جب عوام بولنے کی آزادی کھو دیتے ہیں اور جب اشتہارات و بیانات سچائی پر پردہ ڈالنے لگتے ہیں تو یہ کسی بھی معاشرے کیلئے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ آج ہمارے ملک میں یہی منظر نامہ دکھائی دیتا ہے۔ کل تک جہاں ہر زبان پر مہنگائی کا ذکر تھا، آج اچانک یہ دعوے گونجنے لگے ہیں کہ افراطِ زر کم ہو گیا ہے، مہنگائی نیچے آ گئی ہے اور معیشت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ یا یہ صرف سرکاری اعداد و شمار کا جادو ہے جو عوامی تکلیفوں کو ڈھانپنے کیلئے استعمال ہو رہا ہے؟جو کاغذ پر تو خوبصورت ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مہنگائی واقعی کم ہو گئی ہے اور معیشت مضبوط تو عام آدمی کی جیب کیوں خالی ہے؟ تنخواہیں وہی ہیں مگر یوٹیلیٹی بل، ایندھن، سبزی، آٹا، چاول اور کرائے سب اُوپر جا چکے ہیں۔ بازار کی حقیقت اور حکومت کے بیان میں فرق دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے صرف ”شرحِ مہنگائی ”کو قابو میں رکھنے پر زور دیا ہے مگر زندگی کے خرچے پر نہیں۔ اسٹیٹ بینک سخت پالیسی ریٹ کا مطلب یہ ہے کہ قرض مہنگا رہے گا، صنعت کو سانس لینا مشکل ہوگا اور کاروبار کی رفتار سست رہے گی۔ مہنگائی کے بہانے سے شرحِ سود اُونچی رکھی گئی ہے مگر اِس کے نتیجے میں عوامی رُوزگار اور کاروباری مواقع مزید کم ہو گئے ہیںجس سے عوامی سطح پر ایک نیا بوجھ پڑاہے ۔ بیرونی قرضے بڑھائے گئے، ٹیکسوں کی بھرمار کر دی گئی ، بجلی و گیس کے نرخ بڑھا دئیے گئے ۔ یہ سب فیصلے ایسے وقت میں کیے گئے جب متوسط طبقہ پہلے ہی قرض اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے عوامی تاثر سنوارنے کے لیے میڈیا کا خرچہ خود اٹھا لیا ہے وہی محاورہ جو سوشل میڈیا پر چل نکلا ”خرچہ اٹھا لیا ہے حکومت نے صحافت کا” شاید اب حقیقت بنتا جا رہا ہے کیونکہ میڈیا پر مہنگائی کے چرچے کم ہو گئے ہیں۔ اشتہارات کے دباؤ میں خبریں نرم پڑ گئی ہیں اور تنقیدی آوازیں خاموش کردی گئی ہیں ۔ توانائی، درآمدات اور زرِ مبادلہ کا بحران اپنی جگہ برقرار ہے۔ پٹرول کی قیمتیں بڑھیں تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے مگر جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں تب بھی عوامی ریلیف نہیں آتاہے۔ روپے کی قدر میں کمی کا اثر براہِ راست عوام کے بجٹ پر پڑتا ہے مگر حکومت کے ترجمان اِسے ”معاشی استحکام کی علامت ” بنا کر پیش کرتے ہیں۔سچ یہ ہے کہ حکومت نے ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور درمیانی مافیا پر کبھی سنجیدہ کارروائی نہیں کی جو منڈیوں میں اشیائے خورد و نوش کے نرخ طے کرتے ہیں وہی آج حکومتی کمیٹیوں میں بیٹھے ہیں ۔ حکومت کے بیانات کے برعکس عوامی زندگی کی حقیقت کچھ اور ہے۔ مہنگائی کا اثر اَب صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ گھروں کی خالی دیگچیوں میں نظر آتا ہے۔ سکولوں سے نکلتے بچے، کم ہوتی بچتیں اور بڑھتے ہوئے قرض یہ سب اِس بات کا ثبوت ہیں کہ ”مہنگائی کم ہوئی ہے” کا دعویٰ صرف رپورٹوں میں درست ہے حقیقت میں نہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ حکومت نے اپنی معاشی پالیسیوں میں توازن قائم نہیں رکھا، سخت مانیٹری پالیسی اپنائی گئی مگر اِس کے ساتھ کوئی مؤثر ترقیاتی یا رُوزگار پیدا کرنیوالی حکمتِ عملی نہ بنائی گئی۔ صنعتیں دباؤ میں ہیں چھوٹے کاروبار بند ہو رہے ہیں اور زرعی شعبہ اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔ حکومت نے خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں کوئی پائیدار اصلاح نہیں کی جس کے بغیر مہنگائی کو مستقل طور پر کم نہیں کیا جا سکتا۔عوامی اعتماد کا مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔ جب حکومت ہر ہفتے نئے اعداد و شمار جاری کرتی ہے مگر بازار کی قیمتوں میں کوئی فرق نہیں آتا تو لوگ اِن دعوؤں پر ہنسنے لگتے ہیں۔ میڈیا پر تنقید کی جگہ تعریف نے لے لی ہے اور تنقیدی آوازوں کو ”منفی بیانیہ” قرار دے کر دبایا جا رہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کسی میڈیارپورٹ میں جگہ نہیں پاتے۔ معیشت کو ”ڈیٹا” کی زبان میں چلانے کی کوشش کی گئی ہے مگر انسانوں کے معیار زندگی کو اعداد میں نہیں ناپا جا سکتا۔مسئلہ محض مہنگائی کا نہیں بلکہ اِس کے پیچھے موجود معاشی ڈھانچے کا ہے۔ کمزور پیداوار، غیر متوازن درآمدات، قرضوں پر انحصار اور غیر شفاف نظام یہ سب مہنگائی کے بنیادی اسباب ہیں۔ حکومت وقتی اقدامات کر کے کامیابی کے دعوے کرتی ہے مگر بنیادیں کمزور ہی رہتی ہیں۔اب ضرورت اِس بات کی ہے کہ حکومت عوامی مفاد پر مبنی اقدامات کرے، محض بیانات نہیں۔ کم آمدنی والے طبقوں کیلئے ہدفی سبسڈی دی جائے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی ہو، توانائی کی قیمتوں میں شفافیت لائی جائے اور میڈیا کو آزاد چھوڑا جائے تاکہ وہ عوامی مسائل کی سچی اور حقیقی تصویر پیش کر سکے۔طویل المدتی بنیادوں پر زرعی پیداوار، مقامی صنعتوں اور برآمدات کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہوگا ورنہ ہر چند ماہ بعد ”مہنگائی کم ہوئی” کا سرکاری بیان آتا رہے گا اور عوام کی حالت ویسی ہی رہے گی۔اصل معاشی استحکام وہ ہے جو عوام کی زندگی میں آسانی لائے نہ کہ وہ جو رپورٹوں اور پریس ریلیزوں میں دکھائی دے۔ جب تک حکومت شفافیت، احتساب اور عوامی فلاح کو اپنی پالیسیوں کا مرکز نہیں بناتی، تب تک مہنگائی کے چرچے تو ختم ہو سکتے ہیںمگر مہنگائی خود ختم نہیں ہوگی۔

