ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یادہانی کرواتا ہے کہ ہم ایسے دین کے پیروکار ہیں جس کے پیغمبرۖ کو رحمت العالمین کا لقب دیا گیا ، آسان الفاظ میں اس روشن حقیقت کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہم اس نبیۖ کے امتی ہیں جو دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھجیے گے ، رسول اللہ کا اسوہ حسنہ ہمیں پیغام دیتا ہے کہ آپ ۖ تمام عمر محض اپنوں کے لیے نہیں غیروں کے لیے بھی ہمہ وقت رحمت ثابت ہوئے، اس سچائی کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہوگا کہ آپۖ نے امن ہی نہیں غزوات میں بھی بلاوجہ خون بہانے سے ہمیشہ احتراز کیا، اس ضمن میں فتح مکہ کی روشن مثال دی جاسکتی ہے،اب سوال یہ ہے کہ کراہ ارض پر بسنے والے لاکھوں نہیں کروڈوں مسلمان کس حد تک اسوہ حسنہ ۖ پر عمل پیرا ہوکر نہ صرف اپنے کلمہ گو بھائیوں کے لیے ہی بلکہ دنیا بھر کے غیر مسلموں کے لیے مثالی نمونہ ثابت ہوسکتے ہیں، افسوس صد افسوس کہ ہم مسلمانوں میں سے بیشتر خالق کائنات کے اس حکم پر سچے دل سے عمل کرنے میں ناکام رہے کہ ” یقیناتمارے لیے رسولۖ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے” یقینا بطور مسلمان ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کیونکر اپنے طرزعمل سے خود کو ایسا کو ایسا فرد ثابت کرسکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں فلاحی معاشرے میں قیام میں معاون کا کردار نبھائے، دنیا آج گلوبل ویلج بن چکی ، آسان الفاظ میں اس حقیقت کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ عصر حاضر میں کسی ایک ملک میں ہونے والا خوشگوار یا پھر ناخوشگوار واقعہ دوسرے ملک ہی نہیں بلکہ کراہ ارض پر بسنے والے ہر فرد ہر اثرات مرتب کرتا ہے ، اس کی تازہ ترین مثال اسرائیل کی جانب سے فلسطینوں کا جاری قتل عام ہے ، آج مسلم دنیا سے کہیں زیادہ مغربی ممالک میں اسرائیلی ظلم وبربریت کے خلاف مظاہروں میں ہزاروں افراد کی شرکت برملا پیغام دے رہی کہ سیاست اور مذہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کا درد رکھنے والوں کی اقوام عالم میں ہرگز کمی نہیں ، مسلم معاشروں کی اخلاقی پستی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پیچاس سے زائد مسلمان ملکوں میں چند ہی کے ہاں مظلوم فلسطینوں کے حق میں مظاہرے ہوئے ، دین تو کہتا ہے کہ مسلمان ایک جسم واحد ہی طرح ہے جب جسم کے کسی ایک حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے قرار ہوجاتا ہے مگر اج کھلی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ غزہ میں بھوک اور قتل عام کے باوجود مسلم ریاستوں میں خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں ایا ، ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں عسیائیت کی طرح چرچ کی اتھارٹی کا تصور نہیں ، ہمارے دین نے ایسے کسی بھی مذہبی طبقے یا شخصیت کو فیصلہ کن اختیار نہیں دیا کہ وہ مذہب کے نام پر اپنے ہی جیسے انسانوں پر حکمرانی کرے ، اس کے برعکس قرآن وسنت کی تعلیمات کا نچوڈ یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں جو کوئی جیسا عمل کرے گا ویسا ہی قیامت میں اس کو صلہ ملے گا،آپ ۖ کی پوری زندگی پر طائرانہ نظر یہ بتانے کیلیے بہت کافی ہے کہ آپۖ نے آخرت کو دنیا کے مقابلے میں ہمیشہ ترجیح دی، سوال یہ ہے کہ بطور مسلمان ہم میں سے کتنے مرد وزن ایسے ہیں جن کے صبح وشام قیامت میں حساب کتاب کی فکر کرتے گزر بسر ہوتے ہیں یقینا بہت کم ، اس پس منظر میں ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں بطور مسلمان ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے ، کسی نے خوب کہا کہ ہمارے وقت کا استعمال ہی ہماری ترجیحات کا تعین کرتا یے ، مثلا ایسا نہیں کہ ہمارے پاس نمار، قرآن اور دیگر اسلامی احکامات پر عمل کرنے کا وقت نہیں اس کے
برعکس سچ تو یہ ہے کہ ہم دنیاوی امور کو یوں اہمیت دیتے ہیں کہ ہمارے دینی تقاضے پس پشت چلے جاتے ہیں، قرآن وسنت کے احکامات ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتے ہیں، درحقیقت وہ ہمارے لیے ایسے آئینہ کا کام کرتے ہیں جس میں ہم اپنے اعمال کا باخوبی جائزہ لے سکتے ہیں، ستم ظریفی ہے کہ آج اسلام دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ہے مگر خود بیشتر مسلمانوں کا طرزعمل کسی طور دینی احکامات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بادی النظرمیں بطور مسلمان ہم عبادات کو معاملات سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں،آسان الفاظ یوں کہ ایک خدا، ایک رسولۖ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں کی اکثریت اس احساس سے عاری ہے کہ اگر عبادات کے باوجود آپ کے گھروالے ، پڑوسی ، رشتے دار یا زریعہ معاش کی جگہ پر مو افراد آپ کے شر سے محفوظ نہیں تو پھر نماز روزے پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں، معاملات کی خرابی کی نمایاں مثال رمضان المبارک میں اشیا خرودونوش کے دام اچانک بڑھ جانا بھی ہے ، ہم جانتے ہیں کہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو افطاری کا سامان مہنگے داموں فروخت کرنے والے نہ صرف پورے روزے رکھتے ہیں بلکہ ان میں ہی کچھ صاحب ثروت رمضان کے آخری عشرے میں عمرہ ادا کرنے کی روایت پر بھی کاربند ہیں، بلاشبہ اصلاح احوال کے لئے ہمارے محراب ومنبر کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ، ربیع الاول کے اس بابرکت مہینے میں اہل مذہب کو عام مسلمانوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ عبادات کے سو فیصد نتائج اسی وقت حاصل کیے جاسکتے ہیں جب معاملات میں ایمان داری اور شفایت کو یقینی بنایا جائے ، درحقیقت قرآن کے ساتھ ساتھ سنت رسول ۖ کا واضح اور دو ٹوک پیغام بھی یہی ہے۔
کالم
ربیع الاول خود احتسابی کا درس دیتا ہے
- by web desk
- اگست 30, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 356 Views
- 6 مہینے ago

