کالم

وزیراعلیٰ پنجاب کاانقلابی فیصلہ

پنجاب حکومت کا پٹرول پر چلنے والے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی پیداوار پر پابندی کا فیصلہ بلاشبہ ایک انقلابی اور دور رس نتائج رکھنے والا قدم ہے۔ تیزی سے بڑھتی آبادی، ٹریفک کے بے ہنگم پھیلاؤ اور ماحولیاتی آلودگی کے خطرناک حد تک پہنچ جانے کے بعد ایسا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا تھا۔ عالمی سطح پر بھی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی مرحلہ وار جگہ برقی گاڑیوں کو دی جارہی ہے، اس لیے حکومت پنجاب کا یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی رجحانات سے مطابقت رکھتا ہے بلکہ ماحولیاتی استحکام کی جانب ایک مضبوط پیش رفت بھی ہے ۔ پٹرول انجن خاص طور پر شہری علاقوں میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور سلفر کے اخراج میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں، جو سانس کی بیماریوں، الرجی اور گرد و غبار کے مسائل کو گھمبیر بناتے ہیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں آنیوالے برسوں میں ان مضر گیسوں کا اخراج نمایاں طور پر کم ہوگا اور شہریوں کو زیادہ صاف، صحت بخش فضا میسر آئے گی۔ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ پالیسی تسلسل کے ساتھ نافذ رہی تو آئندہ نسلیں زیادہ محفوظ، کم آلودہ اور جدید ٹرانسپورٹ نظام سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔گزشتہ کئی سال سے پنجاب کے بڑے شہروں میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی فضائی آلودگی اور سموگ کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی،ملتان، گوجرانوالہ اوردیگرشہروں میں شہری آلودہ فضاء میں سانس لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تعطیلات، ٹریفک میں رکاوٹیں اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل ایسے مسائل ہیں جو ہر سال سموگ کے سبب پیداہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب نے پٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل اور رکشہ کی پیداوار پرپابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جو ماحول، صحت اور شہری سہولیات کے لیے بروقت اور مثبت اقدام ہے۔پٹرول موٹر سائیکل اور رکشہ شہری ٹرانسپورٹ کا ایک بڑا حصہ ہیں اور اس صنعت میں لاکھوں افراد روزگار حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے اس پابندی کو اچانک نافذ کرنے سے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم یہ پابندی ،مرحلہ وار اورجامع منصوبہ بندی کے ساتھ نافذ کی جائے تو اس کے معاشرتی اور ماحولیاتی فوائد حاصل ہوں گے۔اس پابندی کاسب سے اہم مقصد فضائی معیار میں بہتری ہے۔ پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں PM2.5 اور PM10 جیسے خطرناک ذرات خارج کرتی ہیں، جو پھیپھڑوں، دل اور آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یہ ذرات ہر سال ہزاروں افراد کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرتے ہیں، خاص طور پر بچے اور بزرگ شہری متاثر ہوتے ہیں۔ موٹر سائیکل اور رکشہ اس دھوئیں کے بڑے ذرائع میں شامل ہیں، اس لیے ان کی پیداوار محدود کرنے سے سموگ میں واضح کمی ممکن ہے۔دوسرا مقصد توانائی کی بچت اور درآمدی اخراجات میں کمی ہے۔پاکستان ہر سال اربوں ڈالر تیل کی درآمد پر خرچ کرتا ہے۔ پٹرول موٹر سائیکل اور رکشے اس بل میں اہم حصہ ڈالتے ہیں۔ الیکٹرک بائیکس اور رکشے استعمال کرنے سے توانائی کی بچت ہوگی اور شہریوں پر معاشی دباؤ کم ہوگا۔تیسرا مقصد جدید ٹرانسپورٹ کے فروغ کی طرف قدم ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے چین، ترکی اور یورپی ممالک میں روایتی گاڑیوں کی جگہ الیکٹرک وہیکلز لے رہی ہیں۔ پاکستان بھی اسی سمت قدم بڑھا رہا ہے تاکہ شہری ٹرانسپورٹ ماحول دوست اور جدید ہو۔اس اقدام کے عملی اور معاشی چیلنجز بھی ہیں۔ سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے لیے نقصان کا خدشہ، شہریوں کے لیے مہنگی الیکٹرک بائیکس اور رکشے خریدنے کی مشکل، چارجنگ اسٹیشنز اور سروس نیٹ ورک کی کمی اور بیٹری کی مرمت کے مسائل سب ایسے پہلو ہیں جو منصوبہ بندی کے بغیر مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔پنجاب میں پٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکل اور رکشہ کی پیداوار پر پابندی اور مستقبل قریب میں انہیں بڑے شہروں سے نکالنے کا فیصلہ ماحولیات کے نقطہ نظر سے مثبت ہے پر اس کے سماجی اور شہری اثرات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔سستی اور آسان آمدورفت کا مسئلہ،کروڑوں شہری، جو روزانہ سستی اور آسان سواری کے لیے موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرتے ہیں،پابندی کے بعد اپنی روزمرہ کی آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کریں گے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے شہری اور روزگار کے لیے سفر کرنے والے افراد براہِ راست متاثر ہوں گے۔اس صورتحال میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی توجہ شہریوں کے لیے آسان اور سستی سفری سہولیات کی فراہمی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ شہری ٹرانسپورٹ کے متبادل ذرائع جیسے الیکٹرک بائیکس، الیکٹرک رکشے اور بسیں فراہم کرے تاکہ شہری اپنی روزمرہ ضروریات بغیر اضافی خرچ یا وقت ضائع کیے پورا کر سکیں۔اس پابندی کا مرحلہ وار نفاذ ضروری ہے۔ سب سے پہلے نئے پٹرول موٹر سائیکل اور رکشہ ماڈلز کی پیداوار اور رجسٹریشن کو روک دیا جائے، جبکہ پہلے سے تیار شدہ اسٹاک مارکیٹ میں آنے دیا جائے۔ شہریوں کو الیکٹرک بائیکس اور رکشے خریدنے پر سبسڈی دی جائے تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ اپنانا آسان ہو۔چارجنگ اسٹیشنز، بیٹری ری سائیکلنگ پلانٹس اور سروس سنٹرز قائم کیے جائیں تاکہ نئے وہیکلز کی مرمت اور خدمات فراہم ہو سکیں۔ شہریوں کو ماحولیاتی فوائد کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ تبدیلی کو مثبت انداز میں قبول کریں۔پٹرول پرچلنے والی موٹرسائیکل اوررکشہ کی پیداوارپرپابندی ایک بڑااورمشکل فیصلہ ہے جس پرعمل درآمدبھی چیلنج ہوگا پراس کے طویل مدتی فوائد حاصل ہوں گے جن میں، شہری فضاء میں بہتری، سموگ میں کمی، صحت کے مسائل میں کمی اور علاج معالجے پر خرچ میں کمی، توانائی کی بچت اور درآمدی بل میں کمی، الیکٹرک انڈسٹری کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع، اور پاکستان کی عالمی ماحولیاتی معیار کے مطابق ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ترقی اوردیگرشامل ہیں۔ پٹرول موٹر سائیکل کی پیداوار پر پابندی ماحولیاتی ضرورت ہے، اس پابندی کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے بروقت اور موثر اقدامات لازمی ہیں۔ آسان، سستی اور جدید ٹرانسپورٹ کی فراہمی شہریوں کی سہولت ، ماحولیاتی بہتری اور معاشرتی استحکام دونوں کو یقینی بنائے گی۔اس طرح، پابندی کے فوائد برقرار رہیں گے اور شہریوں کو اپنی روزمرہ آمدورفت کیلئے بہتر اور کم خرچ سہولیات دستیاب ہوں گی، جو کہ مجموعی ترقی اور ماحولیاتی بہتری کیلئے سنگِ میل ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے