کالم

حکومت آئی ایم ایف پروگرام کیلئے پُرعزم

پاکستانی معیشت قرضوں میں جکڑی ہے ہم نے سعودیہ عرب ،عوامی جمہوریہ چین ، ترکیہ ، متحدہ عرب امارات سے طویل المدت قرضے حاصل کر رکھے ہیں جو ملکی دفاعی اور دیگر فلاحی منصوبوں میں خرچ کئے گئے ، اب ملک کے معاملات چلانے کیلئے آئی ایم ایف کی بیل آوٹ پروگرام کے تحت قرضے حاصل کرنے پڑتے ہیں ، پاکستان میں ایسے ا فراد کی کمی نہیں جو خود اربوں ڈالر کے مالک ہیں اگر وہ ہی اپنا سرمایہ پاکستان لاکر سٹیٹ بینک یا نیشنل بینک میں صرف پانچ سال کیلئے رکھ دیں تو ہم قرضوں کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ،تاہم وہ ایسا نہیں کرتے جس کی بنا پر ہمیں ایک ارب ڈالر کی بھیک مانگنے کیلئے مختلف دروازوں پر کشکول اٹھا کر جانا پڑتا ہے ، وطن سے محبت کے دعوے صرف زبانی ،کلامی جمع خرچ کی حد تک ہے ،تاہم اس طرح عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے ، اخباری اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے کوٹے کے حساب سے بڑا پروگرام لینے کی کوشش کرے گا۔ ملکی تاریخ کا سب سے طویل مدت کا پروگرام لینے کے خواہاں ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام میں تسلسل سے ہی معاشی نظم و ضبط رہے گا۔ معیشت کی بہتری آئی ایم ایف سے زیادہ ہماری حکومت کا ہدف ہے۔ آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں۔آئی ایم ایف نے موجودہ پروگرام کی آخری قسط میں 1.1 ارب ڈالردینے ہیں۔ آئی ایم ایف کے نئے قرض پروگرام کا ابتدائی خاکہ تیار کر رہے ہیں۔ معاشی استحکام آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کا مشترکہ ہدف ہے۔ قرض پروگرام کے ساتھ ماحولیات کی فنڈنگ پر بھی بات ہوسکتی ہے۔ ماحولیات کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف کچھ ممالک کو کوٹے سے زیادہ قرض دیتا رہا ہے۔ معیشت کی بہتری کے لیے نگراں حکومت نے اچھا کام کیا ہے۔ ٹیکس آمدن کو ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرنا چاہتے ہیں۔ ٹیکس نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ قومی آمدنی میں ٹیکسوں کا حصہ 10 فیصد تک پہنچانا چاہتے ہیں، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف پروگرام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے اہم مذاکرات کیلئے جلد رسمی درخواست کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال مشکل ثابت ہوگا۔ پاکستان کے آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول مذاکرات رواں ہفتے شروع ہو جائیں گے۔اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے استعمال کریں گے۔ادھر وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اور نگزیب کی زیر قیادت پاکستان کا وفد 15 سے 20 اپریل تک امریکا کا دورہ کریں گے۔ وفد میں وزیر خزانہ کے ہمراہ گورنر اسٹیٹ بینک، سیکرٹری خزانہ اور سینئر حکام بھی شامل ہوں گے۔یہ وفد دورہ امریکا کے دوران واشنگٹن میں 17 سے 19 اپریل کے دوران ہونے والے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ وزارتی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پاکستانی شہریت دوبارہ حاصل کرنے کی درخواست منظور کرلی جب کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نجی بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور صدر کے عہدے سے بھی استعفی دے دیا،دوسری جانب امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق جے پی مارگن کے سابق بینکر محمد اورنگ زیب کی پاکستانی وزیر خزانہ کے طور پر تعیناتی مثبت فیصلہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے نئے پروگرام سے پہلے محمد اورنگ زیب کی تعیناتی مثبت اقدام ہے، سرمایہ کاروں کی دلچسپی پاکستان کے نئے وزیر خزانہ کی تعیناتی میں تھی۔بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنوکریٹ کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی پاکستان کو درپیش چیلنجزکو حل کرنے میں مدد گار ہوگی، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں وزیر خزانہ کا کردار کلیدی ہوگا۔بلوم برگ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کو بطور وزیراعظم قرض دینے والے عالمی اداروں سے بات چیت کرنے کا تجربہ ہے، ان کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ اصلا حات کر سکتے ہیں ۔
آئی ٹی کے حوالے سے جائزہ اجلاس
نئی حکومت آئندہ پانچ سال کیلئے اپنی پالیسیاں ترتیب دینے میں مصروف ہے، اسی حوالے سے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ احد خان چیمہ، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، گورنر اسٹیٹ بنک جمیل احمد، شہزاد سلیم اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی،اجلاس کو ملک میں آئی ٹی شعبے کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. اجلاس میں وزیرِ اعظم کو جون 2023 میں وزیرِ اعظم کی جانب سے دیئے گئے 5 ارب کے آئی ٹی پیکیج پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ دورِ حکومت میں وزیرِ اعظم کی خصوصی توجہ کی بدولت آئی ٹی شعبے کی برآمدات میں گزشتہ برس کے مقابلے رواں برس کے پہلے 7 ماہ میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ڈیجی-اسکلز پروگرام کے تحت اس وقت 17 بیچز میں تقریباً 40 لاکھ طلباءو طالبات کو آئی ٹی کی ٹریننگ دی جا چکی ہے جس میں 28 فیصد تعداد خواتین کی ہے. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ فری لانسزر کی تعداد کے حوالے سے پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے. پاکستان اپنی آئی ٹی مصنوعات 170 ممالک کو برآمد کرتا ہے،اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس، پاکستانی اسٹارٹ اپس میں 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی. وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کیلئے تمام ضروری قانونی و پالیسی اقدامات اٹھائے جائیں. وزیرِ اعظم نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے نوجوانوں کی پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت کے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے،اجلاس کو آئی ٹی، ای روزگار، اسٹارٹ اپس، سایئبر سکیورٹی، ٹیلی کام سیکٹر اور ملک میں 5-جی کے اجراءپر پیش رفت و اقدامات سے آگاہ کیا گیا. وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ملکی آئی ٹی برآمدات میں اضافے کیلئے ایک واضح روڈ میپ بنا کر پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں ارفع کریم ٹاور 2 کی منظوری د یتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر سے بہترین آئی ٹی کمپنیوں کو آئی ٹی سٹی میں بزنس کے مواقع فراہم کریں گے، پنجاب سمیت پاکستان بھر کے طلبہ کے لئے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے کیمپس بنائیں گے۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سی ای او سی بی ڈی عمران امین نے آئی ٹی سٹی اور لاہور نالج پارک پراجیکٹ کے بارے میں بریفنگ دی۔ مریم نواز نے لاہور میں 21 منزلہ ارفع کریم ٹاور ٹو بنانے کی اصولی منظوری دیدی، لاہور میں آئی ٹی، ایجوکیشن اور فلم سٹی پراجیکٹ کا آغاز جلد ہوگا، مائیکروسافٹ،اوریکل اور دیگر بڑی کمپنیوں نے آئی ٹی سٹی لاہور کیلئے آمادگی ظاہر کر دی۔ وزیراعلی نے چین کی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کو آفس بنانے کیلئے مدعو کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے بہترین آئی ٹی کمپنیوں کو آئی ٹی سٹی میں بزنس کے مواقع فراہم کریں گے، پنجاب سمیت پاکستان بھر کے طلبہ کےلئے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے کیمپس بنائیں گے۔ مریم نواز نے ایجوکیشن سٹی میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کرنے کےلئے فوری رابطوں کی ہدایت کی اور لاہور نالج پارک اور آئی ٹی سٹی کے قیام کیلئے پلان کی ڈیڈ لائن بھی مقرر کر دی۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور میں فری وائی پائلٹ پراجیکٹ کا بھی جائزہ لیتے ہوئے پراجیکٹ کی منظوری دے دی۔ شہرمیں 10 مقامات پر فری وائی پراجیکٹ کا آغاز دو ہفتے میں کر دیا جائے گا، صوبائی دارالحکومت میں 516مقامات پر فری وائی فائی پوائنٹس بنائے جائیں گے، تعلیمی اداروں، ایئرپورٹ، ریلوے سٹیشن اور بس سٹینڈ پر ترجیحاً فری وائی فائی شروع کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی مشیر پرویز رشید، وزیر اطلاعات و ثقافت عظمی بخاری، ایم پی اے ثانیہ عاشق نے شرکت کی، چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری ہاوسنگ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، چیئرمین پی آئی ٹی بی اوردیگرمتعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے