کالم

مصنوعی ذہانت کے سائے میں مرتا ہوا قلم

جس طرح موسم برسات میں خود رو جڑی بوٹیاں خاموشی سے زمین کا سینہ چیر کر اُگ آتی ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے ہر سمت پھیل جاتی ہیں۔ فصلوں کی نشوونما رُوک دیتی ہیں اور کسان کی برسوں کی محنت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ بعینہ آج علم و ادب اور صحافت کے کھیت میں بھی ایک ایسی ہی خود رو افزائش ہو رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ جڑی بوٹیاں مٹی سے نہیں مصنوعی ذہانت کے نظام سے اُگ رہی ہیں۔ یہ وہ تحریری پودے ہیں جن کی جڑیں نہ تجربے میں پیوست ہیں، نہ مشاہدے میں، نہ فکر کی گہرائی میں اور نہ ہی احساس کی حرارت میں۔ یہ الفاظ تو رکھتے ہیں مگر رُوح سے محروم ہیں۔ جملے تو ترتیب پاتے ہیں مگر اِن میں درد، سچ اور داخلی سچائی کا خون نہیں دُوڑتا۔آج ایک پوری کھیپ ایسی تیار ہو چکی ہے جو خود کو رائٹر، کالم نگار، تجزیہ نگار بلکہ بعض صورتوں میں سینیئر ایڈیٹر کہلوانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتی حالانکہ قلم سے اِن کا رشتہ محض ایک بٹن دبانے تک محدود ہے۔ وہ نہ کتاب سے رشتہ رکھتے ہیں نہ معاشرے سے، نہ وقت کے دُکھوں سے اور نہ ہی اپنے ضمیر سے۔ اُن کا پہلا اور آخری حوالہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز ہیں۔ وہاں سے مواد لیا، تھوڑا بہت لفظی ہیر پھیر کی اور اداروں کو ارسال کر دیا۔ یوں لگتا ہے جیسے تحریر بھی اب ایک فاسٹ فوڈ بن چکی ہو،فوری تیار، فوری استعمال مگر دیرپا اثر اور غذائیت سے خالی۔المیہ یہ ہے کہ اِس دُوڑ میں صرف نوآموز نہیں بلکہ وہ نام بھی شامل ہو چکے ہیں جو کبھی سنجیدہ صحافت اور فکری تحریر کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ وہ لوگ جو خود کو سینیئر کالم نگار کہتے ہیں جن کے نام کے ساتھ کتابوں کے مصنف ہونے کے دعوے جڑے ہیں۔آج اِسی مصنوعی ذہانت کے سہارے اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کا استعمال غلط ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب ٹیکنالوجی تخلیق کا متبادل بن جائے، جب سہولت آسانی کا رُوپ دھار لے اور جب محنت کی جگہ شارٹ کٹ لے لے تو پھر علم و ادب کا انجام کیا ہو گا؟تحریر محض الفاظ جوڑنے کا نام نہیں، تحریر دراصل ایک داخلی سفر ہے ۔ایک ایسا سفر جو مصنف کو خود سے معاشرے تک اور معاشرے سے قاری کے دل تک لے جاتاہے ۔ اِس سفر میں دُکھ بھی شامل ہوتا ہے مشاہدہ بھی، شکست بھی، سوال بھی اور کبھی کبھی خاموش آنسو بھی۔ جب یہ سب عناصر نکال دئیے جائیں اور اِن کی جگہ الگورتھم، ڈیٹا اور مشینی ساخت لے لے تو جو چیز سامنے آتی ہے وہ تحریر نہیں محض ایک مصنوعی ڈھانچہ ہوتی ہے بظاہر خوبصورت مگر اندر سے کھوکھلی۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت خداداد صلاحیتوں کیلئے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہے؟ اگر اِسے عصا بنا لیا جائے تو شاید نہیں مگر اگر اِسے بیساکھی بنا لیا جائے تو یقیناً ہاں۔ آج کا لکھنے والا اگر خود پڑھنے، سوچنے، محسوس کرنے اور سوال اُٹھانے سے دستبردار ہو جائے تو پھر اِس کی تخلیقی موت کا ذمہ دار کوئی اور نہیں وہ خود ہو گا۔ مصنوعی ذہانت قلم نہیں چھینتی، ہم خود اُسے سونپ دیتے ہیں۔ ہم خود اپنی تخلیقی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتے ہیں۔صحافت کا بنیادی جوہر سچ، دیانت اور انسانی احساس ہے۔ جب ایک کالم نگار کسی سانحے پر لکھتا ہے تو اُس کے لفظوں میں صرف معلومات نہیں ہوتیں، اُس کی آنکھوں کا دیکھا ہوا منظر،دل کا بوجھ اور ضمیر کی خلش بھی شامل ہوتی ہے۔ اب اگر یہی تحریر ایک مشین سے لی جائے تو وہ منظر کہاں جائے گا؟ وہ خلش کس فائل میں محفوظ ہو گی؟ وہ سچ کس ڈیٹا سیٹ میں ملے گا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم صحافت کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں یا اِس کا جنازہ نکال کر خود ہی کندھا دے رہے ہیں؟علم و ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ عظیم اور معیاری تحریریں ہمیشہ داخلی تپش سے جنم لیتی ہیں۔ فیض، منٹو، بانو قدسیہ، اشفاق احمد یا ابنِ انشااِن میں سے کوئی بھی الگورتھم کا محتاج نہیں تھا۔ اِن کی تحریر اِن کے اندر کی آگ کا اظہار تھی۔ آج اگر ہم اِسی روایت کو دفن کر کے مشینی سہولت کو اپنا اُوڑھنا بچھونا بنا لیں تو یہ صرف ایک فنی تبدیلی نہیں ہو گی یہ فکری خودکشی ہو گی۔خطرہ یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت لکھ سکتی ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ انسان سوچنا چھوڑ دے گا۔ خطرہ یہ نہیں کہ مشین بہتر جملے بنا لے گی ،خطرہ یہ ہے کہ قلم کار بہتر سوال اُٹھانا چھوڑ دیگا۔ جب سوال مر جاتے ہیں تو معاشرے بھی مرنے لگتے ہیں۔ جب تحریر احتجاج چھوڑ دے اور صرف پروڈکٹ بن جائے تو پھر صحافت اشتہار بن جاتی ہے اور ادب محض تفریح۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ادارے بھی اِس رجحان کو خاموشی سے قبول کر رہے ہیں۔ فوری مواد، کم محنت، کم وقت اورسب کچھ دستیاب ہے مگر وہ یہ بھول رہے ہیں کہ آج جو سہولت ہے کل وہی زوال بن سکتی ہے کیونکہ جب قاری کو احساس ہو جائے گا کہ اُسے مصنوعی تحریر پڑھائی جا رہی ہے تو وہ نہ صرف اُس کالم نگار سے بدظن ہو گا بلکہ پورے ادارے سے بھی منہ موڑ لے گا۔آج ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو اُوزار کے طور پر رکھیں، متبادل کے طور پر نہیں۔ تحقیق میں مدد، زبان کی درستی، حوالہ جاتی معاونت یہ سب قابلِ قبول ہے مگر فکر، زاویہ، موقف اور درد صرف انسان کا حق ہے۔اگر ہم نے یہ حق خود ہی مشین کو دے دیا تو پھر شکوہ بھی ہم ہی سے بنتا ہے۔یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ ہر لکھنے والے کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ وہ قلم سے لکھ رہا ہے یا موبائل /کی بورڈ کے پیچھے چھپ کر مشین سے۔ ہر ایڈیٹر کو سوچنا چاہیے کہ وہ معیار بچا رہا ہے یا صرف کوٹہ پورا کر رہا ہے اور ہر قاری کو یہ شعور اپنانا چاہیے کہ وہ زندہ تحریر مانگے، مصنوعی نہیں۔اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے وقت میں ہمارے پاس الفاظ تو ہوں گے مگر فکر نہیں۔ تحریریں تو ہوں گی مگر رُوح نہیں۔اخبار تو ہوں گے مگر صحافت نہیںاور تب تاریخ ہم سے یہ نہیں پوچھے گی کہ ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچی تھی بلکہ یہ سوال کرے گی کہ انسان کہاں کھڑا تھااور ہم نے اپنے قلم کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے