کالم

سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داریاں

ہم میں سے اکثریت اس خوش فہمی اور مغالطے کا شکار ہیں کہ سمارٹ فون کی سکرین پر گردش کرتی ہماری انگلیاں ہماری مرضی کی تابع ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم ایک ایسے نظر نہ آنے والے "سفاک شکاری” کے جال میں پھنس چکے ہیں جسے ٹیکنالوجی کی زبان میں الگورتھم کہا جاتا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کو اس سے ہرگز غرض نہیں کہ آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں، اس کی تمام تر دلچسپی صرف اس نکتے میں ہے کہ آپ کس چیز سے نظریں نہیں ہٹا سکتے۔ یہ ٹیکنالوجی ہماری دلچسپیوں کی ترجمان نہیں بلکہ ہماری جبلتوں کی سوداگر بن چکی ہے، جو ہمیں ایک ایسے سحر انگیز قید خانے میں دھکیل دیتی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف الگورتھم کی مرضی سے ہی ملتا ہے۔ الگورتھم کسی بھی کمپوٹر پروگرام کے عملی نظام کا ڈھانچہ ہوتا ہے۔ جو پروگرام کے کام کرنے کی ترتیب بتاتا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے سوشل میڈیا الگورتھمز ایک دیمک کی مانند کام کرتے ہیں، کیونکہ ان کا دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے۔ جب ایک نوجوان کسی خاص موضوع، سیاسی نظریے یا سماجی رجحان میں معمولی سی دلچسپی ظاہر کرتا ہے، تو یہ الگورتھم اسے نوٹ کر لیتا ہے۔ اور انہیں ایک ایسی "سرنگ” نما محدود نقطہ نظر والے ویژن میں دھکیل دیتے ہیں جہاں انہیں صرف وہی کچھ نظر آتا ہے جو ان کے پہلے سے قائم شدہ خیالات کی تائید کرتا ہے۔ پھر یہ نظام آہستہ آہستہ مخالف نقطہ نظر کو چھپانا شروع کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید پوری دنیا اسی طرح سوچتی ہے، حالانکہ یہ محض ایک فلٹر ببل (تخلیق کردہ زاویہ)ہوتا ہے۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ صارف کی توجہ برقرار رکھنے کیلئے الگورتھم اسے رفتہ رفتہ زیادہ شدید اور جذباتی مواد کی طرف لے جاتا ہے۔ نوجوانوں کیلئے یہ صورتحال زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ان کا دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے۔ اور اس عمر میں چونکہ ان کے پاس حقیقی زندگی کا وسیع تجربہ نہیں ہوتا، اس لیے وہ آن لائن نظر آنے والی دنیا کو ہی حتمی سچ مان لیتے ہیں اور یوں تعصب اور انتہا پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کی تحقیقاتی رپورٹ میں 100 سے زائد فرضی اکائونٹس بنا کر کئے گئے ایک تجربے سے یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ "ٹک ٹاک” کا الگور تھم محض چند منٹوں میں یہ بھانپ لیتا ہے کہ صارف کی کمزوری کیا ہے۔ ایک 13 سالہ بچے کے طور پر بنائے گئے اکائونٹ کو صرف 40 منٹ کے اندر ڈپریشن اور مایوسی پر مبنی مواد کی بھرمار کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح فیس بک کی مالک کمپنی(میٹا)کی لیک ہونے والی دستاویزات، "فیس بک فائلز” نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ یہ ڈیجیٹل کمپنیاں نہ صرف ہماری عادات بلکہ ہماری نسلِ نو کے جذبات اور نفسیات کے ساتھ بھی ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہیں۔ میٹا یہ اعتراف کرتی ہے کہ انسٹاگرام ہر تین میں سے ایک نوجوان لڑکی کیلئے "ذہنی زہر”ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا تخلیق کردہ نظام نوجوانوں میں خودکشی کے رجحانات، شدید بے چینی اور بد صورتی کے احساس کو جنم دے رہا ہے۔ یہ محض کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک سفاکانہ تجارتی ماڈل ہے ۔ ہم جسے مفت تفریح سمجھ رہے ہیں، درحقیقت اس کی قیمت ہماری آنیوالی نسلیں اپنی ذہنی صحت اور سکونِ قلب کی صورت میں ادا کر رہی ہیں۔ایک دلخراش مثال برطانیہ کی 14سالہ مولی رسل کا کیس ہے۔ 2017میں جب اس بچی نے اپنی جان لی تو تحقیقات سے پتہ چلا کہ آخری چھ مہینوں میں اس نے خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق 2000سے زائد پوسٹس کو لائک یا شیئر کیا تھا۔ عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ مولی کی موت میں "آن لائن مواد کے منفی اثرات” کا کلیدی کردار تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سلسلہ مولی پر ختم نہیں ہوا۔ حالیہ برسوں میں بلیک آٹ چیلنج جیسے خطرناک رجحانات نے سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے امریکہ سے لیکر پاکستان تک کئی بچوں کی جانیں لی ہیں۔ ان بچوں نے یہ خطرہ خود تلاش نہیں کیا تھا بلکہ ان ایپس کے فار یو پیج نے خودکشی اور جان لیوا کرتبوں کو ایک تفریح بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ۔ اس یلغار کے سائنسی پہلوں کو سمجھنے کیلئے ڈاکٹر جیریڈ کونی ہوروتھ کی امریکی سینیٹ میں دی گئی گواہی ایک سنگِ میل ہے۔ یونیورسٹی آف برکلے میں نیورو سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر ہوروتھ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیائی کمپنیاں بچوں کے اس کمزور اعصابی نظام کو ‘ڈوپامائن’ کے ذریعے ہائی جیک کر لیتی ہیں۔ ڈاکٹر ہوروتھ نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا کا ‘لائیک’، ‘شیئر’اور’لامحدود سکرولنگ’کا نظام جوئے خانے کی مشین کی طرح بچے کے دماغ میں انعامی احساسات کو اس حد تک بیدار کر دیتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھو دیتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ ہو یا مولی رسل کا کیس، ڈاکٹر ہوروتھ کے مطابق یہ محض اتفاقات نہیں بلکہ اس سائنسی حقیقت کا نتیجہ ہیں کہ سوشل میڈیا کی ٹیکنالوجی انسانی جبلتوں کے کمزور ترین گوشوں پر حملہ آور شکاری ہے۔ جب تک ہم اس ٹیکنالوجی کو انسانی حیاتیات کے تناظر میں نہیں دیکھیں گے، ہم اپنی نسلِ نو کو اس سحرِ انگیز مقتل سے نہیں بچا سکیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ والدین اور اساتذہ اس یلغار کا مقابلہ کیسے کریں؟ ہم ٹیکنالوجی کو ختم تو نہیں کر سکتے، لیکن ہم اپنی "ڈیجیٹل حفظانِ صحت” کے اصولوں کو اپنا کر اس کے اثرات کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلا قدم تکنیکی "ری سیٹ” ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ وقفے وقفے سے ایپس کی سیٹنگز میں جا کر "ہسٹری” اور "تجویز کردہ مواد” کو صاف کریں تاکہ الگورتھم کا بنایا ہوا جال ٹوٹ سکے اور فیڈ میں تنوع آئے۔ یوٹیوب پر "آٹو پلے”کو بند رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ اگلی ویڈیو دیکھنے کا فیصلہ مشین نہیں بلکہ انسان کرے۔دوسرا اہم ترین دفاعی ہتھیار "تنقیدی سوچ” ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو سکھانا ہوگا کہ وہ موبائل اسکرین پر نظر آنیوالی ہر چیز پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کریں۔ انہیں "لئیٹرل ریڈنگ”کی عادت ڈالنی چاہیے، یعنی جب کوئی خبر یا پوسٹ جذبات کو مشتعل کرے، تو اسے وہیں روک کر گوگل پر دوسرے غیر جانبدار ذرائع سے اس کی تصدیق کریں۔اس کے علاوہ اسکرولنگ کے دوران "پیٹرن کو توڑنا” بہت ضروری ہے۔ ہر 20منٹ بعد اسکرین سے نظر ہٹا کر جسمانی حرکت کرنا دماغ کے منطقی حصے کو دوبارہ بیدار کرتا ہے جو مسلسل اسکرولنگ کی وجہ سے سو جاتا ہے ۔ آخر میں والدین کیلئے سب سے اہم نصیحت یہ ہے کہ وہ بچوں سے ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ "تم یہ فضول چیزیں کیوں دیکھتے ہو؟” کہنے کے بجائے انہیں سمجھائیں کہ یہ الگورتھم کیسے کام کرتا ہے۔ انہیں بتائیں کہ "کیا کبھی تمہارے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ کوئی ویڈیو دیکھ کر غصہ آیا ہو لیکن تم پھر بھی دیکھتے رہے؟ یہ ایپ پیسے کمانے کیلئے میرے ساتھ بھی ایسا ہی کرتی ہے۔”جب آپ ایسے سوشل میڈیا الگورتھم کو اپنا اور اپنے بچے کا "مشترکہ دشمن” یا "تیسرا فریق” بنا کر پیش کریں گے، تو بچہ آپ کی بات کو نصیحت کے بجائے ایک حکمت عملی کے طور پر لے گا اور یہی وہ شعور ہے جو اسے اس ڈیجیٹل سرنگ سے باہر نکال سکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے