کالم

سال2025ئ۔پاکستان کیلئے کیسارہا!

مادرعزیزپاکستان کی تاریخ کامطالعہ کیاجائے توسات دہائیوں میں کئی نشیب وفراز آئے۔ لیکن۔ الحمداللہ پاکستان آج اپنی پوری طاقت اور قوت کیساتھ قائم ودائم ہے اورانشااللہ تاقیامت یہ سرسبزہلالی پرچم لہلاتا رہے گا ۔ 2025ء پاکستان کیلئے انتہائی اہم رہااورایک سال میں جتنی ترقی اور کامیابیاں ملیں پاکستان کی تاریخ میں اِن کی مثال نہیں ملتی ۔2025ء ملکی تاریخ میں ایک ایسے عہد ساز سنگ میل کے طور پر ابھرا جس نے پاکستان کے عالمی تشخص کو ایک نئے اور طاقتور بیانیے میں ڈھال کر پیش کیا۔2025ء میں پاکستان نے نہ صرف معاشی بحالی اور استحکام بلکہ دفاعی، سفارتی، کھیلوں اور سائنسی محاذوں پر بھی شان دار کامیابیاں حاصل کیں ۔ 2025ء میں کئی امتحان بھی آئے اورالحمداللہ پوری پاکستانی قوم نے یکجاں ہوکرحکومت پاکستان ،افواج پاکستان اوراپنے اداروں کے شانہ بشانہ اِن تمام ترمصائب اور امتحانات کاڈٹ کرمقابلہ کیاجس کااظہارآج عالمی ادارے بھی کررہے ہیں ۔ امریکی میگزینز ‘دی ڈپلومیٹ’ اور ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے 2025 کو پاکستان کیلئے ”اسٹریٹجک واپسی کا سال” قرار دیا ۔مئی 2025ء میں پاکستان کو بھارت کیخلاف حاصل ہونے والی دفاعی برتری نے خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا اور دنیا پر واضح ہوگیا کہ انتہا پسند ہندو تنظیموں کے زیر اثر بھارت کی کٹھ پتلی مودی سرکار ایک جارح حکومت ہے جو نہ صرف بھارت میں اقلیتوں بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوںکی نسل کشی میں بھی ملوث ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں دہشتگرد سرگرمیوں کے علاوہ خاص طور پر اپنے ہی خطے کے امن کو بھی داؤ پر لگائے ہوئے ہے۔ آج واشنگٹن کے ایوان سے لے کر اقوام متحدہ تک پاکستان کی تذویراتی اہمیت کابھرپوراعتراف کیا جا رہا ہے اوراقوام عالم”آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق ”کی معترف ہوچکی ہیں ۔ اگرمعاشی محاذ کی بات کی جائے توحکومتی اقدامات کی بدولت سال 2025ء پاکستان کی معیشت کیلئے انتہائی متاثرکن سال رہا۔ جب دنیا بھر کی معیشتیں دباؤ کا شکار تھیں تب پاکستان نے اپنے معاشی اشاریوں میں وہ بہتری دکھائی جس کا اعتراف آج آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے بھی کررہے ہیں ۔ 2025ء میں پاکستان نے افراطِ زر کی شرح کو ریکارڈ حد تک کم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی جبکہ 2023ء میں یہ شرح 38 فیصد سے تجاوز کر چکی تھی۔ اسی طرح پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نموبھی 6 فیصد تک پہنچی جو کہ 2010ء کے بعد ملک کی بلند ترین شرح نمو ہے۔اِسی وزیر اعظم محمد شہبازشریف کی کامیاب خارجہ پالیسی ،سفارتکاری اوربین الاقوامی تجارتی معاہدوں کی بدولت غیرملکی سرمایہ کاری میں بھی پہلے سے 30 فیصد مزید اضافہ ہوا۔پاکستان کے معاشی استحکام کے پیچھے سب سے بڑا محرک ایس آئی ایف سی کا فعال ہونا بھی ہے جس نے غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے مزید راہ ہموار کی اورسال2025ء میں گرین پاکستان انیشیٹیوجیسے انقلابی اقدامات کا آغازکیاگیا۔اِسی طرح آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے بھی اسلام آباد میں پہلے آئی ٹی پارک کا قیام اور گوگل کروم بک اسمبلی لائن کا آغازکیاگیا۔پاکستان کی معیشت کے حوالے سے عالمی بینک نے بھی دسمبر 2025ء میں 700 ملین ڈالر کے فنڈز کی منظوری دی جو ملک کے مالیاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے اور عوامی خدمات کی بہتری کیلئے استعمال کیے جائیں گے۔ 2025ء جہاں دفاعی،معاشی ،خارجہ محاذپرپاکستان کی کامیابیوں کاسال رہاوہیںاقوام متحدہ میں بھی پاکستان نے کثیر الجہتی سفارت کاری کے محاذ پر نمایاں کامیابیاں سمیٹیں، جس سے ملک کی اسٹریٹیجک اہمیت کو دنیا بھرنے تسلیم کیا۔جولائی 2025ء میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالی۔ اس دور میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل کے اجلاسوں کی صدارت کی، جس کا سب سے بڑا نتیجہ 22 جولائی 2025ء کو ”تنازعات کے پرامن حل”پر پاکستان کی اسپانسر کردہ قرارداد کی متفقہ منظوری تھی۔یہ اہم قرارداد بین الاقوامی تنازعات کو جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتی ہے جو پاکستان کے پرامن عالمی وژن کی بھی عکاسی کرتی ہے۔اِسی طرح دسمبر 2025ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ”حقِ خودارادیت” کی سالانہ قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کیا، جس میں کشمیر اور فلسطین کے عوام کی حمایت کی گئی تھی۔ستمبر 2025ء شنگھائی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون کی قرارداد کی منظوری میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔اِسی طرح پاکستان نے چین کی زیرِ صدارت ایس سی او کے اجلاسوں میں فعال شرکت اور ”گلوبل گورننس انیشیٹو” کی حمایت کر کے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مزیدمستحکم کیا۔ 2025میں حکومت پاکستان کے بہترین اقدامات سے ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے میدان میںبھی سپارکو نے کئی اہم مشنز کے ذریعے پاکستان کو خلائی کلب کے صفِ اول کے ممالک میں کھڑا کیا۔ 17 جنوری 2025ء کو پاکستان نے اپنا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ ”ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ” کامیابی سے خلا میں روانہ کیا۔ یہ سیٹلائٹ زراعت، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی مانیٹرنگ کیلئے ہائی ریزولوشن ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔اِسی طرح کثیر المقاصد مواصلاتی سیٹلائٹ بھی مکمل طور پر آپریشنل کر دیاگیاہے جس سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی مواصلات کے ڈھانچے میں نمایاں بہتری آچکی ہے۔ 2025ء میں بھی ایک دفعہ پھرموسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کوتباہ کن سیلاب کاسامناکرناپڑا اور اِس حوالے سے حکومت پاکستان ،افواج پاکستان ، نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ سمیت فلاحی اداروں اورپوری پاکستانی قوم نے یکجاں ہوکراِس امتحان کابھی بھرپورسامناکیا۔عالمی سطح پرپاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی بحران سے نمٹنے کیلئے 2025ء میں اپنی بھرپور قیادت بھی ثابت کی اور برازیل کے شہر بیلم میں نومبر 2025ء میں منعقدہ COP30 کانفرنس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ”ریچارج پاکستان”جیسے فلیگ شپ منصوبے کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ۔ 2025ء میں امن وامان کے حوالے سے بھی بہترین اقدامات کئے گئے جن کی بدولت پاکستان میں ایک دفعہ پھر کھیلوں کے میدان بھی آبادہوئے ۔پاکستان نے فروری اور مارچ 2025ء میں آئی سی سی چمپئنز ٹرافی کی کامیاب میزبانی کی جو کہ 1996ء کے بعد ملک میں پہلا بڑا آئی سی سی ایونٹ تھا۔2025ء کی کامیابیوں کا سہرا یقینا حکومت پاکستان ،افواج پاکستان اورپوری پاکستانی قوم کے سرجاتا ہے ۔وزیر اعظم جس تندوہی اوربابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے بنیادی اصول”کام ،کام او رصرف کام ” کے مطابق اقدامات کررہے ہیں اُمید واثق ہے کہ آمدہ سال بھی پاکستان کی ترقی وکامرانی کیلئے مزیدبہترین ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے