حالیہ دنوں میں پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا ہے، جس نے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں۔ حال ہی میں بلوچستان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے عسکریت پسندوں نے جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین کو اغوا کر لیا، جس میں 450 مسافر سوار تھے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے بعد اس بحران کا خاتمہ کیا، جس میں متعدد مسافر اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ تمام 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔اس سے قبل، نومبر 2024 میں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کیا گیا، جس میں بارود سے بھری گاڑی چوکی کی دیوار سے ٹکرائی گئی۔ اس حملے میں فوج کے 10 اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 2 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔ان واقعات کی پوری قوم شدید مذمت کرتی ہے اور معصوم جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے م¶ثر اقدامات کریں اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔افغانستان، جو ”وسط ایشیا کا دروازہ” کہلاتا ہے، جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے ہمیشہ اہم رہا ہے۔ 1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے نے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ میں مبتلا کر دیا۔ اس جنگ کے اثرات افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی گہرے مرتب ہوئے۔سوویت یونین کے حملے کے وقت پاکستان مشکل صورتحال سے دوچار تھا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے، اور افغانستان کی سرحدی اہمیت نے پاکستان کو اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ جنرل ضیاءالحق کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ اتحاد قائم کیا تاکہ سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کی جا سکے۔ پاکستان نے مجاہدین کو تربیت، اسلحہ، اور مالی امداد فراہم کی، جبکہ آئی ایس آئی نے مجاہدین کی تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔جہاد کے نام پر امریکہ اور سعودی عرب نے بڑی مقدار میں مالی امداد فراہم کی۔ یہ فنڈز مجاہدین کی تربیت، اسلحہ کی خریداری، اور جنگ کے دیگر اخراجات کے لیے استعمال ہوئے۔ پاکستان نے ان فنڈز کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا، اور جہادی لٹریچر کا بڑے پیمانے پر فروغ ہوا، جس نے نوجوان نسل کو جہاد کے لیے متحرک کیا۔سوویت یونین کے حملے کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ پاکستان نے ان مہاجرین کو پناہ دی، لیکن اس بحران نے پاکستان پر معاشی اور سماجی دبا¶ ڈالا۔ مہاجر کیمپوں میں صحت، تعلیم، اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی تھی، جس سے مسائل پیدا ہوئے۔1990 کی دہائی میں طالبان کی تشکیل ہوئی، جس نے افغانستان میں امن قائم کرنے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان نے طالبان کو فوجی اور سفارتی حمایت فراہم کی۔ طالبان نے 1996 میں کابل پر قبضہ کر کے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کی، لیکن یہ حکومت بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کی گئی۔اس کے بعد2001 میں 9/11 کے واقعات کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اتحاد قائم کیا، لیکن اس پالیسی نے پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات کو بڑھا دیا۔ نیٹو فورسز کی موجودگی کے باوجود افغانستان میں مکمل امن قائم نہ ہو سکا۔جنگ کے دوران افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں اضافہ ہوا، جو پاکستان اور دیگر ممالک میں پھیل گئیں۔ کلاشنکوف کلچر کا فروغ ہوا، جس سے پاکستان میں تشدد اور جرائم میں اضافہ ہوا۔سوویت یونین کے خلاف جنگ میں مجاہدین کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا، اور اچھے طالبان اور برے طالبان کی شناخت بھی سامنے لائی گئی۔اور اب ان کی شناخت فتنہ خوارج کے طور پر ہوئی۔ دہشت گرد گروہوں کی تشکیل ہوئی، جو پاکستان میں بھی سرگرم ہو گئے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا، لیکن فی الوقت ملک میں دہشت گردی کے خطرات کو بڑھ گئے ہیں۔2021 میں طالبان نے افغانستان میں دوبارہ اقتدار حاصل کیا۔ پاکستان نے طالبان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے، لیکن اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد، پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) نے پاکستان میں حملوں میں اضافہ کیا، جس سے سیکیورٹی صورتحال خراب ہوئی۔ اس وقت پاکستان کو مستقبل میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج ہے۔