کالم

خطرات میں گھِرا پاکستان اور ملک دشمن قوتیں

31جنوری 2026ہفتہ کے روز کا بلوچستان میں ہونیوالے دہشتگردی کے تازہ ترین واقع کو ہی لے لیا جائے تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ارض وطن ایک مختصر سے وقفے کے بعد ایک بار پھر خطروں سے ایسے دوچار ہو چکا ہے جیسے گِدھ اپنے شکار کے ارد گرد منڈلا رہے ہوتے ہیں ۔ ان خطرات کا زکر کرتے ہوئے ہم نے” ایک مختصر وقفے ” کا جو لفظ استعمال کیا وہ اس لئے کیا کہ پچھلے سال پاکستان اور بھارت کی درمیان ہونے والی چار روزہ مختصر مگر فیصلہ کن جنگ جیتنے کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کی جو پزیرائی ہوئی اور پاکستان کی عسکری طاقت کی جو دھاک صرف بھارت ہی نہیں سپر پاور امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں پر بھی بیٹھی اس کے بعد پاکستان میں بھارت اسرائیل کی طرف سے ہونیوالے دہشتگردانہ واقعات قریبا”رک سے گئے تھے مگر ان دہشتگردانہ واقعات کا سلسلہ 31جنوری کے روز سے پھر سے دوبارہ شروع کردیا گیا ہے اور یہ سلسلہ کسی ایک شہر کا نہیں بلکہ بیک وقت گیارہ شہروں میں شروع کیا گیا ہے جس میں متعدد ہلاکتیں تو بتائی کہ گئیں ہیں مگر اس سے کہیں زیادہ تعداد میں یعنی ساٹھ سے زائد بی ایل اے کے دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ ریڈ زون میں ایک خودکش دھماکے کی خبریں بھی بمعہ فوٹیج کے سوشل میڈیا پر چلتی دیکھی گئیں ہیں ۔یہ بی ایل اے بلوچستان کی وہی علیحدگی پسند تنظیم ہے جس نے گزشتہ سال جعفر ایکسپریس پر بھی بڑا حملہ کر کہ بیسیوں مسافروں کو شہید کر دیا تھا ۔دوسری طرف افغانستان کی طرف سے تو خطروں کی ایک باقاعدہ اور منظم لڑی سی پیرو دی جا چکی ہے جہاں سے پاکستانی علاقوں میں بھارتی فنڈڈ دہشتگردوں کی آنیاں جانیاں معمول بن چکا ہے اور اس حوالے سے ضلع خیبر کا علاقہ تیراہ ٹی ٹی پی کا مرکز بنا بتایا جاتا ہے ،اسی طرح پاکستان کی مشرقی سرحدوں کے علاہ آزاد کشمیر سے ملحقہ مقبوضہ کشمیر پر بھی جو بھارتی قبضے میں ہے پر نگاہ ڈالی جائے تو یہاں سے بھی اڑدھا کی طرح منہ پھاڑے خطرات ہمہ وقت دکھائی دیتے رہتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر خطرات میں گھِرا پاکستان کیسے زندہ ہے یا کیسے اپنی بقا کے تحفظ کو یقینی بنارہا ہے تو اس مشکل ترین بلکہ گھمبیر ترین سوال کا جواب اتنا ہی سادہ اور آسان ترین ہے اور یہ کہ اس مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت خود رب پاک کر رہا ہے اور جس نے اس کار نیک کا زریعہ افواج پاکستان کو بنا رکھا ہے جس کے جری باہمت وطن کے دفاع پر مر مٹنے والے سرفروش سپاہی اپنے سینوں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں لیکن مقام افسوس ہی نہیں مقام دکھ و الم بھی ہے کہ ملک کا ایک مخصوص سیاسی ٹولہ ان ہی سرفروشوں جاں نثاروں کو اسرائیل و بھارت کے ناپاک ایجنڈے کی تکمیل کی غرض سے ہمہ وقت تنقید کا نشانہ بنانا اپنا فرض سمجھتا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں یہ ٹولہ اپنی ان مذموم کوششوں حرکتوں سے خالی گزارتا ہو ۔ بلوچستان کی صورتحال ہو یا تیراہ سمیت دیگر قبائلی اضلاع کے مسائل کی بات ہو یہ ملک دشمن ٹولہ ملک اور ملکی دفاعی اداروں کے خلاف غلاظت بکتا رہتا ہے اور تیراہ کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار سلامتی کے اداروں کو ٹہرا کر خود بری الزمہ ہونا چاہتا ہے ۔آج یکم فروری کو اتوار کے روز وزیر اعلیٰ’پختونخواہ سہیل آفریدی نے جمرود میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ بدمزہ دلیل دیتے ہوئے کہا تیراہ کی پہاڑیوں پر تیس پینتیس سے زیادہ چیک پوسٹس ہیں جن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران جوان چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں تو وہ ان اداروں سے پوچھتے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے ٹی ٹی پی والے کیسے سرحد پار کر کہ تیراہ یا دوسرے راستوں سے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لہٰذا تیراہ میں جو دہشتگرد داخل ہوئے اس کی ذمہ داری ان سیکیورٹی اداروں پر عائد ہوتی تو جہاں تک وزیر اعلی’ پختونخواہ کے اس سوال کے جواب کا تعلق ہے تو یہ جواب دینا گو کہ سیکیورٹی اداروں ہی کا کام ہے کیونکہ آفریدی صاحب نے سوال بھی ان ہی سے کیا جو یقینا”آئیگا اور ضرور آئیے گا لیکن سیکیورٹی اداروں کے جواب سے پہلے ہم بھی اس سوال کا جواب سیاہی خشک ہونے سے پہلے بحیثیت ایک محب وطن صحافی کے آفریدی صاحب کو یہ دینا چاہتے ہیں کہ ان کا یہ سوال فوج سے بنتا ہی نہیں بلکہ ان کا یہ سوال ان سے بنتا ہے جو پچھلے دور حکومت میں ان ٹی ٹی پی کے ہزاروں دہشتگردوں پاکستان واپس لیکر آئے اور انہیں تیراہ کے علاہ دیگر قبائلی علاقوں میں بسایا بھی ۔آب ان لوگوں کو کون واپس لے کر آیا اور کس نے ان کو یہاں بسایا یہ سہیل آفریدی صاحب خود بہت بہتر طریقے سے جانتے ہیں لہٰذا ان کیلئے بہتر یہی ہوگا کہ اس قسم کا بچگانہ سوال یا بچگانہ دلیل وہ دوبارہ کسی سے کریں نا ہی دلیل دینے کی حماقت کے مرتکب بنیں بلکہ بنیں تو صوبے کے وزیر اعلیٰ’بننے کی کو شش کریں جس کیلئے صوبے کے عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دئیے ہیں اور وزیر اعلیٰ’ٰچاہے بانی پی ٹی آئی جسے بھی بنائیں انہیں بھی چاہئے کہ وہ اپنے وزیر اعلیٰ’کو صوبے اور صوبے کے عوام کے مسائل مشکلات کے حل کے احکامات جاری کریں نا کہ اپنی رہائی کیلئے وزیر اعلیٰ’کا انتخاب عمل میں لائیں۔یہاں ہمیں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی یہ بات یاد آگئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ’قیدی 804نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ’خیبر پختونخوا ہیں لہٰذا انہیں عوام کی میڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اپنی توانائیاں عوامی مسائل کے حل میں صرف کرنی چاہئیں مگر وہ بانی پی ٹی آئی کے سوا اور کسی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی نہیں چاہتے چاہئے غلطی سے ہی کیوں نا اٹھائیں نظر ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے