اداریہ

غداران وطن“ اور ” جاروب کش بیانیہ

تحریر: عرفان صدیقی۔
جاروب، یعنی جھاڑو، فرش پر بکھری پڑی اشیاء میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ سب کچھ سمیٹ کر کسی کونے میں جمع کر دیتا ہے۔ جھاڑو
پھیرنے ہی کے انداز میں کسی موضوع کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور ٹھوس موقف اختیار کرنے کے بجائے محض پلڑوں کا توازن قائم
رکھنے کے لئے عمومی فتوی نما بیان جاری کر دینے کو انگریزی میں (Sweeping Statement) کہتے ہیں۔ اس کا مہذب ترجمہ تو
جاروب کش بیانیہ ہی ہو سکتا ہے لیکن عام فہم اُردو میں اسے جھاڑو پھیر بیانیہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ ہمارے بیشتر مبصرین نے اسی
جھاڑو پھیر بیانیے کو اپنا ہنر بنالیا ہے۔ سو ایک ہی لاٹھی یا عصائے دانش سے ہانکنے کا چلن عام ہو چلا ہے۔
اصولی طور پر یہ بات سوفی صد درست ہے کہ کسی کے چہرے پر ملک دشمنی یا غداری کی کالک تھوپنا انتہا درجے کی زیادتی بلکہ ظلم
ہے۔ اس دلیل کو بھی جواز نہیں بنایا جا سکتا کہ خود عمران خان کس کس کو گلا پھاڑ پھاڑ کر میر جعفر اور میر صادق قرار دیتے اور کس کس طرح سیاسی
حریفوں پر بغاوت اور غداری کے مقدمے بنواتے رہے۔ خود مجھ پر بننے والے کرایہ داری کیس کو تو ایک نظیر کی شکل حاصل ہو چکی
ہے لیکن کرایہ داری کے علاوہ مجھ پر اکتوبر 2020 میں بغاوت اور غداری کا ایک مقدمہ بھی قائم ہوا تھا۔ کوئی ڈیڑھ درجن اور مسلم لیگی
بھی ایف آئی آر کا حصہ بنائے گئے تھے۔ جرم یہ تھا ے تھے۔ جرم یہ تھا کہ ہم نے بیرون ملک بیٹھے، نواز شریف نامی ایک اور غدار کی وڈیولنک کے
ذریعے تقریرینی تھی۔ اس سب کچھ کے باوجود ٹھوس شواہد کے بغیر خان صاحب کے قرض کی ادائیگی ، اُن کی ٹیکسال میں ڈھلے سکوں میں نہیں
کی جاسکتی۔
جار وب گش مبصرین قرار دیتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو رہا ہے جو حسین شہید سہروردی، محترمہ فاطمہ جناح،
خان عبدالغفار خان ، جی ایم سید غوث بخش بزنجو، ولی خان ، عطاء اللہ مینگل ، خیر بخش مری، نواب اکبر بگٹی ، اجمل خٹک ، ذوالفقار علی بھٹو،
بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ ہوا۔ یہ محض چند نام ہیں جو یاد آ رہے ہیں ورنہ یہ فہرست بہت طویل ہے۔ خان صاحب کے
ساتھ ایک فی صد بھی وہ کچھ نہیں ہو رہا ہے جو عہد رفتہ کے غداروں کے ساتھ ہوتا رہا ہے لیکن کیا ان غداروں میں سے بھی کسی
نے وہی کچھ کیا جو خان صاحب نے اقتدار سے باہر اور اقتدار کے اندر رہتے ہوئے کیا اور اب تک کر رہے ہیں؟
خان عبد الغفار خان ( با چا خان ) کو غدار اعظم کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ وہ سامراج کے خلاف لڑی جانے والی جنگ آزادی آز
کے ہر اول دستے میں تھے۔ پاکستان بننے سے قبل ساڑھے چودہ برس انگریز کی قید میں رہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی اپنے دوٹوک
موقف (وہ جو بھی تھا) کے باعث چوبیس برس زندانوں میں ر مار ہے۔ 1948 میں پہلی پہلی گرفتاری ہوئی تو اُن کی جماعت ‘خدائی خدائی خدمت گار
نے 12 اگست 1948 کو ایک قصبے بابڑا میں احتجاجی جلسہ کیا۔ پولیس نے شدید فائرنگ کی ۔ مصدقہ اعداد و شمار جانے کیا ہیں لیکن خدائی
خدمت گاروں کے مطابق چھ سو سے زائد افراد لقمہ اجل ہو گئے ۔ خان عبدالقیوم خان نے جوابی جلسہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلحہ ختم نہ
ہو جاتا تو ایک بھی شخص بچ کر نہ جاتا ہے غدار ہیں میں ان کا نام ونشان تک مٹا دوں گا اور اصور اشتعال کی آگ میں دھڑ دھڑ جانے لگا
لیکن زنداں سے غدار اعظم نے پیغ نے پیغام جاری کیا کہ میرا فلسفہ سیاست ، عدم تشدد ہے۔ خبردار کوئی ہتھیار نہیں اٹھائے گا۔ پھرے
ہوئے پشتون ، خون کے گھونٹ پیتے ہوئے گھروں میں بیٹھ گئے ۔ باچا خان نے مجموعی طور پر 39 سال قید کائی ۔ نہ سہولیات مانگیں ، نہ کسی
اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے ترلے کئے ، نہ اپنے عشاق کو کسی 9 مئی پر اکسایا، نہ عالمی طاقتوں کو پاکستان کی رگ جاں دبوچنے کی ترغیب
دی۔
اس غدار اعظم کے بیٹے ( جو خود بھی غدار “ تھا) خان عبدالولی خان نے قومی یک جہتی کا تاثر دینے کے لئے متحدہ
جمہوری محاذ کے پرچم تلے، 23 مارچ 1973 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کیا۔ ہزاروں پشتون جلسے میں شرکت کے لئے
آئے ۔ مورچہ بند نشانچیوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ جلسہ درہم برہم ہو گیا۔ ولی خان درجن بھر لاشیں اٹھا کر واپس چلا گیا۔ اُس نے
گھر گھر جا کر رد عمل کا راستہ روکا اور فتنہ وفساد کی آگ نہ بھڑ کنے دی۔
غداروں کی صف اول میں شامل ایک سرکردہ نام جی ایم سید کا بھی ہے جس نے سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور پاکستان
میں شمولیت کے لئے مرکزی کردار ادا کیا۔ اُس کی انقلابی دانش اور سندھو دیش کے تصور سے اختلاف کرنے والوں کی کمی نہ تھی لیکن وہ جو
بھی تھا، کھلی کتاب تھا۔ بغیر کسی مقدمے، بغیر کسی عدالتی فیصلے ہمیں سال قید میں رہا۔ اُس دن بھی قید میں تھا جس دن 91 برس کی عمر پا کر دنیا
سے رخصت ہوا۔
کالم کی تنگ دامانی اجازت دیتی تو میں عہد رفتہ کے جید غداروں کے ساتھ ساتھ بے نظیر بھٹو شہید اور نواز شریف جیسے
غداران وطن کی غداریوں کی داستان بھی بیان کرتا جن کی روحیں اور جسم چھلنی کر دیئے گئے لیکن نہ انہوں نے پلٹ کر تیر
برسانے والی کمین گاہوں کی طرف کوئی کنکر پھینکا نہ یہ کہا کہ ہم نہیں تو بھلے پاکستان پر ایٹم بم گر جائے ۔ ایک نیم غدار آصف علی
زرداری کا ذکر بھی بے جانہ ہوگا جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر عوامی جذبات کا آتش فشاں ٹھنڈا کر دیا
تھا۔
ماضی کے سارے غدار “ بہت برے سہی لیکن سہروردی سے نواز شریف تک کسی غدار “ نے بھی محض اپنے اقتدار اور ذاتی
مفاد کے لئے ، خفیہ دستاویز سائھر سے کھیلنے اور پاکستان کے خارجہ تعلقات بگاڑنے کی کوشش نہیں کی کسی نے پاکستان کو دیوالیہ پن کے
گڑھے میں دھکیلنے کے لئے عالمی اداروں کو خط نہیں لکھے، کسی نے لابنگ فرمز کے ذریعے امریکی کانگریس، اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے
پاکستان مخالف قراردادیں منظور نہیں کرائیں، کسی نے آرمی چیف کی تقرری کو کوچہ و بازار کا موضوع نہیں بنایا، کسی نے اس مقصد کے لئے
اسلام آباد پر لشکر کشی نہیں کی کسی نے مسلح افواج میں بغاوت ابھارنے کی سازش نہیں کی کسی نے 9 مئی جیسی غارت گری کا تصور تک نہیں
کیا ، کسی نے اپنے سرکش حواریوں کے ذریعے چند گھنٹوں کے اندر اندر دو سو سے زائد دفاعی تنصیبات پر حملے نہیں کئے، کسی نے
جی ایچ کیو پر یلغار نہیں کی کسی نے کور کمانڈروں کے گھر نہیں جلائے، کسی نے فضائیہ کے اڈوں میں گھس کر طیارے نذر آتش نہیں کئے،
کسی نے شہداء کے مقدس مزاروں کے بیچنے نہیں ادھیڑے، کسی نے مسلح افواج کے خلاف، بھارتی سوچ سے بھی کہیں زیادہ مکروہ
پرا پگنڈے کا با ضابطہ نظام وضع نہیں کیا، کسی نے امریکہ اور کینیڈا میں پاکستان کے چہرے پر کالک کاری کے مراکز قائم نہیں کئے ، اور کسی
کے جانثاروں نے کبھی اس نوع کا جملہ نہیں کہا کہ ” خان نہیں تو پاکستان بھی نہیں ۔“
جھاڑو پھیر مبصرین سے صرف اتنی دست بستہ گذارش ہے کہ غداروں کی صف میں خان صاحب کے منفرد، ممتاز اور
جدا گانہ مقام کو عمومیت کی ” جاروب کشی میں لپیٹ کرنا انصافی نہ کریں۔ تہمت بے جاہی سہی جو ان گنت دوسری شخصیات پر بھی لگتی رہی،
لیکن خان صاحب کو گئے گزرے زمانوں کے گئے گزرے غداروں جیسا قرار دینا بھی اُن کے بلند قد کاٹھ کی کھلی تو ہین ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے