کالم

سانحہ جڑانوالہ نگران اور الیکشن

آخر کار نگران وزیراعظم کا ہما انعام الحق کاکڑ کے سر پر بیٹھ گیا ان کا تعلق بلوچستان سے ہیے وہ باہر سےاعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے حلف اٹھانے سے قبل سینٹ کی سیٹ چھوڑ دی اور اعلان کیا کہ سابقہ دور کی پالیسیاں جاری رکھی جاہیں گی ملک اس وقت اقتصادی بد حالی کا شکار ہے اور ملک کو بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ نگران حکومت نے حلف اٹھاتے ہی پٹرولم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جو عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے۔ ہمارے ہمسائے بھارت میں پٹرول کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں جبکہ ہم قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ مہنگائی پہلے ہی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیے عام آدمی جو پہلے ہی پریشان تھا اس کی قوت خرید جواب دے چکی ہیے۔ نگران حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے تا کہ معیشت ٹریک پر آجائے۔ مرکز میں وزیراعظم سمیت وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا صوبوں میں بھی وزرائے اعلیٰ اور انکی کابینہ حلف لے چکی تمام وزرا قابل اور اپنے اپنے فیلڈ کے ماہر ہیں انہیں بہت سے مسائل ورثے میں ملے ہیں حکومت ابھی سنبھل ہی رہی تھی کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں مسلمانوں نے عیسائیوں کے گرجا گھروں درجنوں مکانات اور دیگر املاک نظر آتش کرنے کا واقعہ پیش آیا جس کی ملک بھر میں مذمت کی جا رہی ہیے۔ متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے وفاقی وزرا اور وزراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے جڑانوالہ کی کرسچین کالونی کا دورہ کرکے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور فی گھر 20 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا۔ پورے ملک میں اس جلاو گھراو کے عمل کی مذمت کی جا رہی ہیے اس واقعہ پر ہر آنکھ اشک بار ہیے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے بھی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ کا دورہ کیا انہوں نے اس واقعہ کی بھر پور مزمت کی اور کہا کہ عیسائیوں کو بھی گرجا گھر بنانے کا اتنا ہی حق ہیے جتنا مسلمانوں کو مساجد تعمیر کرنے کا۔ کرسچین کالونی کے دورے کے دوران ڈی سی سے کہا کہ لوگوں کا جتھا آجائے تو الگ بات ہیے لیکن مسجدوں سے اعلان کیا جا رہا تھا کہ باہر نکلیں اس وقت ضلعی انتظامیہ کہاں تھی۔ اگر گرجا گھروں پر حملہ ہو جائے تو مسلمانوں پر جہاد فرض ہیے اس سانحہ کی غیر جانب دارانہ۔تفتیش کریں تا کہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔ میں یہاں 628 عیسوی میں رسول ﷺ کی طرف سے عیسائیوں کے نام لکھے گئے خط کی تفصیل دے رہا ہوں ”خواہ وہ دور ہوں یا نزدیک یہ ایک عہد ہیے کہ ہم ان کے ساتھ ہین بیشک میں میرے خدمت گار میرے مدد گار اور پیروکار ان کا تحفظ کریں گیے کیونکہ عیسائی بھی میرے شہری ہیں اور خدا کی قسم میں اس بات سے پرہیز کروں گا جو ان کو ناخوش کرے۔ ان کے خلاف کوئی جبر نہیں ہو گا نہ ان کے منصفوں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے گا اور نہ ہی ان کے راببوں کو ان کی خانقاہوں سے۔ ان کی عبادت گاہوں کو کوئی بھی تباہ نہیں کرے گا نقصان نہیں پہنچائے گا اور نہ ہی وہاں سے کوئی شے مسلمانوں کی عبادت گاہوں میں لے جائی جائے گی۔ اگر کسی نے وہاں سے کوئی چیز لی تو وہ خدا کا عہد توڑنے اور اس کے نبیﷺ کی نافرمانی کا مرتکب ہوگا بے شک وہ میرے اتحادی ہیں اور انہیں ان تمام کے خلاف میری امان حاصل ہیے۔ جن سے وہ نفرت کرتے ہیں کوئی بھی انہیں سفر یا جنگ پر مجبور نہیں کرے گا۔ بلکہ مسلمان ان کے لئے جنگ کریں گے۔ اگر کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان سے شادی کرے گی تو ایسا اس کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہو گا اور اس عورت کو عبادت کے لئے گرجا گھر جانے سے روکا نہیں جائے گا۔ ان کے گرجا گھروں کا احترام کیا جائے گا۔ انہیں گرجا گھروں کی مرمت یا اپنے معاہدوں کے احترام سے نہیں روکا جائے گا۔ قوم میں سے کوئی بھی فرد یعنی کوئی بھی مسلمان روز قیامت تک اس معاہدے سے روگردانی نہیں کرے گا“ نبی کریمﷺ کے اس خط سے واضع ہوتا ہیے کہ اسلام عیسائیوں کے گرجا گھروں کے احترام راہبوں کو تنگ نہ کرنے منصفوں کو عہدوں سے نہ ہٹانے کی بات کرتا ہیے آج کا مسلمان اسلام کے سنہری اصولوں کو بھول چکا ہیے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ ہمارا مزہب دیتا ہیے نہ آئین پاکستان۔ نگران حکومت کی زمے داری ہیے کہ اس سانحہ کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کر کے انہیں قرار واقعی سزا دے۔ انتخابات نوے روز میں نہ ہونے کے الیکشن کمیشن کے اعلان کے بعد پوری سیاسی کمیونٹی میں مایوسی پھیلی ہوئی ہیے پی ٹی آئی ن لیگ پیپلز پارٹی جماعت اسلامی کے سراج الحق آئین کے تحت نوے روز کے اندر انتخابات کروانے پر زور دے رہیے ہیں۔جلد الیکشنز واقعی اس ملک کی ضرورت ہیں تاکہ ملک جمہوریت کی راہ پر گامزن ہو جائے۔ نگران حکومت کا کام تین ماہ کے اندر غیر جانب دارانہ الیکشن کروا کر اقتدار منتخب حکومت کو سونپ کر واپس جانا ہے۔ عمران خان نے پرویز الٰہی کے ساتھ مل کر پنجاب کی اسمبلی توڑ کر سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔ نو مئی کے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی بکھر چکی ہیے مبینہ طور پر عمران خان سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی سمیت کئی مقدمات میں ملوث ہیں۔ شاہ محمود قریشی پر بھی سیفر کا مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ عمران خان عدالتی فیصلے کے بعد توشہ خانہ کیس میں اٹک جیل میں قید ہیں۔ تازہ سیاسی حالات کی وجہ سے نواز شریف نے پاکستان واپسی ملتوی کر دی ہیے اور ماہرین قانون سے پاکستان واپس آنے کے بارے میں مشاورت جاری ہیے۔ سیاسی تجزیہ کار اور مبصرین انتخابات کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہا کر رہے ہیں۔ اب ملک میں ایک اور تنازعہ نے سر اٹھا لیا ہیے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ایوان صدر بھیجے گئے دس روز کے اندر بل واپس نہیں کئے گئے اور وہ باقاعدہ بل کی شکل اختیار کر گئے اب صدر مملکت الزام اپنے سٹاف پر لگا رہے ہیں وفاقی وزیر قانون نے کہا ہمارا سیاسی ایجنڈا نہیں۔ بل پر نہ اعتراض نہ واپس آیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے صدر کے استعفے کے لیے دباﺅ بڑھ رہاہے۔ پی ٹی آئی سپریم کورٹ جانے کی بات کر رہی ہیے کیا ملک ایک نئے بحران کی جانب بزھ رہا ہے یہ لمحہ فکریہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے