وطن پہنچنے کے بعد سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے لاہور میں مینار پاکستان پر منعقدہ جلسے میں اپنے پہلے خطاب میں نہایت سنجیدہ اور فکر انگیز باتیں کی ہیں جن کا لب ولباب یہ ہے کہ انتقام کی سیاست ملک کو ترقی نہیں کرنے دیتی اور ہمیشہ پیچھے کی جانب دھکیل دیتی ہے اس لیے اب انتقام کی سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ ان کے خطاب میں ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ ملکی ادارے اس ملک کی اساس ہے اور ان کے ساتھ محاذآرائی بھی نقصان دہ ہے اس لیے اب عوامی نمائندوں اور ان اداروں کو ملکی ترقی کے لئے مل جل کر کام کرنا ہوگا، اپنے خطاب میں سابق وزیر اعظم نے جہاں اپنے دور حکومت میں کیے جانے والے کارہائے نمایاں گنوائے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینگے بلکہ ساری توجہ اس ملک کی ترقی پر مرکوز رکھیں گے ، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملکی اداروں اور سیاستدانوں کے آپس میں ہونے والی چپقلش اور محاذ آرائی کا نقصان ہمیشہ اس ملک کی جمہوریت کو پہنچا اور ملک کئی سال پیچھے چلا جاتا رہا ، اس کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کی آپس میں ہونے والی محاذ آرائی نے بھی اس ملک کو ہمیشہ نقصان پہنچایا ، نواز شریف فہم و فراست کے مالک ہیں اگر انہیں موقع ملتا ہے کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو یہ بات انہیں یادرکھنا ہوگی کہ ان کا مقابلہ نہ تو کسی مخالف سیاستدان سے ہے اور نہ ہی اپنے کسی ادارے کے ساتھ بلکہ ان کا مقابلہ غربت، بے روزگاری ، ناانصافی اور مہنگائی کے ساتھ ہے جنہیں ختم کرکے وہ اس ملک کو ترقی کی نہج پر پہنچا سکتے ہیں ، گزشتہ روز اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے دل میں انتقام کی تمنا نہیں، قوم کی خدمت کرنا چاہتاہوں، ہمیں ڈبل اسپیڈ سے دوڑ ہونا ہوگا۔ نواز شریف کا کہنا تھاکہ آج کئی سالوں کے بعد آپ سے ملاقات ہورہی ہے، آپ سے میرا پیار کا رشتہ قائم و دائم ہے، اس رشتے میں کوئی فرق نہیں آیا، میرا اور آپ کا رشتہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے، نہ کبھی آپ نے مجھے دھوکا دیا ہے نہ میں نے کبھی آپ کو دھوکا دیا۔ میں نے دن رات محنت کرکے ملک کے مسائل حل کئے ، میرے خلاف جعلی کیسز بنائے گئے،جیلوں میں ڈالا گیا، شہبازشریف اور مریم نواز کے خلاف کیسز بنائے گئے ہم نے لوڈشیڈنگ شروع نہیں کی ختم کی، 2013 میں 18، 18 گھنٹے آپ کے گھروں میں بجلی نہیں آتی تھی، بجلی میں نے مہنگی نہیں کی بلکہ سستی کی۔مرحومہ والدہ اور اہلیہ کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جن کو انسان بھلا نہیں سکتا، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جوکبھی نہیں بھرتے، جو پیارے آپ سے جدا ہوجائیں وہ دوبارہ نہیں ملتے، میری والدہ اوربیگم میری سیاست کی نذر ہوگئیں، میری بیگم کلثوم فوت ہوئیں تو مجھے قید خانے میں خبرملی، جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا میری لندن میں میرے بیٹے سے بات کرادو، اس نے میری بات نہیں کرائی، اس نے کہا ہمیں اجازت نہیں، میں اس کے کمرے سے اٹھ کر دوبارہ اپنے سیل میں چلا گیا اور سوچتا رہا، بات کرانا اس کے لیے اتنا مشکل تھا، پھر ڈھائی گھنٹے بعد مجھے خبردی گئی آپ کی بیگم کلثوم اللہ کو پیاری ہوگئیں، مریم والدہ کے انتقال کا سن کربےہوش ہوگئیں، سچا پاکستانی ہوں ملک کی محبت میرے سینے میں ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ہماراملک ہے، یہاں پیدا ہوا ہوں، پاکستان کی محبت میرے دل میں ہے، اینٹ کا جواب پتھر سے دوں، میں ایسا نہیں کرتا، مجھے 5 ارب ڈالر کی پیش کش تھی، وزارت خارجہ میں اس کا ریکارڈ موجود ہوگا، پچھلی حکومت کے لوگ ایک، ایک ارب ڈالر کی بھیک مانگ رہے تھے، دنیا کا طاقتور صدر مجھے کہہ رہا تھا دھماکے نہ کرنا لیکن ہم نے دھماکے کیے، میری جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا وہ امریکی صدر کے خلاف بول سکتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے دور میں روٹی 4 روپے کی تھی، آج 20 روپے کی ہے، اس لئے مجھے نکالا، اس لیے میری چھٹی کرائی؟ اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اس لیے وزارت عظمی سے نکالا، میرے دور میں پیٹرول 60 روپے لیٹر ملتا تھا، میرے دور میں ڈالر104 روپے کا تھا، مجھے اس لئے نکالاتھا کہ اس نے ڈالر کو ہلنے نہیں دیا، 1990میں جو کام ہم نے شروع کیے تھے اگر جاری رہتے تو آج ملک میں کوئی بیروزگار نہ ہوتا۔ غریب کے پاس اتنا پیسہ ہوتا کہ وہ اپنا علاج کراسکتا، آج ادھار لےکربجلی کابل دینا پڑتا ہے،لوگ خودکشیاں کررہے ہیں، ہمارے زمانے میں چینی 50 روپے کلو تھی، ہمارے دور میں دھرنے ہو رہے تھے لیکن ہم اپنا کام کرتے جارہے تھے، اسکردو موٹروے اور لواری ٹنل بھی ہم نے بنائی، ملتان سے سکھر موٹروے ہم نے بنائی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ زخم اتنے لگے ہیں کہ انھیں بھرتے بھرتے وقت لگے گا، میرے دل میں انتقام کی تمنا نہیں، میری تمنا ہے میری قوم خوشحال ہو، میں اس قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، ہم اس ملک کو پھر جنت بنائیں گے، ہمارا بیانیہ پوچھنا ہے تو ہماری اخلاقیات سے پوچھو، ریاست کے ستونوں کو آئین کے مطابق مل کرکام کرنا ہوگا۔ آئین پرعمل درآمد کرنےوالے ریاستی ادارے،جماعتیں اور ریاست کے ستونوں کومل کرکام کرناہوگا، 40 سال کا نچوڑ بتا رہا ہوں، مل کرکام کئے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، سب کو اکھٹا ہونا پڑےگا، بنیادی مرض دور کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے ملک باربار حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، 4 سال بعد بھی میرا جوش و جذبہ ماند نہیں پڑا، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کس طرح کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے، ڈبل سپیڈ کے ساتھ دوڑنا ہوگا اور کس طرح ہاتھوں میں پکڑا کشکول توڑنا ہوگا اور اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ ہم اپنے ہمسائیوں کے ساتھ لڑائی کرکے ترقی نہیں کرسکتے، کشمیر کے حل کےلئے ہمیں باوقار طریقے سے تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، میرے دل میں رتی برابر بھی بدلے اور انتقام کی خواہش نہیں۔لیگی قائد نے کہا کہ آئندہ کسی کو یہ اجازت نہ دینا کہ آپ کے ملک کے ساتھ یہ کھلواڑ کرسکے، میں نے آج بڑے صبر سے کام لیا ہے، ایسی کوئی بات نہیں کی جو مجھے نہیں کرنی چاہیے تھی۔سابق وزیراعظم نے فلسطین کا پرچم لہرایا اور کہا کہ فلسطین پرظلم کی مذمت کرتے ہیں، اللہ فلسطین کی مدد کرے، دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں فلسطین کا حل نکالو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، راستہ کھٹن ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، برآمدات بڑھانا ہے، زراعت کی انقلابی اصلاحات کرنی ہیں، ہم نے پاکستان کو آئی ٹی پاور بنانا ہے، ہم نے پہلے بھی کیا ہے اب بھی کرکے دکھائیں گے۔نواز شریف نے کہا کہ تسبیح میرے پاس بھی ہے لیکن میں اس وقت پڑھتا ہوں جب مجھے کوئی نہ دیکھ رہاہو، بغل میں چھری منہ میں رام رام یہ مجھے نہیں آتا، اللہ سے لو لگا کر آپ جو مانگیں گے وہ آپ کوعطا کرے گا، ندامت کا ایک آنسو سارے گناہ دھو دیتا ہے۔
غزہ کی جنگ کے حوالے سے پاکستان کی اہم ترین تجویز
فلسطین میں جاری جنگ اور اسرائیل کی جانب سے بے گناہ اور نہتے شہری جو غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں ان پر کئے جانے والے فضائی حملوں کے حوالے سے امن اور سلامتی کے لیے علاقائی میکانزم کی شراکت پر ایک بحث میں بات کرتے ہوئے سفیر منیر اکرم نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل کی ناکامی کے بعدجنرل اسمبلی کارروائی کرے گی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے گی اور غزہ میں متاثرین تک بلا روک ٹوک امداد پہنچائی جائے گی۔ان کا کہنا تھاکہ ہمیں دو ریاستی حل کی دوبارہ کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ مقدس سرزمین میں پائیدار امن کا واحد آپشن ہے۔ سلامتی کونسل کی ناکامیوں کا ازالہ اسے اقوام متحدہ کی رکنیت کا زیادہ نمائندہ بنا کر کیا جا سکتا ہے۔ سلامتی کونسل کی کوتاہیاں بنیادی طور پر پانچ مستقل ارکان برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا کے ویٹو پاور کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں لہٰذاان ممالک کی منطق کو سمجھنا مشکل ہے جو سلامتی کو نسل کے مستقل اراکین کی تعداد میں توسیع کی وکالت کرتے ہیں۔ پاکستان نے اتحاد برائے اتفاق (یوایف سی ) گروپ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مستقل زمرے میں توسیع کی مخالفت کی اور اس کے بجائے ممبران کی ایک نئی کیٹیگری کی تجویز پیش کی ہے۔ علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیمیں امن و سلامتی کے فروغ اور تنازعات کے حل میں کردار ادا کر سکتی ہیں تاہم ان کا کردار سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی، سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے دیگر متعلقہ اداروں کے ماتحت ہے، ان کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں، یورپی یونین اور افریقی یونین سلامتی کونسل میں اپنے اراکین کی مو¿ثر طریقے سے نمائندگی کر یں جیسا کہ وہ جی 20 کی کرتے ہیں۔
اداریہ
کالم
نواز شریف کا لاہور میں تاریخی خطاب
- by web desk
- اکتوبر 23, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 860 Views
- 2 سال ago

