کالم

زندگی اور ادب!

آج کا دور مشین کا دور کہلاتا ہے اس مشین نے انسان کو بہت مصروف بنادیا ہے اور مغرور بھی چونکہ مشین سے دو قسم کے لوگ وابستہ ہوتے ہیں ایک سرمایہ دار اور دوسرا مزدورسرمایہ دار ہمیشہ عیش میں مبتلا ہوتے ہیںاور وہ غرور کے جذبے سے بھی سرشار ہوتے ہیں اور مزدور ذہنی اذیت سے دوچار ہوتے ہیںاورمشین کی گراری کی طرح ان کی زندگی گرتی ہے اس وجہ سے مصروفیت ان کا مقدر ہوتی ہے مگر مریض عشق کی طرح دونوں میں بے خوابی کی قدر مشترک ہوتی ہے، پہاڑ جیسی رات میں دونوں ستارے گن گن کر صبح کا انتظار کرتے ہیں صبح ہوتی ہے تو مزدور بے چارہ مشین کی گڑگڑاہٹ میں مشینوں کی گراری یا کسی پرزے کی طرح چلنا شروع کر دیتا ہے اور سارا دن مشقت جھیلتا ہے اور پسینہ بھاتا ہے جبکہ سرمایہ دار کا دن آرام طلبی اور نوٹ گننے میں گزرتا ہے اور خوب کھاتا ہے اور اپنے بچوں کو کہلاتا ہے، اس کی قسمت میں کھانا پینا اور عیش ہے جبکہ مزدور کے بچے مختلف کھانوں کے سن کر اپنا پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور کچھ انتظار بھی اور صبر اور شکر بھی ۔ اور کچھ لوگوں کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ہم مزدور ہیں اور اس نے ان کو ”مصروف “بنا دیا ہے حالانکہ محسوس کرنے والے ان کے اس رویہ کو ”غرور“ سے تعبیر کرکے ان کو ”مغرور“ کا لقب دیتے ہیں مگر ان کا یہ رویہ ان کا استحقاق ہوتا ہے اور یہ مزدوری کادعویٰ ان کی انکساری ہوتی ہے اور یہ مصروفیت ان کی ادا ہوتی ہے، جو صاحب جمال اور صاحب کمال ہوتے ہیں ان ہی کا یہ خاصہ ہوتا ہے۔بہت ہی خوبصورت ، محسوس اور غیر محسوس انداز سے اندھیروں کے اس مسافر کو روشنی کی طرف لے جانے میں اور مسائل سے گھری ہوئی تصویر میں روشنی کی پھوٹتی ہوئی کرن دکھانے میں ان کو کمال حاصل ہے اور اس مقصد کےلئے ان کا رویہ انتہائی نرم و نازک اور حکیمانہ ہے اور پھر کبھی انتہائی محتاط۔
قدم گن گن کے رکھنے سے کمر بل کھاہی جاتی ہے
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے
کہتے ہیں کہ انتظار کرنے والوں کے دن بے قراریوں میں گزتے ہیں اور راتیں اختر شماریوں میں گزرتی ہیں، تصور جاناںان کی زندگی ہوتی ہے اور روٹھی ہوئی محبوبہ کے موٹی آنکھوں سے رواں غم کے آنسو اور لب اور رخسار کے فسانے شب غم کی رازیوں کو یادگار بنادیتے ہیں۔ انتظار کا مرحلہ دلچسپ بھی ہوتا ہے اور اذیت سے بھرپور بھی اگرر آپ اس مرحلے سے گزرے ہونگے تو آپ کو اس کا بخوبی احساس ہوگا، دن کی بے قراریوں کا تجربہ بھی آپ کو ہوگا اور ستارے گننے میں بھی آپ کو خوب مہارت ہوگی اور انتظار کے ایک خاص درجے تک پہنچ کر تنہا کا یہ شعر بھی آپ نے گنگنایا ہوگا ۔
نہیں تاب صبر باقی، بس اب انتظار کب تک؟
کوئی حد بھی ہے کروں میںتیر انتظار کب تک؟
چونکہ انتظار کی گھڑیوں میں ازیت بھی ہوتی ہے اور اس میں لذت کا وعنصر بھی پایا جاتا ہے اس لئے انتظار کو گڑ کے اچار سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، انسان کے اندر حب جمال کی ایک صفت بھی ہے جو اسے دیگر حیوانات سے ممتاز کرتی ہے اور انسان کا یہ امتیازی وصف اسے جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اور اس سے انسانی ذندگی کو ارتقاءملتا ہے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہنا اور کرتے رہنا ذندگی ہے اور اس ذندگی سے اگر انتظار کو نکال دیا جائے تو وہ قنوطیت پر مبنی بے کیف زندگی کہلاتی ہے اور انسان کو مایوسی سے ہمکنار کرتی ہے جس کا معاشرے میں کوئی کردار نہیں ہوتا ہے اور جس معاشرے کے افراد قنوطیت کا شکار ہوجائیں اور ان میں مایوسی کے جراثیم پھیل جائیں وہ معاشرہ فیل ہوجاتا ہے ۔ چونکہ جدت پسندی انسان کی فطرت میں شامل ہے اس لئے وہ اپنی اس فطری کیفیت کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کر سکتا ہے اور اس کی حرکات سے ہمیشہ اس کیفیت کی عکاسی ہوتی ہے انتظار کی کیفیت سے شاعروں کو بھی انس ہوتا ہے اور وہ اس کی اذیتوں کو محسوس بھی کرتے ہیں کسی شاعر کو جب انتظار میں رکھا جاتا ہے تو اس دوران اس کے لاشعور کے خواب بھی بیدار ہوجاتے ہیں اور ان خوابوں میں تسکین ڈھونڈنے کیلئے وہ شاعری کا سہارا لیتے ہیں اور وہ شاعری اعلیٰ نمونے کی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر انتظار کی اذیت سے ہمارے شاعر دوچار نہ ہوتے تو شاید شاعری پڑھنے والوں کی اکثریت آج ا س عمدہ شاعری سے محروم رہتی جس میں انتظار کی کیفیات اور ہجر وفراق کے واقعات کو بڑی شدومد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ چہرہ آئنہ ہوتا ہے اور خاص کر چہرے کی لطافت ونزاکت کے بغیر دنیا کی کسی بھی خوبصورت شے کا تصور نہیں کیا جا سکتا مگر کچھ چہرے سدا بہار ہوتے ہیں اور جمال ان سے ٹپکتا ہے اور نزاکت ان کا طرہ امتیاز ہوتا ہے ۔ ”جس طرح کسی کی خوبصورت آنکھیں اہل نظر پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہیں کہ وہ آنکھیں کتنے بھی دور کیوں نہ ہو بس ایک جھلک دیکھنے کیلئے دور ددراز کی سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور آنکھوں کی شاعری کرتے ہیں”عربی زبان کے ایک نامور شاعر صدمہ فراق کی مصیبتوں دوبارہ شوق ملاقات کے انتظار، آنکھوں سے اشکوں کی روانی اور دیل کی دیوانگی ہی کو زندگی کی صبح وشام قرار دیتے ہیں ان کے ایک شعر کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں کہ اس میں کتنا درد اور تڑپ ہے ©©© ”اے شوق! تو کتنا باقی رہنے والا ہے ہائے میرے فراق!اے آنسو تو کتنا بہنے والا ہے؟ اے دل تو کتنا دیوانہ ہے؟“۔
عشاق تو نہ ویسے بھی نہ ادھر کے ہوتے ہیں اور نہ ادھر کے، قرار تو ان کو ہوتا نہیں ہے اور بے قراری ان کا مقدر ہوتی ہے اور انتظار ان کا نصیب، اوران کی یہاں کی ذندگی جلتے جلتے گزر جاتی ہے اور پتہ نہیں کس پس منظر میں مولانا ظفر علی خان نے یہ شعر کہا ہے
گناہ گار واں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دینگے شاعر ہمارے
کچھ لوگوں کے دلوں میں قومی درد ہوتا ہے زرا سا صدمہ ان کو بے قرار کر دیتا ہے اور وہ اذیتیں جھیل کسی ڈاکٹر کی طرح اوروں کے دلوں کیلئے مرہم مرہم کا سامان کرتے ہیںجو صاحب جمال بھی ہوتے ہیں اور صاحب جلال بھی اور حسن کلام ہی ان کی ذوق کی علامت ہوتی ہے جن کو شعروادب سے بھی دلچسپی ہوتی ہے، ان کی انگلیاں چومنے کو دل کرتا ہے، وہ انتظار کراتے بھی ہیں اور کرتے بھی ہیںمگر اس کو غرور کا نام نہیں دیا جاسکتا یہی تو ایک ادا ہے جو امید کی علامت ہے اور یہی زندگی ہے اور مصروفیت ان کاپیشہ ہے!!!۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے