کالم

سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔!

سب سے پہلے پاکستان محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک فکری سمت اور قومی شعور کی بنیاد ہے۔ یہ وہ تصور ہے جس میں فرد اپنی ذات، اپنے مفاد اور اپنی خواہشات سے بلند ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ جب کوئی قوم اس سطح پر پہنچتی ہے کہ اس کی سوچ کا مرکز صرف اور صرف اس کا ملک بن جائے تو وہ قوم تاریخ کا رخ بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، نوجوان آبادی، زرعی زمینوں، معدنی ذخائر اور سمندری وسائل سے مالا مال ہے لیکن اصل سوال وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ترجیحات کے درست نہ ہونے کا ہے ۔ جب ترجیحات بگڑ جائیں تو وسائل بھی بے اثر ہو جاتے ہیں اور جب ترجیحات درست ہو جائیں تو کم وسائل بھی بڑی طاقت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔کسی بھی ملک کی ترقی کا آغاز اس کے نظام کی درستگی سے ہوتا ہے۔ نظام اس وقت درست ہوتا ہے جب قانون سب کیلئے ایک جیسا ہو اور انصاف کسی طبقے، کسی عہدے یا کسی طاقت کے تابع نہ ہو۔ پاکستان میں یہ اصول مضبوط ہو جائے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں تو معاشرتی ڈھانچہ خود بخود مضبوط ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان خلیج اسی وقت کم ہو سکتی ہے جب ریاستی ادارے بغیر کسی تفریق کے سب کو یکساں سہولیات فراہم کریں۔ تعلیم ایک جیسی ہو، علاج ایک جیسا ہو، اور انصاف ہر شہری کیلئے بلا تاخیر اور بلا امتیاز دستیاب ہو تو معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کی طرف بڑھتا ہے ۔ تعلیم کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ تعلیم کا نظام طبقاتی تقسیم پیدا کرے تو معاشرہ بھی طبقاتی ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں امیر کیلئے الگ معیار ہو اور غریب کے لیے الگ معیار ہو وہاں قومی یکجہتی پیدا نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب تعلیمی ادارے معیار میں یکساں ہوں اور ہر بچہ خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو ایک ہی معیار کی تعلیم حاصل کرے۔ جب علم سب کیلئے برابر ہو تو مواقع بھی برابر پیدا ہوتے ہیں اور جب مواقع برابر ہوں تو ترقی بھی اجتماعی ہوتی ہے۔صحت کا شعبہ بھی اسی اصول کا متقاضی ہے۔ علاج صرف اس کیلئے ہو جو ادائیگی کی طاقت رکھتا ہے تو یہ نظام انصاف کے اصول سے دور ہو جاتا ہے۔ ایک مہذب ریاست میں شہری کی صحت اس کی دولت سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ اس کے شہری ہونے سے مشروط ہوتی ہے۔ پاکستان میں علاج کے معیار کو ہر شہری کیلئے برابر کر دیا جائے تو نہ صرف انسانی زندگیوں کا تحفظ ممکن ہو گا بلکہ معاشی بوجھ بھی کم ہو جائے گا کیونکہ صحت مند قوم ہی پیداواری قوم ہوتی ہے۔عدل و انصاف کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ انصاف تاخیر کا شکار ہو جائے یا طاقتور کیلئے نرم اور کمزور کیلئے سخت ہو جائے تو ریاست کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ پاکستان میں انصاف کا نظام فوری، شفاف اور بلا امتیاز ہو جائے تو معاشرتی اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ جب لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ انہیں ان کا حق ضرور ملے گا تو وہ خود بھی قانون کا احترام کرنے لگتے ہیں۔ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ ہر سطح پر ہونا چاہیے، چاہے وہ ادارہ ہو، دفتر ہو یا بازار ہو۔ کرپشن کسی بھی معاشرے کیلئے سب سے بڑا زہر ہے جو صرف مالی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کرتی ہے۔ جب کرپشن عام ہو جائے تو میرٹ ختم ہو جاتا ہے اور جب میرٹ ختم ہو جائے تو صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ پاکستان کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہر سطح پر شفافیت کو لازمی قرار دیا جائے۔ کرپشن کرنے والا صرف قانون کا مجرم نہیں بلکہ معاشرے کا بھی مجرم ہے کیونکہ وہ آنے والی نسلوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ کرپشن کو مکمل طور پر روک دیا جائے تو وسائل کی کمی کے باوجود بھی ترقی کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔ میرٹ ایک ایسا اصول ہے جو قوموں کو اوپر لے جاتا ہے۔ جب بھرتیاں، ترقی اور مواقع صرف قابلیت کی بنیاد پر ہوں تو نظام مضبوط ہوتا ہے۔ جب سفارش، رشوت اور تعلقات میرٹ پر غالب آ جائیں تو نظام کمزور ہو جاتا ہے ۔ پاکستان میں ہر شعبے میں میرٹ کو مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے تو نوجوانوں کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں گی اور ملک ایک نئی سمت میں تیزی سے آگے بڑھنے لگے گا ۔ پاکستان کے عوام کی سب سے بڑی طاقت ان کی نوجوان آبادی ہے۔ یہ نوجوان صحیح سمت میں لگ جائیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ انہیں مواقع فراہم کیے جائیں، ان کی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور انہیں انصاف پر مبنی نظام دیا جائے۔ جب نوجوانوں کو یہ یقین ہو جائے کہ ان کی محنت ضائع نہیں جائے گی تو وہ ملک کی ترقی کیلئے اپنا سب کچھ دینے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا کسی بھی مہذب قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ جب افراد اپنے ذاتی فائدے کے بجائے قوم کے فائدے کو ترجیح دیتے ہیں تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہر فرد یہ سوچ اپنا لے کہ اس کا ہر عمل ملک کیلئے ہے تو معاشرتی ڈھانچہ خود بخود بہتر ہو جائے گا۔ چھوٹے چھوٹے فیصلے، چھوٹی چھوٹی دیانت داریاں اور چھوٹی چھوٹی قربانیاں مل کر بڑی تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔ ریاستی اداروں کی مضبوطی بھی اسی سوچ سے جڑی ہوئی ہے۔ جب ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو ملک مضبوط ہوتا ہے۔ اداروں کی کمزوری کا مطلب نظام کی کمزوری ہوتا ہے۔ ادارے قانون کے مطابق کام کریں اور ان میں سیاسی یا ذاتی مداخلت نہ ہو تو ترقی کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور اس کی کارکردگی کا معیار صرف اور صرف عوامی خدمت ہونا چاہیے۔معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ معیشت مستحکم ہو تو ملک خود مختار ہوتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پیداوار بڑھائی جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے اور غیر ضروری اخراجات کو کم کیا جائے۔ جب ملک اپنی ضروریات خود پوری کرنے لگتا ہے تو وہ عالمی سطح پر بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔ معاشی ترقی صرف حکومتی پالیسیوں سے نہیں آتی بلکہ عوامی رویوں سے بھی آتی ہے۔ جب ہر فرد دیانتداری سے کام کرے اور اپنی ذمہ داری پوری کرے تو معیشت خود بخود بہتر ہونے لگتی ہے۔امن و امان بھی ترقی کیلئے بنیادی شرط ہے ۔ معاشرہ غیر محفوظ ہو تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے، کاروبار متاثر ہوتا ہے اور عام شہری کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس لیے امن کا قیام صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ ہر فرد قانون کا احترام کرے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو معاشرہ خود بخود پرامن ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے کسی معجزے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف نظام کی درستگی کی ضرورت ہے۔ جب سمت درست ہو جاتی ہے تو رفتار خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ ملک میں انصاف، میرٹ، شفافیت، تعلیم، صحت اور قانون کی بالادستی قائم ہو جائے تو چند سالوں میں ہی بڑی تبدیلی ممکن ہے۔ ترقی کا راز وسائل کی کثرت میں نہیں بلکہ ان کے درست استعمال میں ہے۔قومیں خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ عمل کرنے سے بنتی ہیں۔ صرف جذبات ہوں لیکن عملی اقدامات نہ ہوں تو تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔ پاکستان کے ہر شہری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اس ملک کا حصہ نہیں بلکہ اس ملک کی تعمیر کا ذمہ دار ہے۔ ہر فرد کی چھوٹی کوشش مل کر بڑی تبدیلی بن جاتی ہے۔ پاکستان کے پاس سب کچھ موجود ہے، صرف اسے درست سمت میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ جب نیتیں ، ترجیحات درست ہو جائیں اور نظام شفاف ہو جائے تو ترقی ایک قدرتی نتیجہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کو صرف ایک موقع نہیں بلکہ مسلسل دیانتدار کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ کوششیں اجتماعی طور پر شروع ہو جائیں تو پاکستان نہ صرف ترقی کرے گا بلکہ دنیا کیلئے ایک مثال بھی بن جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے