

ہم میں سے اکثریت اس خوش فہمی اور مغالطے کا شکار ہیں کہ سمارٹ فون کی سکرین پر گردش کرتی ہماری انگلیاں ہماری مرضی کی تابع ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم ایک ایسے نظر نہ آنے والے
سفید لباس میں ملبوس ،نم آنکھوں ،دمکتے چہرے کیساتھ باباعلی حیدربولے بیٹا!پاکستان اب 78برس کاہوچکاہے اورہم ہوگئے ہیں88 کے۔ایک دہائی کاہی توفرق ہے ۔ہاں! ایک دہائی میں ہم نے بہت کچھ دیکھاتھا،بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اوراِن
پاکستان ،سرسبزہلالی پرچم،اِس سوہنی دھرتی ، امن کا آشیاں ،پاک وطن کیلئے ہمارے اکابرین نے دِن رات کاوشیں کرکے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن حاصل کیا ۔ 23 مارچ 1940ءلاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں
وطن عزیز۔خطہ فردوس بریں۔یہ نور کا مسکن۔امن کا آشیاں پاک دھرتی جس کےلئے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں بحیثیت قوم ہمیں اپنی جان سے بھی عزیز ہے ۔یوم آزادی کے بعد جب مسلمانوں نے ہندوستان سے اپنے نئے وطن پاکستان