یہ جنگ عظیم دوم کا زمانہ تھا اور تحریک پاکستان بھی اپنے عروج پر تھی۔ میرے والد محترم کی رحلت اکتوبر 1939 میں ہوئی ۔ مجھے اپنے دادا چودھری دین محمد مرحوم کے ساتھ مارچ 1940 میں لاہور کے منٹوپارک میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے اجلاس میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ منٹو پارک میں برصغیر کے کونے کونے سے آئے ہوئے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ یہ سب اپنے رہنما قائد اعظم کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کا خطاب سننے کیلئے بے تاب تھے۔ قائد نے اگرچہ انگریزی میں خطاب کیا لیکن تمام شرکاء جو انگریزی نہیں بھی جانتے تھے وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کے قائد نے جو کچھ کہا ہے سو فیصد درست کہا ہے۔ تحریک پاکستان زوروں پر تھی ۔ان دنوں ہمارے ہاں لاہور سے روزنامہ زمیندار اور روزنامہ احسان آیا کرتے تھے۔ روزنامہ احسان مسلم لیگ کی سرگرمیوں کو زیادہ اہمیت دیتاتھا۔ میں اس وقت لوگوں کو مسلم لیگ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیاکرتا تھا۔ امرتسر میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے طلباء تحریک پاکستان میں جوش و خروش سے شامل ہوتے تھے۔ سٹی مسلم لیگ کے صدر شیخ صادق حسن مرحوم اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سرپرست اور بزرگ سیاسی رہنما شیخ سراج الدین پال ایڈووکیٹ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ شیخ سراج الدین پال، شیخ عزالدین پال، ذکی الدین پال اور تقی الدین پال کے والد محترم تھے۔ طلباء نے دسمبر 1946 کے انتخابات میںمسلم لیگی امیدوار وں کی کامیابی کیلئے بڑے جوش و خروش سے کام کیا اور انہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ ہمارے حلقے سے چودھری نصراللہ خاں ایڈووکیٹ کامیاب ہوئے جو داود ضلع ناروال سے تعلق رکھتے تھے۔ بعد میں نصراللہ خاں 1970 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ واحد اکثریتی پارٹی تھی۔ لیکن کانگریسی رہنما مولانا ابوالکلام آزاد بذریعہ طیارہ دہلی سے لاہور آئے اور انہوں نے ہندوؤں کے ساتھ ساز باز کر کے کانگریس، اکالی دل اور یونینسٹ پارٹی کے ساتھ معاملات طے کر کے ملک خضر حیات ٹوانہ کو پنجاب وزیر اعظم بنوا دیا۔ مسلم لیگی کارکنوں اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء نے امرتسر میں خضر حیات کی وزارت کے خلاف مظاہرے شروع کر دیئے۔ ہم امرتسر میں روزانہ جلوس نکالتے جس میں ملک خضر حیات ٹوانہ کا علامتی جنازہ بھی شامل ہوتا اور طلباء اس پر ڈنڈے برساتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ مظاہرے پورے پنجاب میں پھیل گئے اور بالآخر خضر حیات ٹوانہ کو مستعفی ہونا پڑا۔ بعد ازاں انگریز گورنر نے بھی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کو کابینہ بنانے کی دعوت نہ دی۔ بالآخر قیام پاکستان کے بعد نواب افتخار حسین ممدوٹ کو مسلم لیگ کی وزارت بنانے کی دعوت دی گئی۔ وہ قائد اعظم اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔ کابینہ بنانے کے بعد علامہ محمد اسد نے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ احیائے اسلام قائم کیا۔ علامہ اسد تحریک پاکستان کے دوران پاکستان کے مطالبہ کے حق میں انگریزی اخبارات میں مضامین لکھا کرتے تھے۔ جب علامہ محمد اسد وزارت خارجہ میں بطور سینئر افسر کام کررہے تھے تو قادیانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان ان کی راہ میں روڑے اٹکاتے تھے۔ بالآخر انہوں نے تنگ آکر علامہ سے جان چھڑانے کیلئے انہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کا مندوب بنا کر نیویارک بھیج دیا۔ ان کو پاکستان کا پہلا پاسپورٹ محمد اسد کے نام سے جاری ہوا یوں وہ پاکستان کے پہلے قانونی و آئینی شہری ٹھہرے۔ تقسیم ہند کے وقت پنجاب اور بنگال تقسیم نہیں ہوئے تھے مگر ہندوؤ ں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر اثر انداز ہو کر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی تجویز پیش کر دی۔ کیونکہ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد پر ہندوؤں اور انگریزوں نے باہم ملاپ کر لیا تھا۔ پنجاب اور بنگال کے ہزاروں مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور جزائر انڈیمان میں ساری عمر قید کاٹی۔ لارڈ میو نے جزائر انڈیمان کا دورہ کیا تو شیر دل آفریدی نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ قتل برصغیر میں انگریز حکومت کیلئے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوا۔ تقسیم کے وقت طے ہوا تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے لیکن ریڈ کلف کے نام سے بننے والے کمشن نے سازش کے تحت گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کر دیا۔ اس وقت جسٹس تیجا سنگھ کا تعلق گورداسپور سے تھا۔ انگریزوں نے تیجا سنگھ کے ذریعے گورداسپور کو بھارت میں شامل کر دیا کیونکہ جموں و کشمیر کو جانے والے ریل اور زمینی راستے گورداسپور سے ہو کر گزرتے تھے۔ نام نہاد سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے باہر کرپان لہرا تے ہوئے پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام کا اعلان کیا۔ پنجاب کی ریاستیںجالندھر، پٹیالہ اور کپورتھلہ کے سیکورٹی فورسز اور سکھوں نے منظم ہو کر فیروزپور، امرتسر، کپورتھلہ، جالندھر، ہوشیار پور، پنجاب کے دیگر علاقوں اور راجستھان میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ خاص طورپر تیرہ اور چودہ کی درمیانی رات کو امرتسر میں سکھ حملہ آور ہوئے اور انہوں نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا۔ سکھوں نے دریائے بیاس کے کنارے بیاس ریلوے سٹیشن ۔ ہیڈگنگا سے ہیڈ سلیمانکی تک بہت سے مسلمانوں کو شہید کیا۔ اس وقت لیفٹیننٹ کرنل محمد عیٰسی مغربی پنجاب میں تعینات تھے انہوں نے نہ صرف مغربی پنجاب میں مسلمانوں کی بروقت حفاظت کی بلکہ امرتسر اور دیگر علاقوں میں بلوچ رجمنٹ کے فوجیوں کو بھیج کر مسلمانوں کو بحفاظت بذریعہ ریل پاکستان بھجوایا۔ امرتسر سے مہاجرین کو لے کر پہلی ریل آٹھ بجے روانہ ہوئی جو چار پانچ گھنٹے بعد والٹن کیمپ لاہور پہنچی۔ دوسری ریل بارہ بج کر پانچ منٹ پر امرتسر سے لاہور روانہ ہوئی۔ امرتسر ریلوے اسٹین پر ہم نے ریڈیو پر مصطفی علی ہمدانی کی آواز میں قیام پاکستان کا اعلان سنا ۔ ریلوے اسٹیشن پر موجود ہزاروں مسلمانوں نے جوش و خروش میں نعرے بلند کئے۔ یہ ریل جب امرتسر سے چلی تو لاہور تک پہنچتے پہنچتے کئی جگہوں پر سکھوں کے حملوں کا شکار ہوئی۔ بالآخر کئی گھنٹوں کی تاخیر کے بعد جب لاہور پہنچی تو اسے منٹگمری کی طرف روانہ کر دیا گیا کیونکہ لاہور انتظامیہ والٹن میں مہاجرین کو سنبھالنے کیلئے مقدور بھر انتظامات نہ کر سکی تھی۔ خیر دوسرے دن صبح پانچ بجے منٹگمری پہنچے اورگورنمنٹ کالج کیمپ آفس میں قیام پذیر ہوگئے۔ مسلم لیگی رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں نے کیمپ میں قیام و طعام کا بہت اعلیٰ انتظام کر رکھا تھا۔

