کالم

نئی آئینی ترمیم حصول انصاف میں معاون ہوگی!

ویں آئینی ترمیم کو بجا طور پر ملک میں پارلیمان کی بالادستی کے تناظر میں دیکھا اور سمجھا جارہا ہے ، مثلا پارلمینٹ کے منتخب اراکین چونکہ عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں لہذا پارلیمان ہی سپریم ہے ، 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل مذکورہ دعوی کی سچائی ثابت کرنا مشکل تھی مگر اب ایسا نہیں رہا، یقینا نئی جامع آئینی ترمیم کی منظوری سے عوام کو حصول انصاف کے حوالے سے حقیقی ریلیف دینے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں مدد مل ملے گی ، قومی تاریخ میں 20اکتوبر کا دن یوں اہمیت کا حامل رہے گا کہ آئینی اور قومی معاملات میں اہل سیاست نے کچھ لو اور کچھ دو کے تحت درپیش چیلجز پر کامیابی سے قابو پایا ، ہمارے اہل سیاست کے متعلق یہ تاثر مضبوط ہوا کہ وہ نہ صرف پاکستان کے بڑے اور پچیدہ مسائل سے آگاہ ہیں بلکہ ان کا حل کرنے کی اہلیت اور نیت دونوں رکھتے ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم کی ایک اور خاص بات یہ بھی رہی کہ مذکورہ ترمیم کسی عجلت میں منظور نہیں کی گی بلکہ اس کی ایک ایک شق شق پر غور وخوص کیا گیا ، وزیر اعظم شبہازشریف کا کہنا درست ثابت ہوا کہ وہ قومی معاملات میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں، ترمیم کی منظوری میں جو کچھ ہوتا رہا وہ یوں اہم رہے گا کہ اہل پاکستان کھلی آنکھوں سے دیکھتے رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کا کردار کیا رہا ، 26 ویں آئینی ترمیم کی مختلف شقوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی آرا قومی میڈیا کی زینت بنتی رہیں یوں اس عمل سے پاکستان کے عام آدمی کو بجا طور پر یہ پیغام ملا کہ کون سے پارٹی کس قومی مسلہ بارے کیا رائے رکھتی ہے ، پاکستان مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم ، بلوچستان عوامی پارٹی ، استحکام پاکستان پارٹی سمیت حکومت کی تمام اتحادی جماعتیں بالخصوص جمیت علما اسلام(ف)کا کردار یقینا قابل تحسین رہا ، حکومتی اتحادی جماعتوں نے ثابت کیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے مفادات سے کہیں بڑھ کر انھیں پاکستان اور اس کے عوام کا روشن مستقبل عزیز تر ہے ، سچ یہ ہے کہ اگر مملکت خداداد پاکستان میں جمہوریت کا سفر جاری وساری رہتا ہے تو آج کی اپوزیشن کل کی حکومت اور آج کی برسر اقتدار جماعت کل کی حزب اختلاف کہلا سکتی ہے ، وطن عزیز میں جمہوریت بتدریج پختگی کی منازل طے کررہی ہے ، 26 ویں آئینی ترمیم کی احسن انداز میں منظوری اس پیش رفت کا کھلا ثبوت ہے ، دراصل ہمیں میثاق جمہوریت کو کسی طور پر نہیں بھولنا ، بی بی شہید اور میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں اس تاریخی معاہدے کی روح عوام اور صرف عوام کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے ، قومی تاریخ کا ہر طالب علم آگاہ ہے کہ ہمارا جمہوری نظام اب تک کن مشکلات سے دوچار رہا ، مثلا ہمارے سیاست دانوں نے جمہوری سفر میں نہ صرف جان کی قربانیں دیں بلکہ جلاوطنی اور قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے ، قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کا سبق یہی ہے کہ عوام کو حق حاکمیت کبھی بھی آسانی سے میسر نہیں آیا اس کے برعکس تاریخ میں وطن اور مذہب کے نام پر مختلف گروہ عوام کا استحصال کرتے رہے ، اس پس منظر میں 26 ویں ائینی ترمیم قوم بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر قومی میں اتفاق واتحاد کے فروغ کا باعث بنی ، ہر دور نئے چیلنجز اور مسائل لے کر آتا ہے چنانچہ جس چیز کی اہمیت ہے وہ یہ کہ بہتری کا عمل جاری وساری رہے ، مذکورہ آئینی ترمیم میں سود کے حوالے سے پرنسپل آف پالیسی میں وضاحت کردی گی ، نظام اںصاف کے حوالے سے مذکورہ ترمیم میں ایسے شقیں متعارف کروائی گیں جو بتدریج بہتری کا باعث بنیں گے ، ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ وطن عزیز میں حصول انصاف جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ، حکومت کے زمہ داروں کا یہ کہنا غلط نہیں ہمارے ہاں نسل درنسل عدالتوں کے چکر کاٹ بھی انصاف میسر نہیں آتا تھا ، سوال یہ ہے کہ اگر جمہوریت میں پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی ہے تو منتخب ایوانوں کو بجا طور پر ایسی قوانین متعارف کروانے کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے جس کے نتیجے میں سستے اور فوری انصاف کا خواب شرمندہ تعبیر ہو،درحقیقت پوری دنیا میں ججوں کو ان کی عوام کو انصاف تک بہتر رسائی کے پس منظر میں مقرر کیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ نئی آئینی ترمیم میں جوڈشیل کمشین آف پاکستان کو یوں بااختیار بنایا گیا کہ وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ججز کو آگے آنے میں اپنا کردارادا کرے، 26ویں آئینی ترمیم کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے ججز کی تعیناتی کا اپنا اختیار پارلمینٹ کو تعویض کردیا اب پارلیمان کی رکنی کمیٹی اپنا کام کرے گی جس میں اپوزیشن کے اراکین بھی شامل ہوں گے ، نئی ترمیم کی روشنی میں کم وبیش ڈیڑھ سو سال سے انصاف کی فراہمی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھانے والے فوجداری مقدمات میں 100کے قریب ترمیم لائی جائیں گی تاکہ عام آدمی کی داد رسی کو یقینی بنایا جاسکے، نئی آئینی ترمیم میں پاکستان تحریک انصاف کا کردار کسی طور پر مثالی نہ رہا، کاش ایسا ہوتا کہ عوامی فلاحی وبہود پر مبنی قانون سازی میں پی ٹی آئی اپنا مثبت کردار ادا کرکے تاریخ میں سرخرو ہوجاتی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے