دنیا میں ہر طرف امت مسلمہ پریشانی سے دوچار ہے ۔عالم اسلام کے افق پر جتنے سیاہ بادل آج چھائے ہوئے ہیں اور جو گھمبیر مسائل آج امت مسلمہ کو درپیش ہیں اسلامی تاریخ میں شاید پہلے کبھی نہ تھے ۔تیرہویں صدی سے رفتہ رفتہ زوال و تنزل کا شکار مسلم تاریخ آج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اسلامی ممالک اپنی خود مختاری اور سالمیت کیلئے بھی اپنے دشمنوں کے مرہون منت ہیں ۔تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک ایران ،امریکہ ،اسرائیل جنگ سے قبل یہی سمجھتے رہے کہ کسی بھی شکل میں امریکہ انہیں تحفظ دے گا اور امریکی اڈے اور تحفظ ان کی مجبوری تھی مگر امریکہ نے اربوں ڈالر ان تمام ممالک سے بٹورے اور جنگ میں انہیں تنہا چھوڑ کر ثابت کر دیا کہ وہ ان ممالک کی حفاظت سے نہیں ان کے مال میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ ممالک مجبور ہیں ۔قدرت کے عطا کردہ وہ تمام معدنی ذخائر اور خزانوں کے باوجود ہم ذلت ورسوائی کے گھڑے میں دھنسے ہوئے ہیں ۔اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ارب سے زائد ہے ۔دنیا کی 40اہم بندرگاہوں میں سے 13مسلم ممالک کے پاس ہیں ۔تیل پیدا کرنے والے بڑے 17ممالک میں 14مسلم ہیں ۔گیس کے دس بڑے ذخائر میں سے 5مسلم ممالک کی ملکیت ہیں ۔یورینیم کے بڑے ذخائر رکھنے والے 7ممالک میں مسلم ممالک کی تعداد 4ہے مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس قدر وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجودمسلمان ممالک اتنے بے بس اور کمزور کیوں ہیں ؟مسلم ممالک میں ایران واحد ملک ہے جو دہائیوں سے لگی پابندیوںاور اسرائیل امریکہ حملوں کے باوجود ابھی تک اپنی آزادی و خود مختاری کی جنگ میں کوئی لغزش نہیں دکھا رہا ۔دوسرے مسلم ممالک تو جی حضوری میں کھڑے ہیں ۔ایران پر امریکی حملہ کے جواب میں ایرنی قوم نے باوجود اتنی شہادتوں اور بمباری کے بہادری کی ایک نئی داستان لکھی ۔ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں کے مصداق امریکہ کو پیچھے ہٹنے کی باعزت راہ نظر نہیں آرہی۔غور طلب امر یہ ہے کہ آخر امریکہ نے کس منصوبے کی تکمیل کیلئے ساری دنیا کو میدان کارزار بنایا ہوا ہے اس کو سمجھنے کیلئے ہمیں ماضی میں جانا اور امریکن پالیسی کا مشاہدہ کرنا پڑے گا ۔ 14اپریل1988ء کو دو عالمی طاقتوں میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے واضع طور پر اپنی فوجی ،سیاسی و اقتصادی حکمت عملی میں تبدیلیوں کا اعلان عالمی طور پر کیا ۔ 17 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور گرائے جانے کے بعد اس حکمت عملی کو مزید تقویت ملی ۔اسی حکمت عملی کے تحت امریکہ نے اب تک کسی ملک کو فوجی طاقت بننے کی اجازت نہیں دی ۔عراق اور ایران 1988ء کے بعد امریکہ کیلئے اصل ہدف تھے کیونکہ ان ممالک کی فوجی طاقت کو امریکہ اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا تھا ۔لہذا امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے اکتوبر 1990ء عراق کے خلاف کامیابی کے بعد ایک نیا عالمی اعلان کیا اس میں عراق کے ساتھ ایران کو بھی اپنے ٹارگٹ لسٹ میں شامل کر لیا اور کہا کہ ایران ،عراق سمیت جس ملک نے بھی فوجی طاقت بننے کی کوشش کی اور امریکی مفادات کے خلاف کام کیا تو ایسے ممالک کو سبق سکھایا جائے گا ۔جارج بش نے ان افتتاحی کلمات کے ذریعے نیو ورلڈ آرڈر کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضع کیا اور اپنے اغراض و مقاصد کا اظہار کیا اور بنیادی طور پر نیو ورلڈ آرڈر کواسلحہ کی تخفیف اور بین الاقوامی امن کے قیام کی پالیسی قرار دیا ۔اسی خطاب میں امریکی صدر نے نئی سامراجی حکمت عملی کے مندرجہ ذیل چھ نکات بھی پیش کئے ۔(1) دنیا کے ہر ملک کو اپنی موجودہ جغرافیائی سرحدوں کیلئے دفاع کیلئے جتنی فوج درکار ہے اسے صرف اتنی فوج اور دفاعی قوت رکھنے کی اجازت دی جائے گی ۔2۔کسی ملک کو اپنی دفاعی اور فوجی قوت بڑھانے اقوام متحدہ کی رضا مندی لینا لازمی ہو گا ،یعنی اقوام عالم کے باہمی مشورے اور رضا مندی کے ساتھ کوئی ملک اپنی فوجی قوت میں اضافہ نہ کر سکے گا ۔3۔ایٹمی ہتھیار ممکنہ طور پر ختم کر دئیے جائیں گے اور دیگر تباہ کن ہتھیار بھی ضائع کر دئیے جائیں گے ۔مذکورہ تینوں نکات امریکہ کی حکمت عملی سے متعلق ہیں گویا اس نے اسی حکمت عملی کے تحت اب تک تمام اسلامی ممالک پر اپنی فوجی قوت نہ بڑھانے کی پابندی عائد کی ہوئی ہے اور تباہ کن ہتھیاروں کی ترسیل اسلامی ممالک کو بند کر دی جبکہ اس کے اپنے اور دوست ممالک میں ایٹمی ہتھیار ،تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔4۔کسی ملک میں سیاسی دائرہ کار سے متعلق کسی قسم کی تبدیلی ،باضابطہ اور سیاسی طریقوں یعنی جمہوری انداز سے ہٹ کر نہ لائی جائے ،گویا سب ملکوں میں جمہوریت کو فروغ دیا جائے گا ۔5۔حکومتی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ اس ملک کے عوام کی مرضی سے کیا جائے گا ۔کوئی حکومت یا فرد واحد اپنے ملک کی سیاسی یا حکومتی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ اس ملک کے عوام کی مرضی سے کیا جائے گا ۔کوئی حکومت یا فرد واحد اپنے ملک کے سیاسی یا حکومتی نظام میں تبدیلی کا مجاز نہیں ہو گا ۔نکات 4اور 5عالم اسلام کیلئے امریکہ کی سیاسی حکمت عملی ہے یعنی ایسی کوئی بھی حکومت قابل قبول نہیں ہو گی جو امریکی مفادات کے منافی ہو اور جمہوریت کا وہ نظام رائج ہو گا جس میں پری پول رگینگ بھی کی جا سکے ۔ایسا نظام جس میں امریکی دسترس ہو ۔سامراجی حکمت عملی کا چھٹا نکتہ بین الاقوامی اقتصادی پالیسی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تجارت بین الاقوامی مارکیٹوں اور مراکز پر کسی کا تسلط نہیں ہو گا ۔ہر ملک کو اپنی تجارتی اشیاء ان منڈیوں میں لے جانے کی اجازت ہو گی ۔یہاں بین الاقوامی منڈی سے مراد امریکہ کی مرضی ہے کیونکہ بین الاقومی منڈیوں کی تمام پالیسیاں امریکہ کے اختیار میں ہیں ۔بین الاقوامی سٹاک ایکسچینج انفارمیشن ٹیکنالوجی ،اجناس ،کرنسیوں سمیت گندم بونے ،تیل خوردنی سمیت سینکڑوں اشیاء ہیں جن کی قیمتوں میں اتار چڑھائو امریکی ماہرین کی انگلیوں کا کھیل ہوتا ہے ۔1990ء کے بعد آج تک امریکہ نے اپنے پیش کردہ ورلڈ آرڈر پر عمل بھی کیا ہے ۔امریکہ نے اپنے مستقبل کے تحفظ اور مفادات کیلئے اپنے اتحادیوں کو استعمال کیا اور فوجی اتحاد کے ذریعے افغانستان اور عراق پر قابض ہوا ۔عرب مسلمان ممالک کو تباہ کن ہتھیار فروخت نہیں کئے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں اسرائیل کو تباہ کن ہتھیاروں کی ترسیل کی گئی اور اسے جوہری قوت بنا دیا گیا ۔خلیجی ممالک کی دولت کی تقسیم کیلئے ایک بنک تعمیر نو قائم کیا گیا ہے جسے خلیجی ممالک ہی چلا رہے ہیں لیکن اس کی پالیسی اور نگرانی کا کام انگلینڈ اور فرانس کے پاس ہے ۔امریکہ نے ایسی پالیسی رواں رکھی ہوئی ہے کہ عرب ممالک سمیت ان اسلامی ممالک میں نظام حکومت تبدیل کرا دیا جاتا ہے جو امریکی مفادات اور پالیسیوں کے خلاف کام کرتی ہیں اور ان ممالک میں امریکی سی آئی اے سر گرم ہو جاتی ہے ۔مشرق وسطیٰ کی تہذیب و ثقافت کو امریکہ نے تبدیل کیا ہے ۔ایران ہی وہ واحد اسلامی ملک تھا جو امریکہ کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ تھا ۔ایران پر حالیہ حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ۔ایک طرف امریکہ کی حکمت عملی ایران میں رجیم چینج تھا جس کے حصول میں وہ مکمل طور پر ناکام رہا ۔دوسری طرف جوہری ہتھیار بنانے کا جواز تھا لیکن ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد مشرق وسطیٰ کے ممالک پر امریکی تسلط مضبوط بنیادوں پر قائم کرنا ،چین کے ابھار کو روکنا اور ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے مقامات کے تحت چلنے والی امریکی خارجہ پالیسی کو امریکی عالمی تسلط قائم رکھنے کیلئے استعمال کرنا ہے ۔بادی النظر میں اگر امریکہ یہ سب کچھ چین کا ناطقہ بند کرنے کیلئے کر رہا ہے لیکن چین کی معیشت پر تو اس کا کچھ اثر نہیں پڑا ۔اس سے قبل امریکہ نے وینز ویلا کے صدر کو گرفتار کیا اور وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا تو بھی یہ کہا گیا کہ ٹرمپ نے یہ سارا جتن چین کو تیل کی سپلائی روکنے کیلئے کیا ہے لیکن چین پر تو اس کا کوئی منفی اثر نہیں ڈالا جا سکا الٹا چین نے ایران کے خلاف خلیجی ممالک کی قراردار کو ویٹو کر کے ایران کیلئے امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کی راہ ہموار کی ۔امریکہ جسے اپنے عالمی سامراجیت و بالا دستی کی بدولت ناقابل شکست طاقت کا تصور حاصل ہے ہو سکتا ہے یہ جنگ اس تاثر کے خاتمے کا آغاز بن جائے ۔بہر حال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دبائو میں امریکی برتری کو بھی اسرائیل نوازی کے سبب قربان کر دیا ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ امریکہ سے اس کے نیٹو اتحادی بتدریج الگ ہو رہے ہیں اور اس طرح ایک نیا ورلڈ آرڈر وجود میں آنے کے قوی امکانات پیدا ہو رہے ہیں ۔

