یہ حقیقت اب کسی ابہام یا تاویل کی محتاج نہیں رہی کہ پاکستان آج ایک ایسے سیاسی و انتظامی نظام کے زیرِ اثر ہے جہاں عوام کی حیثیت محض ووٹ ڈالنے تک محدود ہو چکی ہے۔ فیصلہ سازی کے اصل مراکز کہیں اور ہیں اور عام شہری جو ریاست کا اصل ستون ہونا چاہیے، عملا ایک تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ اچانک پیدا ہوئی ہے اور نہ ہی اسے وقتی کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے یہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہے جس میں ادارہ جاتی کمزوریاں، سیاسی مفادات، باہمی عدم اعتماد اور طاقت کے غیر متوازن استعمال نے مل کر عوامی اختیار کو بتدریج محدود کر دیا ہے۔یہ سوال اہم ہے کہ کیا اس سب کو دیکھتے ہوئے خاموش رہنا حب الوطنی کہلائے گا؟ یا پھر سوال اٹھانا، اختلاف کرنا اور بہتری کی بات کرنا ہی اصل وفاداری ہے؟ وطن سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر خرابی پر پردہ ڈال دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ مسائل کی نشاندہی کی جائے اور اصلاح کی راہیں تلاش کی جائیں چاہے یہ عمل کتنا ہی مشکل یا غیر مقبول کیوں نہ ہو۔اگر موجودہ اقتدار کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو بظاہر ایک منتخب حکومت موجود ہے وزیراعظم اپنے عہدے پر فائز ہیں، کابینہ کام کر رہی ہے اور پارلیمنٹ کا وجود بھی برقرار ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ تاثر عام ہے کہ منتخب قیادت کے اختیارات محدود ہیں۔ نواز شریف، جو تین مرتبہ عوام کے ووٹ سے وزیراعظم بنے، آج عملی سیاست میں ایک محتاط اور خاموش کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ خاموشی کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس وسیع تر نظام کی علامت ہے جس میں منتخب قیادت کو اکثر مفاہمت، توازن اور خاموشی کو ترجیح دینا پڑتی ہے جبکہ ان کے بھائی وزیراعظم اور بیٹی 60 فیصد آبادی والے صوبے کی وزیراعلی ہیں ۔یہی وہ نواز شریف ہیں جو کبھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے تھے۔ آج سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں خاموش ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کون سا منتخب رہنما ایسا ہے جو مکمل آزادی کے ساتھ بغیر کسی دبائو کے اپنی رائے پر قائم رہ سکتا ہے؟ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے جس کا تعلق پورے سیاسی ڈھانچے سے ہے نہ کہ کسی ایک جماعت یا شخصیت سے۔دوسری جانب عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کا معاملہ اس نظام کی ایک اور تصویر پیش کرتا ہے۔ عمران خان کی سیاست سے اختلاف ممکن ہے ان کے فیصلوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والا سلوک ملک میں سیاسی عدم برداشت اور تصادم کی فضا کو ظاہر کرتا ہے۔ گرفتاری، مقدمات، نااہلی، جماعت کے اندر توڑ پھوڑ اور کارکنوں پر دبائو یہ سب ایسے عوامل ہیں جنہوں نے سیاسی عمل کو مزید کمزور کیا ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ مقبولیت کی ایک حد ہے اور اس حد سے آگے بڑھنے کی قیمت سیاسی تنہائی یا سخت اقدامات کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے ۔ یہ جمہوریت کیلئے ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے نہ کہ اسے طاقت سے دبایا جائے۔ اگر سیاست کو خوف مقدمات اور دبا کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا تو اس کا نقصان صرف سیاستدانوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو ہوگا۔پیپلز پارٹی کا کردار بھی اس تناظر میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک جماعت جو کبھی مزاحمت، قربانی اور عوامی حقوق کی علامت سمجھی جاتی تھی آج مفاہمتی سیاست اور اقتدار میں شراکت تک محدود نظر آتی ہے۔ بھٹو کا نظریہ اب زیادہ تر تقریروں اور نعروں تک رہ گیا ہے جبکہ عملی سیاست میں اقتدار کا تسلسل اور مفادات کا تحفظ زیادہ نمایاں ہے۔ سندھ میں طویل حکمرانی کے باوجود عام شہری آج بھی صاف پانی، صحت، تعلیم اور انصاف جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقتدار کا مقصد واقعی عوامی خدمت ہے یا محض اقتدار کا تحفظ؟اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی اندرونی جمہوریت کا فقدان واضح ہے۔ قیادت مخصوص خاندانوں یا گروہوں تک محدود ہے، اور عام کارکن یا نظریاتی رہنما کیلئے آگے بڑھنے کے راستے مسدود دکھائی دیتے ہیں۔ جب سیاسی جماعتیں خود جمہوری اصولوں پر عمل نہیں کرتیں تو وہ ملک میں مضبوط جمہوریت کیسے قائم کر سکتی ہیں؟ان تمام عوامل کے اوپر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ریاستی ادارے، خصوصا طاقتور ادارے، ملک کے سیاسی عمل پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ یہ اثر و رسوخ اب کوئی خفیہ بات نہیں، بلکہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ تاہم یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مسئلہ اداروں کے وجود کا نہیں، بلکہ آئینی حدود کے تعین اور ان پر عمل درآمد کا ہے۔ ہر ادارے کا ایک متعین دائرہ کار ہے اور جب یہ حدود دھندلا جاتی ہیں تو ریاستی توازن متاثر ہوتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو داخلی و خارجی سطح پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے سلامتی کے مسائل، معاشی دبائو،علاقائی کشیدگیاں اور ان حالات میں تمام اداروں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ مگر ہم آہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ادارہ باقی سب پر حاوی ہو جائے۔ اصل ضرورت اعتماد سازی، شفافیت اور آئین کی بالادستی کی ہے۔اس پورے نظام میں سب سے زیادہ استحصال عوام کا ہو رہا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، ٹیکسوں کا بوجھ، کمزور عدالتی نظام اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ عوام قربانیاں دیتے ہیں مگر ان کے بدلے میں انہیں اختیار، انصاف یا سہولت نہیں ملتی۔ احتجاج کریں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں سوال کریں تو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور خاموش رہیں تو استحصال معمول بن جاتا ہے۔میڈیا جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کی آواز ہوتا ہے خود دبا، خوف اور مفادات کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ آزاد صحافت محدود ہو چکی ہے، اور سچ بولنے کی قیمت اکثر نوکری، آزادی یا ساکھ کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے اس کا براہِ راست نقصان عوامی شعور کو ہوتا ہے کیونکہ جب مکمل سچ سامنے نہیں آئے گا تو عوام باخبر فیصلے کیسے کریں گے؟اس سب کے باوجود امید کی کرن مکمل طور پر بجھی نہیں۔ نوجوان نسل سوال کر رہی ہے، بیرونِ ملک پاکستانی کھل کر بات کر رہے ہیں، اور سماجی رابطوں کے ذرائع نے معلومات کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ مسئلہ شعور کی کمی نہیں بلکہ اس شعور کو مثبت، منظم اور پرامن جدوجہد میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔یہ ملک ہم سب کا ہے ۔ اس سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ خاموشی اختیار کر لی جائے بلکہ یہ ہے کہ بہتری کے لیے آواز اٹھائی جائے۔ سوال کرنا غداری نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار شہری کا حق اور فرض ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی نظام جو عوام کو مسلسل نظر انداز کرے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ غربت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، تقریباً 45فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور کروڑوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پارلیمنٹ کمزور، معیشت دبا میں اور ریاستی ستون باہمی عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال اصلاح، مکالمے اور آئینی بالادستی کی متقاضی ہے۔سوال اب یہ نہیں کہ ملک کس حال میں ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس حال کو بدلنے کیلئے سنجیدہ، بالغ نظر اور مشترکہ کوشش کب کریں گے؟

