سابقہ قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک اچھا فیصلہ ہے لیکن ضم شدہ قبائلی علاقے بہت سے مسائل کا شکار ہیںجن میں صحت، تعلیم، مواصلات، امن وامان اورانتظامی معاملات شامل ہیں۔یہ علاقے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں مگر گزشتہ مرکزی و صوبائی حکومتوں نے قبائلی عوام کےلئے کچھ نہیں کیا۔
محترم سراج الحق امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے ضم شدہ قبائلی علاقوں کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ معدنیات، سیاحت اور باصلاحیت نوجوانوں کی نعمت سے مالامال صوبہ میں چاروں طرف غربت ناچ رہی ہے۔ خیبرپی کے کو سی پیک میں حصہ ملا نہ ہی سیلاب اور دہشت گردی سے شدید متاثر عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ دیر، چترال ایکسپریس لائن اور انڈسٹریل سٹی بنانے کی باتیں کاغذوں تک محدود رہیں۔ سابقہ حکومتوں نے کے پی کو محروم رکھا، مرکز نے صوبے سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آ کر کے پی کے وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے۔ امن قائم کر کے خوشحالی اور ترقی کے دروازے کھولیں گے۔ بطور سابق فنانس منسٹر صوبے کو قرض فری بنایا، عوامی خدمت کی مثالیں قائم کیں۔ سیلاب کے دوران جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان کے پی میں فلاحی سرگرمیوں میں مصروف رہے جس کی عالمی سطح پر تحسین ہوئی۔ انتخابات قوم کے لیے اپنی حالت بدلنے کا بہترین موقع ہے۔ جماعت اسلامی صاف، شفاف اور شیڈول کے مطابق الیکشن چاہتی ہے۔جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر نظریہ پاکستان کے مطابق ملک کی تشکیل کرے گی۔ قرآن و سنت کا نظام رائج کر کے عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ بنائیں گے۔ عوام سے اپیل ہے کہ الیکشن میں جماعت اسلامی کی اہل اور ایمان دار قیادت کا انتخاب کرے۔ جماعت اسلامی اداروں میں اصلاحات پر یقین رکھتی ہے۔ ٹیکسوں کا موجودہ نظام فرسودہ ہے۔ اقتدار میں آ کر عوام کی کرپٹ سسٹم سے جان چھڑائیں گے۔ وسائل کا رخ شہریوں کی فلاح و بہبود کی طرف موڑا جائے گا۔زمین اور کارخانوں کی پیداوار کے منافع میں ہاریوں اور مزدوروں کو شریک کریں گے۔
سابقہ حکومتوں نے قوم کو قرضوں کی زنجیروں میں باندھا، یہ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک سے قرضے لائے اور اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا، ادائیگی کے لیے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ ن لیگ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی معیشت کی تباہی، مہنگائی اور بے روزگاری میں برابر کی شریک ہیں،ناکام حکومتیں کیں اور ڈلیور نہیں کر سکیں، ملک کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں اسے اچھی حکمرانی درکار ہے۔
جناب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسلامی ممالک مل کر غزہ کو محفوظ بنانے کے لیے اجتماعی اقدامات کریں۔فلسطین کے عوام کی سکیورٹی اور تحفظ کو یقینی بنانا حکمرانوں کا فرض ہے۔یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل تک مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور نتیجتاً مسلم دنیا امن و سلامتی کی منزل حاصل نہیں کر سکتی۔ یہ غالب امر ہے کہ بحیثیت مجموعی مسلم ممالک کے عوام کے دل بیت المقدس اور قبلہ اول کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ اپنے روحانی و ملکی فریضہ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں، چنانچہ آج مسئلہ فلسطین اور کشمیر کا حل امتِ مسلمہ کے اتحاد سے ج±ڑا ہے جس کیلئے بالخصوص او آئی سی اور عرب لیگ کو مل کر فوری اقدامات کرنے ہونگے کیونکہ یہ سچ ہے کہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا ہے جس سے مسلمانوں کی دینی و روحانی نسبت ہے۔ اس لئےجب تک پوری مسلم قیادت بغیرکسی سمجھوتےیابیرونی دباو¿کے متحد ہو کرایک مربوط پالیسی اپناتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر عملاً آواز نہیں اٹھاتی اس وقت تک فلسطین کا کوئی ممکنہ حل نظر نہیں آتا۔
گزشتہ نصف صدی سے اسرائیل مسلسل فلسطین میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ کررہاہے مگر تمام نام نہاد انسانیت دوست ممالک ،حقوق انسانی کی محافظ تنظیمیں اور مظلوموں کے علم بردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر عالم اسلام اسرائیلی مظالم اور جارحیت کے خلاف متحد ہوکر مقاومت کی کوشش کرتا تو آج نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی۔مگر عالم اسلام کی بے حسی ،استعماری طاقتوں کی تملق پرستی اور امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات سے چشم پوشی کرتے ہوئے صہیونی سازشوں اور منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کی معاونت نے قبلہ اول ،مفادات امت اور فلسطینی مظلوم عوام کے حقوق کو دشمن کے ہاتھوں نیلام کردیا۔
غزہ پر اسرائیل کے ظلم وجارحیت میں روزبروز اضافے کا سبب مسلم حکمرانوں کی بے حسی ہے۔ اسرائیل کا صرف ایک علاج الجہاد ہے۔ جس طرح غیر مسلم ممالک مل کراسرائیل کی پشت پناہی کررہے ہیں ،اسی طرح مسلم حکمران متحد ہوکر اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کریں۔مسلم حکمران بے حسی کی چادر اتاریں اور امت مسلمہ کی ترجمانی کرتے ہوئے حق حکمرانی اداکریں۔پڑوسی ممالک فلسطینیوں کے لئے سرحدیں کھولیں اور انہیں فوری امداد پہنچائیں۔
کالم
ضم شدہ قبائلی علاقوں کے مسائل
- by web desk
- جنوری 13, 2024
- 0 Comments
- Less than a minute
- 772 Views
- 2 سال ago

