اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے، جہاں معیشت، سیاست اور خارجہ امور تینوں سطحوں پر سنجیدہ چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے حالات میں قیادت کا کردار محض نعروں یا وعدوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عملی اقدامات، انتظامی صلاحیت اور قومی مفاد کے لیے مشکل فیصلے کرنے کی ہمت ہی اصل معیار بن جاتی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے پاکستان کو بحران سے نکالنے کے لیے ایک عملی، محنتی اور انتظامی طرزِ حکمرانی اپنائی ہے جس کا مظاہرہ اس سے پہلے کسی وزیر اعظم کی طرف سے دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔
شہباز شریف کا شمار ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن کی پہچان محض تقریروں سے نہیں بلکہ گورننس اور انتظامی کارکردگی سے بنتی ہے۔ بطور وزیرِ اعلی پنجاب ان کی شہرت ایک فعال منتظم کی رہی، اور بطور وزیرِ اعظم انہوں نے اسی روایت کو قومی سطح پر آگے بڑھانے کی کوشش کی کوشش کی جس میں وہ بہایت کامیاب دکھائی دے رہے ہیں ۔
اقتدار سنبھالتے ہی انہیں جن حالات کا سامنا تھا، وہ کسی بھی حکومت کے لیے انتہائی دشوار تھے: شدید معاشی بحران، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، مہنگائی کی بلند ترین سطح، اور عالمی مالیاتی اداروں کا سخت دبا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا سب سے اہم اور فوری چیلنج معاشی استحکام تھا۔ انہوں نے جذباتی فیصلوں کے بجائے حقیقت پسندانہ پالیسی اپنائی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اگرچہ عوامی سطح پر غیر مقبول تھے، مگر یہ حقیقت ہے کہ انہی فیصلوں نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ بجلی، ایندھن اور مالیاتی اصلاحات جیسے مشکل اقدامات سیاسی نقصان کا سبب بن سکتے تھے، لیکن قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ان اصلاحات کو نافذ کیا گیا۔ یہ رویہ ایک ایسے رہنما کی نشاندہی کرتا ہے جو وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدتی استحکام پر یقین رکھتا ہے۔
ترقی کا ایک اہم پہلو بنیادی ڈھانچے کی بہتری بھی ہے۔ شہباز شریف کی حکومت نے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر توجہ دی، خاص طور پر توانائی، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں۔ سی پیک کو دوبارہ متحرک کرنا ان کی خارجہ و معاشی پالیسی کا نمایاں پہلو رہا۔ چین کے ساتھ تعلقات کو نئی رفتار دینا، سرمایہ کاری کے منصوبوں کو بحال کرنا اور توانائی منصوبوں کو فعال بنانا پاکستان کی صنعتی ترقی کیلئے ناگزیر تھا۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متوازن اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اپنائی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین اور ترکی سمیت اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا گیا۔ ان دوروں کا مقصد صرف سفارتی تعلقات نہیں بلکہ معاشی تعاون، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ عالمی سطح پر پاکستان کا ایک سنجیدہ اور ذمہ دار تشخص اجاگر کرنا بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔داخلی سطح پر شہباز شریف نے ادارہ جاتی نظم و ضبط اور بیوروکریسی کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا۔ وہ ایک ایسے وزیرِ اعظم کے طور پر سامنے آئے جو فائلوں پر دستخط کے بجائے خود منصوبوں کی نگرانی کرتے ہیں ۔ اجلاسوں میں وقت کی پابندی، اہداف کا تعین اور کارکردگی کا جائزہ ان کے انتظامی انداز کی نمایاں خصوصیات رہیں۔ اگرچہ اس طرزِ حکمرانی پر تنقید بھی کی گئی کہ یہ حد سے زیادہ مرکزیت پر مبنی ہے، مگر بحران کے وقت مضبوط انتظامی کنٹرول اکثر ناگزیر ہو جاتا ہے۔
سماجی شعبے میں اگرچہ مالی وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ رہی، پھر بھی حکومت نے مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے سبسڈی، احساس پروگرام اور دیگر ریلیف اقدامات جاری رکھے۔ یہ درست ہے کہ یہ اقدامات مہنگائی کو مکمل طور پر ختم نہ کر سکے، لیکن کمزور طبقے کیلئے یہ کسی حد تک سہارا ضرور بنے۔
تنقیدی نقط نظر سے دیکھا جائے تو شہباز شریف کی حکومت کو سیاسی عدم استحکام، اپوزیشن کے دبا اور عوامی توقعات جیسے مسائل کا بھی سامنا رہا۔ بعض ناقدین کے مطابق اصلاحات کی رفتار سست رہی، جبکہ کچھ فیصلوں کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں فوری اور آسان حل موجود نہیں تھے۔ جو فیصلے کیے گئے، وہ اکثر ناگزیر مگر غیر مقبول تھے۔
مجموعی طور پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کردار ایک ایسے منتظم اور بحران مینیجر کا رہا، جس نے پاکستان کو ایک بڑے معاشی اور سیاسی تصادم سے بچانے کی کوشش کی۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے اگرچہ ترقی کی بلند رفتار حاصل نہیں کی مگر استحکام کی سمت ایک مشکل مگر ضروری سفر ضرور طے کیا۔ تاریخ میں شاید انہیں ایک انقلابی رہنما کے طور پر یاد نہ کیا جائے لیکن ایک ایسے وزیرِ اعظم کے طور پر ضرور یاد رکھا جائے گا جس نے مشکل وقت میں ریاست کو سنبھالا، نظام کو چلایا اور مستقبل کیلئے راستہ ہموار کیا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ترقی ایک فرد کی مرہونِ منت نہیں ہو سکتی، مگر قیادت سمت کا تعین ضرور کرتی ہے۔ شہباز شریف کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ محنت، نظم و ضبط اور حقیقت پسندی آج بھی قومی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ آنے والے وقت میں ان پالیسیوں کے نتائج کس حد تک دیرپا ثابت ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی، مگر موجودہ دور میں ان کے کردار کو نظر انداز کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
کالم
وزیر اعظم شہباز شریف اور استحکام پاکستان
- by web desk
- جنوری 19, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 60 Views
- 3 ہفتے ago

