کالم

دو وقت کی روٹی اور پاکستانیت کی کہانی

آج پاکستان جس سنگین دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں سے واپسی کی تمام راہیں دھندلا چکی ہیں۔ ایک طرف معاشی زوال کی چکی میں پستی ہوئی عوام ہے، تو دوسری طرف اخلاقی پستی کا وہ گہرا گڑھا ہے جس میں ہم اپنی اجتماعی غیرت کو دفن کر چکے ہیں۔ آج ہماری قوم کی ترجیحات کا المیہ کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ یہ المیہ اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے جب ہم معاشرے کے دو متضاد اور تلخ چہروں کا موازنہ کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ محنت کش باپ ہے جو اپنے بچوں کیلئے اپنی روح تک نچوڑ رہا ہے، اور دوسری طرف وہ سوشل میڈیا کا لغو تماشا ہے جس میں مومنہ، چدھڑ اور اس نوعیت کے دیگر کردار ہماری توجہ کا محور بنے ہوئے ہیں۔ یہ تضاد محض ایک معاشرتی واقعہ نہیں، بلکہ ہماری قوم کی فکری موت کا پروانہ ہے۔آئیے پہلے اس پاکستان کی بات کریں جو میڈیا کے کیمروں کی چمک دمک اور سوشل میڈیا کے الگورتھمز کی آنکھ سے مکمل طور پر اوجھل ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جہاں گجر افضل خان جیسے لاکھوں لوگ آباد ہیں۔ یہ وہ باپ ہیں جو صبح سورج نکلنے سے پہلے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اور رات کے گہرے اندھیروں میں خالی ہاتھ، مگر امید کا دامن تھامے لوٹتے ہیں۔ گجر افضل خان کی پوری زندگی اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی اور ایک پروقار مستقبل کے خواب میں لپٹی ہوئی ہے۔ وہ اپنی عزتِ نفس کو دا ؤپر لگا کر ہر جائز اور محنت طلب کام کرتا ہے۔ اسکے لیے قوم کی اصل ترجیح وہ روٹی کا ٹکڑا ہے جو اس کے بچوں کا پیٹ بھر سکے ۔اب ذرا دوسری طرف دیکھیے، جہاں ایک ایسا پاکستان بھی ہے جو محض لائیکس اور ویوزکی بھوک میں مبتلا ہے۔ سوشل میڈیا پر آج کل جو مومنہ، چدھڑ یا اس طرح کے دیگر معاملات گردش کر رہے ہیں، وہ درحقیقت ہماری اجتماعی فکری شکست کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔ یہ لوگ اپنی نجی زندگیوں کو، اپنے تنازعات کو اور اپنی اخلاقی گراوٹ کو ایک پروڈکٹ کی طرح بازار میں بیچ رہے ہیں۔ اور ہم نے گجر افضل خان کے دکھ اور اس کے پسینے کی قدر کو بھلا کر، ان تماشہ گروں کو اپنی روزمرہ کی بحثوں کا محور بنا لیا ہے۔ کیا یہ مومنہ یا چدھڑ کا معاملہ واقعی اتنا اہم ہے کہ اس پر قومی سطح پر مباحثے ہوں؟ سچ تو یہ ہے کہ ہماری ترجیحات پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے تعلیم، تحقیق اور معاشی بہتری کو چھوڑ کر دوسروں کی کردار کشی اور تماشہ بینی کو اپنا مشغلہ بنا لیا ہے۔ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ اگر ہم واقعی پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں گجر افضل خان جیسے لوگوں کے دکھ کو اپنا دکھ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی ترجیحات کو بنیادی سطح سے بدلنا ہوگا۔ سوشل میڈیا کے الگورتھم کی اس خطرناک غلامی سے نکل کر ہمیں ان حقیقی مسائل پر بات کرنی ہوگی جو ہماری بقا سے جڑے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا کے ان تماشہ گروں کا سخت احتساب ہونا چاہیے۔ جو قانون اخلاقی حدود پامال کرنے والوں کیلئے ہے، اسے سخت سے سخت ہونا چاہیے۔ جب تک ہم ایسے مواد کو ویو کرنا یا اسے اہمیت دینا بند نہیں کریں گے، تب تک یہ تماشا جاری رہے گا۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں کیا دیکھنا ہے اور کیا مسترد کرنا ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو سکھانا ہوگا کہ زندگی کا مقصد ‘مشہور ہونانہیں بلکہ مفید ہوناہے۔ ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر دکھنے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک مصنوعی دنیا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف ہمارے وقت اور ہماری توجہ کو ضائع کرنا ہے۔ہماری نوجوان نسل، جو اس ملک کا اثاثہ ہے، وہ ان فضول مباحثوں اور کلچر کی نذر ہو رہی ہے۔ معاشرتی اقدار کا پاس نہ رکھنا، دوسروں کی عزتِ نفس کا تماشا بنانا اور ہر چیز کو مادیت کی آنکھ سے دیکھنا، یہ سب علامات ہیں کہ ہم اپنی جڑوں سے کٹ چکے ہیں۔ گجر افضل خان جیسے لوگ تو اپنی محنت سے رزق حلال کما کر پاکستان کا پہیہ چلا رہے ہیں، لیکن ہم سوشل میڈیا کے ان تماشوں میں پڑ کر اپنی صلاحیتیں ضائع کر رہے ہیں۔ اگر آج ہماری ترجیحات درست ہو جائیں، اگر ہم ان تماشا گروں کو مکمل طور پر مسترد کر دیں، تو ہم دیکھیں گے کہ معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کسی دوسرے کے آنے سے نہیں، بلکہ ہماری سوچ کے بدلنے سے آئے گی۔ جب تک ہم ان کرداروں کو اہمیت دیتے رہیں گے، وہ اسی طرح اپنی سڑاند پھیلاتے رہیں گے۔ ہمارا بائیکاٹ ہی ان کیلئے سب سے بڑی سزا ہے اور ہمارا شعور ہی پاکستان کیلئے سب سے بڑی طاقت ہے۔تاریخ کبھی بھی تماشا بینوں کو معاف نہیں کرتی۔ اگر ہم آج نہیں جاگے، تو کل یہ آگ ہمارے اپنے گھروں تک پہنچ جائے گی۔ وقت آگیا ہے کہ ہم ان فضول، لغو اور اخلاق سوز مباحثوں سے باہر نکلیں۔ آئیے، مومنہ اور چدھڑ جیسے فرضی اور سستے کرداروں کو ان کی اوقات دکھائیں اور اپنی تمام تر توانائیاں، اپنی تمام تر توجہ گجر افضل خان جیسے ان محنت کشوں کے مسائل حل کرنے میں لگائیں جن کی وجہ سے آج بھی یہ معاشرہ کسی نہ کسی طور قائم ہے۔ ہمیں تماشہ گیر نہیں، ہمیں ایک زندہ، باشعور اور باوقار قوم بننا ہے۔ اور یہ سفر اسی وقت شروع ہوگا جب ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں گے، اللہ سے معافی مانگیں گے اور اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں گے۔ کیونکہ جو قوم اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کر سکتی، اسے تاریخ کے کوڑے دان میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ہماری یہ ترجیحات ہمیں کہاں لے کر جائیں گی؟ کیا ہم اسی طرح تماشہ دیکھتے رہیں گے جب تک کہ پورا معاشرہ اخلاقی طور پر کھوکھلا نہ ہو جائے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر پاکستانی کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ ہم نے اپنی ترجیحات کو جس طرح گمراہ کن راستوں پر ڈال دیا ہے، اس کا خمیازہ ہمیں معاشی تباہی اور سماجی انارکی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی اس مصنوعی دنیا نے ہمارے گھروں میں جو زہر گھول دیا ہے، اس کا ازالہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہم خود اپنے اندر تبدیلی نہیں لاتے۔ ہمیں گجر افضل خان کی محنت اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا اور ان تماشا گروں کو عبرت کا نشان بنانا ہوگا تاکہ معاشرے میں ایک بار پھر اخلاقیات اور اقدار کا بول بالا ہو۔آخر میں، یہ عہد کریں کہ اب ہم کسی تماشے کا حصہ نہیں بنیں گے، بلکہ ایک ایسی قوم بنیں گے جس کا ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتا ہو اور جس کی ترجیحات میں اللہ کی رضا اور وطن کی ترقی سب سے اوپر ہو۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں، اپنے ضمیر کو بیدار کریں اور ایک باوقار مستقبل کی جانب قدم بڑھائیں۔ کیونکہ اب وقت بہت کم ہے، اور ہماری بقا کا دارومدار صرف اور صرف ہماری اپنی ترجیحات کی درستی میں ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی ترجیحات کو درست نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اگر ہم متحد ہو کر اپنی ترجیحات کو بدل لیں، تو ہم یقینا ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں۔ آئیے، آج سے ہی اس سفر کا آغاز کریں اور سوشل میڈیا کی اس مصنوعی دنیا سے باہر نکل کر حقیقی زندگی کے مسائل پر توجہ مرکوز کریں۔ یہی ہماری کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ ہمیں تماشہ دیکھنے کی عادت ترک کر کے، اپنے کردار اور اپنی محنت کے ذریعے اس ملک کی تعمیر نو کرنی ہے۔ تب ہی گجر افضل خان جیسے لوگوں کو ان کا جائز مقام ملے گا اور تب ہی ہمارا معاشرہ دوبارہ انسانیت کی معراج پا سکے گا۔ یاد رکھیں، تبدیلی کی شروعات آپ کی اپنی سوچ سے ہوتی ہے، اور آج کا آپ کا فیصلہ ہی کل کے پاکستان کا مقدر طے کرے گا۔ اٹھئے، جاگئے اور تماشہ نہیں، تعمیر کا راستہ چنئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے