اسرائیل ایک ناجائز ریاست اور دنیا کے سینے پر ایک ناسور کی مانند ہے جو گزشتہ 75برسوں سے رستا چلا آرہا ہے ، یہ ناجائز ریاست نہ صرف عالمی طاقتوں کے تعاون سے قائم ہوئی بلکہ ابھی تک ان کی آشیر باد اور سرپرستی میسر قائم چلی آرہی ہے ، ایک چھوٹے سے علاقے میں اپنا قبضہ اور اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے اسرائیل نے دنیا کی جدید ترین اور مہلک ہتھیار اکھٹے کررکھے ہیں جن کا استعمال وہ نہتے فلسطینیوں پر کرتا رہتا ہے ، فلسطینی ایک آزاد ریاست اور اپنی آزادی کیلئے مصروف عمل ہیں ، ایسی ہی فلسطینی مجاہدوں کی جماعت حماس نے گزشتہ روز غزہ کی پٹی پر لگی باڑ کو توڑتے ہوئے اسرائیل کے اندر گھسنے کا عمل کیا جس سے پورے مشرقی وسطیٰ کے امن کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں ، اب تک ہونے والی لڑائی میں سو سے زائد اسرائیلی فوجی فلسیطنوں نے یرغمال بنالیے جبکہ اسرائیل اپنی زمینی اور فضائی فوج کا بھر پور استعمال کرکے بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں ، اخباری اطلاعات کے مطابق قابض اسرائیلی فورسز فلسطینیوں پر وحشیانہ انداز میں ٹنوں بارود برسا رہی ہیں، قابض اسرائیلی فورسز کی بمباری سے اب تک240 فلسطینی شہید کر د ئیے گئے،قابض صیہونی فورسز کی بمباری سے ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی ہو چکے،قابض اسرائیلی فورسز، آباد کاروں نے درجنوں نہتے فلسطینیوں کو یرغمال بنایا یا گرفتار کر لیا،غزہ کی پٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی جانب سے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 250 اسرائیلی ہلاک اور 1450 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد کو یرغمال بنا لیا گیا۔حماس نے سینئر اسرائیلی کمانڈر میجر جنرل نمرود الونی سمیت کئی اسرائیلی فوجیوں کو یر غمال بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔پاکستان نے مشرق وسطیٰ کی ابھرتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی ابھرتی صورتحال، اسرائیل، فلسطین بڑھتی مخاصمت پر گہری نظر ہے، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ہمیں بڑھتی کشیدگی میں انسانی کی انسانی قیمت پر شدید تشویش ہے، پاکستان مسئلہ فلسطین پر بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ، او آئی سی قراردادوں پر عمل چاہتا ہے، مسئلہ فلسطین کے منصفانہ، جامع اور دیرپا حل کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن چاہتے ہیں، پاکستان نے مشرق وسطیٰ تنازعہ میں دو ریاستی حل کی مسلسل وکالت کی ہے، پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق قابل عمل، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے، پاکستان ایسی فلسطینی ریاست کا حامی ہے جس کا دارلحکومت القدس الشریف ہو، عالمی برادری دشمنی کے خاتمے، شہری تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے اقدامات کرے۔قطر نے اسرائیل فلسطین کشیدہ صورت حال کی شدید مذمت مذمت کرتے ہوئے تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے۔ایک بیان میں قطری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدہ صورت حال اور تشددکا ذمہ دار صرف اسرائیل ہے، حالیہ کشیدگی میں فریقین سے تحمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔قطری وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری اسرائیل کو ان واقعات کا بہانہ بنا کر فلسطینیوں پر جنگ مسلط کرنے سے روکے۔اس حوالے سے سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلسطین کی غیر معمولی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں، فلسطین اسرائیل کشیدگی میں متعدد محاذوں پر تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، فریقین سے تشدد فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فریقین شہریوں کے تحفظ کا خیال رکھیں اور تحمل سے کام لیں، سعودی عرب نے پہلے ہی فلسطینیوں کے خلاف اشتعال انگیز کارروائیوں کے تباہ کن نتائج سے خبردار کردیا تھا۔سعودی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داریاں نبھانے اور امن کے لیے دو ریاستی حل پرکام کرے، دو ریاستی حل ہی خطے میں سلامتی، امن اور شہریوں کی حفاظت کا ضامن ہے۔اس معاملے پر ایک بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حماس کے اسرائیل پر حملے فلسطینیوں کے پر اعتماد ہونےکا مظہر ہیں، حماس کے آپریشن میں سرپرائز اور دیگر مشترکہ طریقے استعمال کیے گئے۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حماس کے آپریشن کا طریقہ کار قابضین کے خلاف فلسطینی عوام کے اعتماد کو ظاہرکرتا ہے۔عمان نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لیں، بین الاقوامی برادری اسرائیل اور فلسطین میں کشیدگی رکوانے کوشش کرے۔عمان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری عالمی قوانین کے تحت کشیدگی رکوائے۔
کرکٹ عالمی کپ،پاکستانی ٹیم کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے
بھارت پاکستان کا مشرقی ہمسایہ اور ازلی حریف ہے جس کے اندر ایک درجن سے زائد آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں ، ان دنوں بھارت میں کرکٹ کا عالمی میلہ سجا ہوا ہے جس میں شرکت کیلئے دنیا بھر سے کرکٹ ٹیمیں پہنچ رہی ہیں ، چنانچہ کسی آزادی پسند گروہ نے اس موقع پر نریندر مودی سڈیم کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دی ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کو اپنے داخلی معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور مظلوم اقوام کو طاقت کے زور پر دبانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے ، اطلاعات کے مطابق بھارتی پولیس کو دہشتگردوں کی جانب سے ایک ای میل موصول ہو ئی ہے جس میں وزیراعظم نریندرا مودی اور احمد آباد کے نریندرا مودی اسٹیڈیم کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ورلڈ کپ میں 14 اکتوبر کو احمد آباد کے نریندرا مودی اسٹیڈیم میں مد مقابل ہوں گی تاہم اس سے پہلے ہی بھارتی پولیس کو اسٹیڈیم کو اڑانے کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ای میل میں دہشتگردوں نے 500 کروڑ روپے ادا کرنے اور گینگسٹر روی بشنوئی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ای میل میں کہا گیا ہے کہ نریندرا مودی اسٹیڈیم پر حملے کے لیے بندے بھی تعینات کر دئیے گئے ہیں۔ دہشتگرد گروپ ای میل میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں سب کچھ بیچا جاتا ہے اور ہم نے بھی کچھ خریدا ہے، اپ جتنی مرضی سکیورٹی بڑھائیں، ہم سے بچ نہیں سکتے۔اس حوالے سے بھارتی پولیس کا کہنا ہے ہمیں دہشتگرد گروہ کی جانب سے کی جانے والی ای میل نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے موصول ہوئی، این آئی اے احمد آباد سمیت باقی جگہوں پر بھی تمام سکیورٹی ایجنسیز کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس آئی ڈی سے ای میل کی گئی اسے ٹریس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لگتا ہے کہ ای میل یورپ سے آئی ہے۔ ورلڈکپ کے میچز کی سکیورٹی کو ریویو کریں گے، ضرورت پڑنے پر سکیورٹی بڑھائی جائے گی۔
افغانستان میں 6.2 کی شدت کازلزلہ
افغانستان میں آنے والے زلزلے سے جو جانی نقصان ہوا ہے اس کا حل تو ممکن نہیں تاہم اس کے بعد پہنچنے والے مالی نقصان کی تلافی ضرور کی جاسکتی ہے اور اس حوالے سے عالمی رفاعی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، اب تک آنیوالی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے جنوبی خطے میں بدترین زلزلے کے نتیجے میں 130 افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تاہم امدادی کام شروع کردیا گیا ہے۔زلزلے کا مرکز ہرات کے شمال مغرب میں 40 کلومیٹر دور تھا، اور اس کے فوری بعد 5.5، 4.7 اور 6.2 کی شدت کے تین آفٹر شاکس بھی آئے۔صوبہ ہرات کے ضلع زنداجان میں زلزلے کے مرکز کے قریب واقع گاو¿ں سربلند میں درجنوں گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے جہاں لوگ ملبے میں اپنے پیاروں کی تلاش میں مصروف ہیں اور خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔خیال رہے کہ افغانستان زلزلوں کا اکثر شکار رہا ہے خاص طور پر سلسلہ کوہ ہندوکش میں جو یوریشیا اور انڈین خطے کی تہہ سے جڑا ہوا ہے۔گزشتہ برس جون میں افغانستان کے صوبے پکتیکا میں 5.9 شدت کا بدترین زلزلہ آیا تھا، جس میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔رواں برس مارچ میں جنوب مشرقی افغانستان کے علاقے جورم میں 6.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان میں 13 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔افغانستان میں دہائی کی جنگ کے بعد گزشتہ دو برس سے کسی حد تک امن بحال ہوگیا ہے لیکن بحرانی کیفیت برقرار ہے اور 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور غیرملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بیرونی امداد بھی کم ہوگئی ہے۔
اداریہ
کالم
فلسطین اسرائیل کشیدگی،عالمی برادری کرداراداکرے
- by web desk
- اکتوبر 9, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 2012 Views
- 2 سال ago

