ایک ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو سنی جس میں بتایا کہ میں نے بطور ڈاکٹر آئی سی یو میں دو سال کام کیا۔ اس یونٹ میں گردے،دل، جگر اور فالج کے وہ مریض آتے ہیں جن کے یہ باڈی پارٹس ناکارہ ہو چکے ہوتے ہیں یعنی اس یونٹ میں تمام مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔کچھ یہ جنگ جیت کر گھر چلے جاتے ہیں اور کچھ دنیا سے چلے جاتے ہیں ۔ اس یونٹ میں مریض کے جسم پر ہر طرف نلکیاں ،کوئی خون کی ،کوئی پیشاب کی اور کوئی سانس کی لگی ہوتی ہیں۔کھانا پینا منہ کے راستے بند ہو جاتا ہے۔ ادویات اور خوراک انجکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔ کہا ہمیں پہلے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سا مریض اب دنیا چھوڑ کر جانے والا ہے اور کون سا گھر ۔ ایک مریض نرس کو کہتا ہے تم نے میری بہت خدمت کی یہاں سے چلا جاؤں گا تو کیا مجھ سے ملنے آ گی۔ نرس نے جواب دیا نہیں۔مریض نے پوچھا کیوں نہیں۔ جواب دیا مجھے قبرستان سے ڈر لگتا ہے۔ ایک روز میں اسی یونٹ میں کام کر رہا تھا کہ ایک ستر سال کا مریض جو ہوش میں تھا اسے موت دکھائی دے رہی تھی اور وہ زور زور سے رو رہا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ اس کے جانے کا وقت آ چکا ہے۔ میں اس کے پاس گیا، اس کے سر پر ہاتھ رکھا ،پوچھا آپ کیوں رو رہے ہو، کہا اپنی ساری زندگی میری آنکھوں کے سامنے ا رہی ہے۔پوچھا کیا دیکھ رہے ہو۔ ایک لائن میں کہا مجھے زندگی میں جو نہیں کرنا چاہیے تھا وہ میں کرتا رہا ہوں۔ جو مجھے کرنا چاہئے تھا وہ میں نے زندگی میں نہیں کیا۔ اللہ نے مجھے بڑے عہدے سے نوازا ،دولت اور پاور دی تھی مگر میں ہمیشہ اس عہدے کے نشے میں رہتا۔ لوگوں کے جائز کام بھی نہ ہونے دیتا اور ان کا دل دکھانے میں خوش رہتا۔میرے پاس پیسے، پاور اور عہدہ تھا۔اس وقت میں چاہتا تو لوگوں کے کام آ سکتا تھا مگر میں نے اس وقت ایسا کبھی سوچا ہی نہیں تھا اس وقت میں سنگدل تھا۔ اب مجھے احساس ہوا ہے کہ میں نے ایسا کر کے اچھا نہیں کیا۔میں اب ان سے معافی مانگنا چاہتا ہوں مگر اب یہ ممکن نہیں ہے ،مجھے پتہ ہے، اب میں روتے روتے ہی موت کو گلے لگا ؤںگا ۔مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ یہ سب عہدے اور زندگی عارضی ہے اور موت اٹل ہے ۔ کہا یہ میں اس لیے آپ کو بتا رہے ہوں کہ اب بھی میرے جیسے لوگ بڑے بڑے عہدوں پر موجود ہیں۔انہیں بتادو کہ یہ سب کچھ عارضی ہے ،لہٰذا وہ کچھ نہ کرو جس سے تم بھی موت کو رو کر گلے لگاؤ ۔ لوگوں کو یہ بھی بتاؤ کہ عزیز اور دوست وہ ہوتے ہیں جو اسپتال کے بیڈ پر آپ کے پاس ہوں ،جب عہدوں پر ہو تو خدا کی مخلوق کو خوش رکھا کرو، ان کے کام آؤ۔ لوگوں کے جائز کام کیا کرو عہدے ملنے پر گردن میں سریا نہ رکھو، کوئی پتہ نہیں سانس کی ڈور کب ٹوٹ جائے۔ ڈاکٹر صاحب کو سن کر مجھے یہ واقعہ کسی کا سنایا گیا یاد آ گیا۔ ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس صاحب جو پہلے اپنے سرکاری بنگلے میں رہا کرتے تھے، اب ریٹائر ہونے کے بعد پوش ایریا میں اپنے ذاتی گھر میں رہنے لگے۔ انہیں اپنی حیثیت پر بہت فخر تھا۔یہ اب بھی اپنے آپ کو ریٹائر ہونے کے بعد بھی حاضر سروس چیف جسٹس سمجھا کرتے تھے۔ روز شام کو وہ اپنے قریبی پارک میں چہل قدمی کرتے اس لیے جاتے تھے کہ لوگ میرے بارے میں باتیں کریں لیکن خود وہاں آنے والے کسی سے بات نہ کرتے، نہ کسی کے سلام کا جواب دیتے۔اس لیے کہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ میرے لیول کے نہیں ہیں ۔ایک دن وہ بنچ پر بیٹھے تھے، تب ایک بوڑھا شخص ان کے ساتھ آ کر بیٹھا اور ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا لیکن چیف صاحب نے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ وہ صرف اپنے بارے میں ہی بولتے رہے کہ کس طرح میں نے کورٹ آرڈر سے وزیراعظم کو گھر بھیج دیا تھا۔ میرے پاس بڑا عہدہ تھا بڑی عزت تھی بڑا روپ تھا۔ کہا "میں یہاں تازہ ہوا کھانے آتا ہوں کسی سے ملنے نہیں ۔یہ لوگ میرے لیول کے نہیں ہیں۔ وہ بوڑھا خاموشی سے انہیں سنتا رہا۔آخر میں کہا "سنیے چیف صاحب ،بلب ہوتا ہے نا جب تک جلتا ہے، تب تک اہم ہوتا ہے۔ لیکن ایک بار فیوز ہو جائے، تو چاہے وہ 10واٹ کا ہو یا 1000 واٹ کا سب برابر ہو جاتے ہیں۔مگر دیکھنے میں وہ بلب تو رہتا ہے لیکن روشنی نہیں دیتا۔ میں یہاں پچھلے پانچ سال سے رہ رہا ہوں، لیکن میں نے آج تک کسی کو نہیں بتایا کہ میں چیف آف آرمی ہوا کرتا تھا۔یہ سنتے ہی چیف صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ بوڑھے نے اشارے سے بتایا "آپ کے دائیں طرف جو صاحب بیٹھے ہیں، وہ برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ممبر رہ چکے ہیں ۔سامنے جو صاحب بیٹھے ہنستے ہوئے بات کر رہے ہیں وہ امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر رہ چکے ہیں اور کونے میں جو سفید کپڑوں میں صاحب بیٹھے ہیں وہ ایٹمی ادارے کے چیئرمین ہوا کرتے تھے ،ایٹم بم بنا چکے ہیں لیکن اِن میں سے کسی نے بھی کبھی کسی کو یہ نہیں بتایاکہ میں کون ہوں "میری بس ایک بات ہے ہم سب یہاں آپ سمیت فیوز بلب ہیں ۔جب بجلی چلی جاتی ہے توسب ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔ کہا طلوع ہوتا سورج اور غروب ہوتا سورج دونوں میں بڑا فرق ہے۔ لوگ صرف طلوع ہوتے سورج کو ہی سلام کرتے ہیں۔غروب ہونے والے کو کوئی نہیں پوچھتا۔ یہ حقیقت ہے جسے ماننا ہی پڑتا ہے۔جو عہدے، پاور فل اختیارات ہوتے ہیں وہ ہماری اصل شناخت نہیں ہوتے وہ سب عارضی ہوتے ہیں۔یہ تو ایک دن سب ختم ہونے والے چیزیں ہیں۔شطرنج کی مثال دیتے ہوئے کہا شطرنج میں بادشاہ، وزیر، اونٹ، گھوڑا، پیادہ ان کی اہمیت صرف کھیل کے دوران ہی ہوتی ہے۔ایک بار کھیل ختم ہوا تو سب ایک ہی ڈبے میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اب ہم سب بھی ایک ڈبے میں بند ہیں۔ یہ سن کر واپس گھر روانہ ہو گئے پھر کبھی چہل قدمی کرتے دکھائی نہ دیئے ۔ ان کے دوسرے ساتھی نے کہا پہلے زمانے میں لوگ گناہ کر کے پچھتاتے تھے اور نیکی کو چھپاتے تھے۔ رشوت کھانے والے سے لوگ مراسم نہیں رکھتے تھے۔ اب سوشل میڈیا پر اس نیکی کو پبلک نہ کر دیا جائے تو انہیں ثواب ضائع ہونے کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اب لوگ گناہ کو چھپاتے نہیں پھیلاتے ہیں۔ لوگ رشوت لینے والے کو برا نہیں سمجھتے رشوت کھانے والوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس رمضان میں جونہی عید کا چاند نظر آیا اور اعتکاف کی پابندیاں ختم ہوئیں،ہم نے تسبیح کو الوداع کہا اور اسمارٹ فون کو یوں سینے سے لگا لیا جیسے کوئی بچھڑا ہوا مدتوں بعد ملا ہو جیسے۔ رمضان کے بعد شیطان نے کیا آزاد ہونا تھا آزاد تو ہمارے نمازی روضے دار بھی ہوئے۔ کہتے ہیں ہم نے تو عبادات اور روضوں سے پرانے گناہ بخشوا چکے ہیںلہٰذا پھر سے وہی ہیرا پھیری والے ان کے شروع ہیں یہ سب اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ انہیں یقین نہیں اللہ دیکھ رہا ہے اور موت برحق،جو کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ یہ جو ناجائز مال و دولت بناتے ہیں یہ ساتھ قبر میں نہیں لے جا سکتے ۔اب یہی مال و دولت تمہاری اولاد میں نفرت لڑائی پیدا کرے گی۔ لہذا موت پہ یقین رکھنا ضروری ہے۔زندگی ایک نعمت ہے اس سے بور نہ ہوا کریں۔ ہر وقت شکر اداکریں کہ اس ذات نے آپ کو جانور، پرندہ، کوئی کیڑا مکوڑا نہیں بنایا۔ لہذٰا دوسروں کی بھلائی کے لیے سوچا کرو ۔ زندگی میں کچھ بنو نہ بنو ایک اچھا انسان بننے کی کوشش ضرور کیا کرو۔
بدن میرا مٹی کا ہے
سانسیں میری ادھار ہیں
گھمنڈ کرتے ہو تم کس کا
یہاں تو سب کرایہ دار ہیں
کالم
عہدے اور اختیارات سب عارضی ہوتے ہیں
- by web desk
- مارچ 30, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 69 Views
- 2 مہینے ago

