وفاقی دارالحکومت کی مسجد میں ہونے والے خودکش حملہ نے بلاشبہ پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا، یہ سوال تسلسل کے ساتھ پوچھا جارہا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو وطن عزیز کو دہشت گردی اور انتہاپسندی کے عفریت سے مکمل طور پر نجات دلا سکتے ہیں ،باخبرحلقوں کی کہنا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد کو سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت نشانہ بنایا گیا، مثلا اس وقت ایران اور امریکہ میں کشیدیگی اپنے عروج ہے ، صدر ٹرمپ نے نہ صرف بحری جنگی بیڑے ایران کے قریب لاکھڑے کیے ہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کو بھی الرٹ کردیا ہے ، ایران اور امریکہ جاری مذاکرت کے پس منظر میں تہران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی امریکی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے تیار ہے ،حوصلہ افزا یہ ہے کہ باخبر حلقے درپیش چیلنجز پرسنجیدگی سے نگاہ رکھے ہوئے ہیں ، حالیہ دنوں میں مشرق وسطی کی سیاست میں پاکستان کو جو پذائری ملی ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی ، مثلا پاکستان فلسطین میں قیام امن کے لیے عرب دوست ممالک کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنے جارہا ہے ، اسلام آباد کی مسجد میں نمازیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کی مدد کرنے والوں میں ہمارا وہ پڑوسی پیش پیش ہے جسے گذشتہ سال پاکستان نے چند گھنٹوں میں ہی جنگ بندی کی اپیل پر مجبور کردیا ، بادی النظر میں وزیر اعظم پاکستان کا یہ کہنا کسی طور پر غلط نہیں کہ جو دشمن ہمیں کھلی جنگ میں شکست نہیں دے سکتا لہٰذا وہ اپنے مہروں سے ہمارے ہاں کشت وخون کا بازار گرم کررہا ہے ، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بی ایل اے جیسی دہشتگرد تنظیموں کی مدد و اعانت کا فریضہ جس طرح سرانجام دیا جا رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، ہمارے ہاں دہشت گرد کاروائیوں کے رونما ہونے کی ایک اور وجہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ بھی ہے مذکورہ معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ کسی ایک فریق پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائیگا،سوال یہ ہے کہ جاری دہشت گردی کی تازہ لہر کا سدباب کیونکر ممکن ہے ، ماہرین کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی و انتہاپسندی کے جن کو تب ہی قابو کیا جاسکتا ہے جب ریاست ، حکومت اور معاشرہ تینوں ملکر آگے بڑھیں ، یوں کثیر جہتی پالیسی کی تشکیل اہم ضرورت ہے،دراصل قیام امن کیلئے تمام اداروں کو زیرو ٹالرنس کی پالیس پر عمل کرنا ہوگا۔ حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے ہاں اچھے اور برے طالبان کی تمیز کا خاتمہ ہوچکا، نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق فوری اور ہنگامی بنیادوں پر عمل جاری ہے، وزیر اعظم شہبازشریف ہی نہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڈنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں چنانچہ ماضی کی طرح اس کا امکان ایک فیصد بھی نہیں کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی ترجیحات میں کسی بھی قسم کا اختلاف ہو ۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر نمٹایا جائے ، مثلاً پولیس ، پراسکویشن اور عدلیہ کو جدید تقاضوں سے یوں ہم آہنگ کرنا ہوگا کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے ، ہمارے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بھی اس الزام کا ازالہ کرنا ہوگا کہ وہ ماورا قانون ہی دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں، دوسری طرف پیغام پاکستان کی اہمیت وافادیت سے بھی انکار ممکن نہیں، ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان اور خبیر پختوانخواہ میں لسانی، سیاسی اور مذہبی دہشت گردی کو مخصوص بیانیہ سے منسوب کردیا گیا چنانچہ لازم ہے کہ پاکستان دشمنوں کو فکری محاذ پر بھی شکست فاش دی جائے، ہمیں پیغام پاکستان کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ آئندہ آنیوالی نسل انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے ہرقسم کے ابہام سے دور رہے ، ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ ہر بچے کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں ، جان لینا چاہے کہ احساس محرومی اور انتہاپسندی کا گہرا تعلق ہے تاریخ بتاتی ہے جب بھی کسی خاص طبقے یا علاقے کو نظر انداز کرنے کا رججان فروغ پاتا ہے تو اس کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے ، یاد رکھنا چاہے کہ غربت اور بے روزگاری دہشتگردی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں چنانچہ حکومت کو پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانیکے ٹھوس اقدمات کرنے ہونگے، سوشل میڈیا کے اس دور میں حکومت اور ریاست کو ہی نہیں عام پاکستانی کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ،مثلا ہم جانتے ہیں کہ کس طرح میڈیا جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانیکی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ لازم ہے کہ چھوٹی خبروں اور غلط بیانیہ کا موثر انداز میں توڈ کیا جائے ، حکومت ذمہ داروں کو اس حقیقت کا بھی برملا اعتراف کرنا ہوگا کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کیخلاف لڑنا محض قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا کام نہیں بلکہ حتمی کامیابی کیلئے عوامی حمایت لازمی درکار ہے،یاد رکھنا چاہے کہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ دنوں کی بات نہیں بلکہ اس لیے ٹھوس ، قابل عمل اور متفقہ پالیسوں پر تسلسل سے عمل کرنا ہوگا ، بصورت دیگر خدا ناخواستہ پاکستان منیرنیازی کے اس شعر کی تصویر بنا رہے گا کہ
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پارا اترا تو میں نے دیکھا
کالم
دہشت گردی کے خلاف ایک قوم ایک آواز
- by web desk
- فروری 11, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 12 Views
- 2 گھنٹے ago

