے قراردیا ہے کہ صوبوں کو واجب الادا ادائیگیوں کو بروقت یقینی بنایا جائے تاکہ صوبوں کے اندر ترقیاتی کاموںمیں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور صوبے اپنے منصوبے مقررہ مدت کے اندر پورے کرسکیں۔گزشتہ روزصوبہ خیبرپختونخوا میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور شہدا کے اہل خانہ کی بہبود کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں نگران وزیراعظم کو ان مسائل کے سدباب کیلئے جاری آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں پن بجلی کے منصوبوں کی آمدن کی خیبرپختونخوا کوادائیگی پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، جس پر نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ تمام صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے، وفاقی حکومت خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبوں کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔ ملک میں آبی اور پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائے، اجلاس میں نگران وزیراعظم کو خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ نیزنگران وزیراعظم نے زرمک میں آئی ڈی ای حملے میں شہید ہونے والے 2 اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ملک کی بقا کی خاطر قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہدا اور ان کے اہلِ خانہ پر فخر ہے۔ واضح رہے کہ دھماکے کے نتیجے میں دو سپاہی لانس نائیک احسان بادشاہ اور لانس نائیک ساجد حسین شہید ہو گئے۔دریں اثناءنگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے سے کاظم اچکزئی کی سربراہی میں بلوچستان کی زمیندار ایکشن کمیٹی کے 15 رکنی وفد نے ملاقات کی۔
اداریہ
کالم
حماس اسرائیل جنگ بندی اہم پیشرفت
- by web desk
- نومبر 24, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 905 Views
- 2 سال ago

