کالم

سقراط کا تصور جمہورےت

سقراط عقل و خرد کا اےک اےسا چراغ ہے جس کی روشنی دنےا مےں کبھی ماند نہےں پڑ سکتی ۔سقراط اےک استدلالی مفکر اور غورو فکر کا قائل تھا اس کا طرےقہ تعلےم لوگوں سے سوال جواب کرنا ہوتا تھا جو انسانی زندگی کا سب سے زےادہ موثر طرےقہ تعلےم ہے۔سقراط کے عہد کے حکمران اس کے شغل نقدونظر اور سوال وجرح سے تنگ آگئے تھے ۔وہ اس کی حق نوائی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس کی جان کے دشمن بن گئے تھے ۔سقراط کا انہےں روکنا ٹوکنا ہر گز گوارا نہےں تھا ۔سقراط کا عہد فوجی فاتحےن سپہ سالار حکمرانوں کا عہد تھا جو اپنی آمرےت کو جمہورےت کے لبادے مےں چھپائے ہوئے تھے ۔سقراط کی حق اور سچ پر مبنی آواز کو دبانے کےلئے اس پر بے شمار قسم کے الزامات اٹھائے تھے ۔ان تمام الزامات مےں سب سے نماےاں چار الزامات تھے ۔پہلا الزام تھا کہ سقراط ہمارے دےوتاﺅں کی توہےن کرتا ہے اور ہماری عقےدتوں کا تمسخر اڑاتا ہے ۔دوسرا الزام تھا کہ سقراط حکومت وقت کے خلاف لوگوں کو بغاوت پر اکساتا ہے ۔تےسرا الزام تھا کہ سقراط ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرتا ہے چوتھا الزام تھا کہ سقراط ہمارے جمہوری نظام کا مذاق اڑاتا ہے ۔سقراط اقتدار کو کسی شخص کا پےدائشی حق قرار نہےں دےتا تھا اور نہ ہی اس بات کو تسلےم کرتا تھا کہ اےتھنز کے چند خاندانوں کی نسلےں ہی فوجی کمانڈر پےدا کرنے کے قابل ہےں ۔سقراط کی ےہ کھری باتےں ڈکٹےٹر شپ کے حامےوں کی حمائت کرنے والوں کے خلاف جاتی تھےں لہٰذا سقراط کے خلاف فوجی سپہ سالاروں اور ان کے اقتدار کے بنائے ہوئے دو نمبر سےاست دانوں ،سرکاری فلاسفروں، درباری پادرےوں اورراہبوں کا اےک اتحاد قائم ہو گےا ۔سقراط کے شاگرد افلاطون کا چچا کرائٹاس اور اس کا چچا زاد بھائی گلاکون انتہا درجے کے اقتدار پرست تھے ۔ وہ اپنے عہد کی آمرانہ حکومتوں مےں بڑا مقام و مرتبہ رکھتے تھے ان دونوں حضرات کے ساتھ سقراط کے اکثر مباحثے ہوا کرتے تھے ۔ان مباحثوں مےں سقراط ان کی خود ساختہ شخصی قسم کی جمہورےت پر تنقےد کےا کرتا تھا ۔اسی بحث مباحثے کے عمل مےں سقراط کا اےک نےم قسم کے حکمران سےاست دان سے ٹاکرا ہو گےا جو اس وقت اےتھنز کا سب سے بڑا سےاست دان تھا ۔جس کا نام انی ٹاس”ANYTUS“ےا اےنی ٹس تھا ۔سقراط کے اس شخص کے ساتھ دشمنی کی حد تک اختلاف بڑھ گئے تھے ۔ےہ شخص سقراط کے خون کا پےاسا بن گےا تھا ۔سقراط کی بد قسمتی کہ ےہ شخص اےتھنز کا وزےر اعظم بن گےا تھا۔سقراط کا اس شخص اےنی ٹس کے ساتھ اس کے اقتدار سے پہلے جمہورےت کے بارے مےں بہت تلخ مکالمہ ہوا تھا ۔وہ کہا کرتا تھا کہ وہ سقراط کو اےتھنز کے بازار کے چوراہے مےں پھانسی دے گا ۔سقراط نے اےنی ٹس کے ساتھ جمہوری نظام حکومت کے بارے مےں سوال کےا تھا کہ کےا کسی جنگ مےں کسی عام انسان کو فوجوں کی کمان دی جا سکتی ہے ،اس کا جواب تھا ہر گز نہےں ۔دوسرا سوال تھا کہ کےا کسی انسان کو پل،مکان،فوجی ہےڈ کواٹر ،مذہب معبدےا ڈےم بنانے کا کام دےا جا سکتا ہے جو تعمےر کے کام سے ناواقف ہو،جو فن تعمےر سے نابلد ہو اس کا جواب تھا ہر گز نہےں ۔سقراط نے کہا کہ تم اےنی ٹس جو اےک کاروباری سرماےہ دار ہو ،تمہارا دوسرا تجربہ صرف فوج کی ملازمت تھا تم کس طرےقے سے اےک جمہوری حکمران ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہو۔اس کا جواب تھا کہ اگر لوگ مجھے اپنے ووٹ کے ساتھ منتخب کر کے جمہوری طرےقے سے اپنا حاکم بنا دےں تو پھر آپ کی کےا رائے ہوگی ۔سقراط نے کہا اگر اےتھنز کے عوام ہمےں ےہ کہےں ےا جمہوری طرےقے سے فےصلہ کر لےں کہ جہاز اس شخص کو چلانے کےلئے دے دےا جائے ےا اس کو جہاز کا کپتان بنا دےا جائے جو جہاز چلانا جانتا ہی نہ ہو ےا وہ ہمےں ےہ کہےں کہ ہم کسی غےر حکےم سے اپنا علاج کرائےں ےا وہ اپنی رائے سے ےہ حکم کرےں کہ اس شخص کو فوج کی کمان دے دی جائے جو فوج مےں رہا ہی نہ ہو تو کےا ہم ان کی ےہ رائے تسلےم کرےں گے ۔اےنی ٹس نے کہا کہ ہر گز نہےں ،ہم لوگوں کے اس طرح کے پاگل پن کے فےصلے ہر گز قبول نہےں کرےں گے ۔سقراط نے کہا کہ آےا جہاز رانی کرنا ےا فن تعمےر ےا فوجوں کی کمان کرنا زےادہ مشکل ہے ےا حکومت چلانا زےادہ مشکل ہے۔اس کا جواب تھا کہ حکومت چلانا انتہائی مشکل کام ہے ۔سقراط نے کہا کہ اےنی ٹس جب ہم ان تمام کاموں کےلئے ماہر تلاش کرتے ہےں ۔مگر ہم حکومت چلانے کےلئے کسی ماہر کی کوئی اہمےت ہی محسوس نہےں کرتے ۔اس کا کہنا تھا کہ اےک غلط ناتجربہ کار جہاز راں کی غلطی سے صرف اےک جہاز غرق ہو سکتا ہے ،چند لوگ مر سکتے ہےں ۔اےک غلط مکان کو دوبارہ تعمےر کےا جا سکتا ہے مگر اےک غلط حکمران کے فےصلوں سے پوری قوم برباد ہو سکتی ہے ۔ملک کا آئےن ،قانون سب کچھ تباہ ہو سکتا ہے ۔تم اےنی ٹس کسی عام انسان کو فوج کی کمان دےنے کے حق مےں تو نہےں ہو مگر تم کسی فوجی کو ملک و قوم کی حکمرانی دےنے مےں خود کو کس طرح حق بجانب خےال کرتے ہو ۔تم کس طرح اےک غےر متعلقہ شخص کو شہر کی حکمرانی اس کے سپرد کر سکتے ہو ۔امور مملکت چلانا دانش ور معاملہ فہم دور اندےش لوگوں کا کام ہوتا ہے ۔حقےقت مےں مفکروں اور مدبروں کو ہی قوموں کا رہبر اور حکمران ہونا چاہےے۔اعلیٰ خصلت اور اعلیٰ ظرف کے حامل لوگ ہی قوموں کی رہنمائی کا فرےضہ ادا کرنے کے قابل ہوتے ہےں ۔اےنی ٹس : جب کوئی شخص حکمران بن جاتا ہے تو وہ سےاست دان بن جاتا ہے ۔سقراط: کےا کسی شخص کے سےاست دان کہلانے سے سےاست کے تمام تقاضے پورے ہو جاتے ہےں ۔کےا وہ دانش و حکمت کے تمام علوم و قانون ،قاعدوں ،دستور سے واقف ہو سکتا ہے جس کی زندگی فوج کے لگے بندھے،مار دو ےا مر جاﺅ ،کے حکم احکام کی عادی ہوتی ہے ۔وہ قومی حالات مےں غورو حوض کرنے کی استطاعت ہی نہےں رکھتا ہو گا ۔دےکھو اےنی ٹس اےک حقےقی سےاست دان حکمران ،فلاسفر اور علم و حکمت والے انسانوں کو ہونا چاہئےے جن کے ہاتھوں مےں ملک و قوم کا مستقبل محفوظ ہو اور جو ہمارے تہذےب و تمدن کے پاسبان ہوں ۔کےا تمہارا نظرےہ حکومت اور تمہاری جمہورےت کا تصور روم کے فاتح سپہ سالار ” کالےگوں “ کا ماضی ہے جس نے اپنے پسندےدہ گھوڑے کو لوگوں سے منتخب کروا کر اپنی پارلےمنٹ کا ممبر بنا لےا تھا جس کا کہنا تھا کہ اس کا گھوڑا بڑے اعلیٰ نسب کا ہے ۔اےتھنز مےں سقراط کو زہر دے کر موت کے گھاٹ اتار دےا گےا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے