سچ بولنا انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اخلاقی آزمائشوں میں سے ایک رہا ہے۔ جب کوئی فرد یا ادارہ سچ بولنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ محض بیان جاری نہیں کرتا بلکہ ایسا عمل کرتا ہے جو اکثر طاقت ور طبقے،نظام، رجحان اور بعض اوقات اپنی ذات کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔ سچ ایسا آئینہ ہے جس میں ہر وہ چہرہ عریاں ہو جاتا ہے جو نقاب پہن کر خود کو پاکیزہ ظاہر کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ سچ بولنے والے ہمیشہ سے تنقید، دباؤ ، جبر اور بعض اوقات تنہائی کا بھی سامنا کرتے رہے ہیں۔ صحافت جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے کا بنیادی فریضہ ہی سچ کو عوام تک پہنچانا ہے۔ یہ مقدس ذمہ داری ہے جس میں صحافی کو ذاتی مفادات، سیاسی وابستگی، مالی دباؤ یا اداراتی ترجیحات سے بالا ہو کر حقائق کو عیاں کرنا ہوتا ہے لیکن آج کی صحافت خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس مقدس فرض سے کس قدر دور ہو چکی ہے یہ تلخ حقیقت ہے جس کا اعتراف کرنا بھی شاید اتنا ہی کٹھن ہو گیا ہے جتنا خود سچ بولنا۔ موجودہ دور کی صحافت کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خبریں اب معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ ایک خاص بیانیے کو تشکیل دینے،رائے عامہ کو متاثر کرنے اور مخصوص مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلز سے لے کر اخبارات تک اور ڈیجیٹل میڈیا سے سوشل پلیٹ فارمز تک بیشتر جگہوں پر وہ سچ کہیں دب گیا ہے جو صحافت کا اصل جوہر ہوا کرتا تھا۔ خبر کے پیچھے نیت،انداز اور پس منظر نے اسے مشکوک بنا دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب صحافی کو”قلم کا سپاہی” کہا جاتا تھا لیکن اب اس کی جگہ ”نیریٹر” یا ”پروپیگنڈسٹ ”جیسی اصطلاحات نے لے لی ہے۔ بہت سے صحافی اب تحقیق اور تفتیش کے بجائے صرف وہی دکھاتے یا لکھتے ہیں جو انہیں اداراتی طور پر منظور شدہ مواد کے طور پر دیا جاتا ہے۔ ان کی تحریریں یا رپورٹنگ اکثر کسی نہ کسی ایجنڈے کی عکاس ہوتی ہیں اور سچ اگر کہیں ہوتا بھی ہے تو وہ خبر کی آخری لائن میں دبا دیا جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آج کی صحافت اکثر کاروبار بن چکی ہے جس میں ریٹنگ ، اشتہارات اور اداروں کے ساتھ معاہدے سچ سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ جب کسی چینل کا بجٹ کسی بڑی کارپوریٹ کمپنی کے اشتہارات پر منحصر ہو تو وہ چینل کیسے اس کمپنی کے خلاف خبر نشر کر سکتا ہے؟ یا جب کسی اخبار کو حکومتی اشتہارات کی اشد ضرورت ہو تو وہ حکومت کے خلاف تنقید کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ یہ وہ کڑوے سوالات ہیں جن کا جواب اگر ڈھونڈ لیا جائے تو ہمیں صحافت کی موجودہ حالت کی جڑوں تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔ دوسری جانب سوشل میڈیا نے اگرچہ عام آدمی کو اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے لیکن اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ غیرمصدقہ مواد، سنسنی خیز اور بعض اوقات جھوٹی معلومات بھی خبر کے روپ میں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ایسی صورت میں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا عام قاری یا ناظر کیلئے بہت مشکل ہو گیا ہے اس افراتفری میں صحافت مزید بحران کا شکار ہو رہی ہے کیونکہ اب ہر شخص خود کو صحافی سمجھتا ہے اور سچ کی قدر محض ذاتی تشریح تک محدود ہو کر رہ گئی ہے مگر یہ سب کچھ جاننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سچ مکمل طور پر ناپید ہو چکا ہے؟ کیا سچ بولنے والے صحافی اب نہیں رہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں، آج بھی ایسے بے باک، نڈر اور اصول پسند صحافی موجود ہیں جو سچ بولنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں ۔ کچھ کو ملازمتوں سے نکالا گیا، کچھ کو مقدمات کا سامنا ،کچھ کو جلاوطن ہونا پڑاہے اور بعض کو اپنی جان تک گنوانی پڑی۔ ان کے وجود سے امید باقی ہے یہی لوگ حقیقی معنوں میں صحافی ہیں جنہیں نہ جھوٹ خرید سکا، نہ خوف جھکا سکا، نہ مفاد مٹا سکا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ ایسے صحافیوں کی قدر کرے اور ایسے ادارے جن کی ترجیح سچ ہے انہیں سپورٹ کرے ۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سچ صرف بولنے سے قائم نہیں رہتا،اسے سننے اور قبول کرنے والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے اگر ہم خود جھوٹ کی چکاچوند میں سچ کو نظر انداز کریں گے تو ایک دن وہ وقت بھی آ سکتا ہے جب سچ صرف کتابوں میں پڑھنے کی حد تک ہی رہ جائے گا۔۔سچ بولنا ہمیشہ سے کٹھن رہا ہے اور شاید ہمیشہ رہے گا مگر یہی کٹھنائی انسان کو عظمت کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ صحافت اگر اس راہ کو اپنائے تو نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی ساکھ واپس پا سکتی ہے بلکہ معاشرے کو بھی جھوٹ کی تاریکی سے نکال کر سچ کی روشنی میں لا سکتی ہے اور یہی وہ خواب ہے جو ہر سچے صحافی کی آنکھوں میں جگمگاتا ہے کہ سچ کی روشنی ہر قیمت پر۔

