کالم

زہریلا فضا۔۔۔!

لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے،یہ شہر تاریخ، تہذیب، علم، ادب، تجارت اور سیاست کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کی گلیاں، بازار، باغات اور عمارتیں صدیوں کی داستانیں سناتی ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہی لاہور آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہونے لگا ہے۔ فضا میں گھلا زہر، آنکھوں میں چبھتی دھند، سانسوں کو بوجھل بناتی سموگ اور بیماریاں پھیلاتی آلودگی اس شہر کی شناخت بنتی جا رہی ہے۔ یہ مسئلہ صرف لاہور تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے پنجاب اور دوسرے صوبوں میں سموگ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے جو ہر سال سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی اپنی موجودگی کا اعلان کر دیتی ہے۔سموگ دراصل دھند اور دھوئیں کا ایسا امتزاج ہے جو انسانی صحت، ماحول، زراعت اور معیشت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس میں شامل باریک ذرات پھیپھڑوں میں داخل ہو کر سانس، دل اور آنکھوں کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں سموگ کی شدت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ تعلیمی ادارے بند کرنا پڑتے ہیں، پروازیں متاثر ہوتی ہیں، سڑکوں پر حادثات میں اضافہ ہوتا ہے اور اسپتال مریضوں سے بھر جاتے ہیں۔ یہ صورتحال محض قدرتی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے انسان کی اپنی کوتاہیاں، لاپرواہی اور اجتماعی بے حسی بھی شامل ہے۔ حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت نے سموگ اور آلودگی کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ سموگ ایکشن پلان ترتیب دیے گئے، ماحولیاتی قوانین بنائے گئے، فیکٹریوں اور بھٹوں کے لیے ضابطے مقرر کیے گئے، گاڑیوں کے دھوئیں پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی گئی اور شجرکاری مہمات کا آغاز کیا گیا۔ ان اقدامات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صرف حکومتی پالیسیوں اور اعلانات سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ جب تک عوام، صنعتکار، ٹرانسپورٹ مالکان، کسان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا نہیں کریں گے، سموگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ مختلف صنعتی علاقوں میں فیکٹریوں کی چمنیوں سے اٹھتا کالا دھواں آج بھی ایک عام منظر ہے۔ کئی صنعتیں ماحولیاتی قوانین کو نظر انداز کر کے بغیر فلٹر کے زہریلا دھواں فضا میں چھوڑ رہی ہیں۔ یہ دھواں نہ صرف اردگرد رہنے والے لوگوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے شہر کی فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، فلٹرز کی تنصیب اور ماحول دوست طریقوں کو اپنانے سے نہ صرف آلودگی کم ہو سکتی ہے بلکہ صنعتیں پائیدار بنیادوں پر ترقی بھی کر سکتی ہیں۔اسی طرح ہمارے ملک میں مختلف علاقوں میں خشت بھٹے آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ روایتی بھٹوں میں ناقص ایندھن جلایا جاتا ہے جس سے زہریلا دھواں بڑی مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے جدید زِگ زیگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی کوشش کی ہے مگر اس پر مکمل عمل درآمد ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ کئی بھٹہ مالکان اب بھی پرانے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ یہاں متعلقہ محکموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سخت نگرانی کریں اور کسی قسم کی رعایت نہ دیں۔ بھٹہ مالکان کو بھی یہ احساس کرنا ہوگا کہ ان کا کاروبار اگرچہ روزگار فراہم کرتا ہے مگر اس کے ساتھ ماحول اور انسانی صحت کا تحفظ بھی ان کی ذمہ داری ہے۔سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بڑی مقدار میں دھواں خارج کرتی ہیں۔ پرانی، خراب اور غیر معیاری گاڑیاں نہ صرف ایندھن ضائع کرتی ہیں بلکہ فضا میں زہریلی گیسیں بھی چھوڑتی ہیں۔ اکثر لوگ اپنی گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کرتے اور نہ ہی دھوئیں کی جانچ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یہاں شہریوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر ہر فرد اپنی گاڑی کی بروقت سروس کرائے، معیاری ایندھن استعمال کرے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرے تو آلودگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم ہو۔زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانا بھی سموگ کا ایک بڑا سبب ہے۔ فصل کٹنے کے بعد کسانوں کی جانب سے کھیتوں میں آگ لگانا ایک پرانا رواج ہے جو سموگ کو شدید بنا دیتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف فضا کو آلودہ کرتا ہے بلکہ زمین کی زرخیزی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ کسانوں کو متبادل طریقے فراہم کرنا اور انہیں آگاہی دینا حکومت اور زرعی محکموں کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسانوں کو جدید مشینری اور تربیت دی جائے تو وہ فصلوں کی باقیات کو کارآمد طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں اور آگ لگانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔شہریوں کا کردار سموگ کے خاتمے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ یہ مسئلہ حکومت یا اداروں کا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر فرد کا چھوٹا سا عمل بھی ماحول پر اثر انداز ہوتا ہے۔ گھروں میں کوڑا جلانا، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، غیر ضروری بجلی اور ایندھن کا ضیاع اور درختوں کی کٹائی جیسے اقدامات آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کوڑا مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں، پلاسٹک کے استعمال میں کمی کریں، توانائی کی بچت کریں اور شجرکاری میں حصہ لیں تو فضا کو صاف رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔تعلیمی اداروں کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ نئی نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ صاف ماحول ان کا بنیادی حق اور ذمہ داری بھی ہے۔ اگر بچے شروع سے ہی ماحول دوست رویے اپنائیں گے تو مستقبل میں ایک باشعور معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ نصاب میں ماحولیات کو عملی انداز میں شامل کرنا، شجرکاری مہمات اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیا بھی سموگ اور آلودگی کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٹیلی وژن، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔ مسئلے کو سنجیدگی سے پیش کرنا، ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کرنا اور مثبت اقدامات کو سراہنا میڈیا کی ذمہ داری ہے۔ محض سنسنی خیزی سے ہٹ کر اگر میڈیا تعمیری کردار ادا کرے تو عوامی رویوں میں تبدیلی لانا ممکن ہو سکتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے۔ قوانین اگر بن جائیں مگر ان پر عمل نہ ہو تو وہ کاغذی کارروائی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانا، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا اور رشوت و سفارش سے پاک نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر فیکٹری مالکان، ٹرانسپورٹرز اور دیگر ذمہ داران یہ جان لیں کہ قانون توڑنے کی کوئی گنجائش نہیں تو وہ خود بخود احتیاط برتنے پر مجبور ہو جائیں گے۔حکومت کی سطح پر پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی، صنعتی علاقوں میں زوننگ، سبزہ زاروں کا قیام اور شہری منصوبہ بندی میں ماحولیات کو مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں اگر گرین بیلٹس کو بحال کیا جائے، پارکس کی تعداد بڑھائی جائے اور درختوں کی کٹائی پر سخت پابندی ہو تو فضا میں بہتری آ سکتی ہے۔سموگ اور آلودگی کا مسئلہ صرف ایک شہر یا ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی چیلنج ہے۔ اس کا حل بھی اجتماعی کوششوں میں ہی پوشیدہ ہے۔ حکومت، عوام، صنعتکار، کسان، تعلیمی ادارے، میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے بجائے اپنی اپنی ذمہ داری قبول کریں تو حالات بدل سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ صاف فضا انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔لاہور کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے جب ہم آج سنجیدہ فیصلے کریں۔ سموگ اور آلودگی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ طرزِ زندگی میں تبدیلی لانا ہوگی، اجتماعی شعور کو فروغ دینا ہوگا اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو لاہور کو دوبارہ زندہ دلانِ لاہور کا شہر بنا سکتا ہے اور پنجاب کو سموگ کے اندھیروں سے نکال کر صاف اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے