بھارت میں انتہاء پسند ہندو تنظیمیں متنازع ترانے وندے ماترم کو اکھنڈ بھارت ایجنڈے اور ہندوتوا غلبے کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس ترانے کو سیاسی اور نظریاتی مقاصد کیلئے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔غیر ہندو آبادی کو بھی وندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میں تشدد اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں بعض شدت پسند عناصر اقلیتوں کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ وندے ماترم کی مخالفت کرنے والوں کو بھارت میں رہنے کا حق نہیں۔ وندے ماترم کے مخالفین کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دینا چاہیے۔ چند روز قبل انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بابری مسجد دوبارہ تعمیر نہیں ہونے دی جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وندے ماترم کو اکھنڈ بھارت کے تصور سے جوڑنا بھارت میں مذہبی و سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ ہندوتوا بیانیہ کو سیاسی طور پر استعمال کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی ہے، جس کے اثرات معاشرتی ہم آہنگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے قومی گیت وندے ماترم کے تمام چھ بندوں کو سرکاری تقریبات، اسکولوں اور دیگر رسمی پروگراموں میں لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس حکم کو غیر آئینی، یکطرفہ اور من مانی قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی آئین میں مذہبی آزادی کے آرٹیکل 25 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہمیں وندے ماترم گانے پر اعتراض نہیں مگر اس کے آخری بندوں میں ہندو دیویوں درگا، لکشمی، سرسوتی کا ذکر مسلمانوں کیلئے شرک کی صورت میں ہے۔ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اور کسی کو مذہبی عقیدے کے خلاف مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری اْس نوٹیفیکیشن پر سخت اعتراض درج کیا ہے جس کے تحت سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے جن گن من سے قبل ”وندے ماترم” کے تمام اشعار پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو غیر دستوری، مذہبی آزادی کے منافی اور سیکولر اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ عدالت عظمیٰ کے فیصلوں سے بھی متصادم ہے۔ ان کے بقول ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی پس منظر رکھنے والی نظم یا عقیدے کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر جبراً مسلط نہیں کرسکتی۔مولانا مجددی نے وضاحت کی کہ آزادی کے بعد دستور ساز اسمبلی کی بحثوں اور مشاورت کے نتیجے میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ”وندے ماترم” کے صرف ابتدائی دو بند ہی قابل قبول ہوں گے۔ اس نظم کے دیگر اشعار میں دیوی دیوتاؤں کی مدح و ثنا اور پوجا کا ذکر آتا ہے، جو مسلمانوں کے عقیدہ توحید سے متصادم ہے۔ اسلام میں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت بنیادی عقیدہ ہے اور کسی بھی نوع کی شرک کی گنجائش نہیں۔ ملکی عدالتوں نے بھی ماضی میں اس کے بعض حصوں کو لازمی قرار دینے کے خلاف رائے دی ہے، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ عدالتی نظائر اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے۔ بصورت دیگر بورڈ اس نوٹیفیکیشن کو عدالت میں چیلنج کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس طرح کے فیصلے ملک کی مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام طبقات کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جو آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم ہو۔بھارت میں انتہاپسند ہندؤں کی مودی حکومت ہندوتوا کے نظریے کے فروغ کیلئے رات دن کوشاں ہے،اس سلسلے میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر ظلم،تشدد ، قتل و غارت ،کاروبار سے روکنا معمول بنتا جارہا ہے۔تازہ حکم نامے میں مودی سرکار نے ہندوتوا کے پرچار کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اسکولوں میں ‘وندے ماترم’ گانے کو لازمی قراردے دیا ہے۔حالیہ دنوں میں محکمہ ثقافت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکمنامے میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وندے ماترم کے 150 برس مکمل ہونے کے موقع پر تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں میں ثقافتی اور موسیقی کے پروگرام منعقد کیے جائیں، جن میں اس ترانے کی اجتماعی پیشکش کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکمنامے کے مطابق جموں اور کشمیر کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹرز کو ان تقریبات کی نگرانی کے لیے نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ سامنے آتے ہی مختلف مذہبی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس پر سخت اعتراضات اٹھائے گئے، جن کا کہنا ہے کہ طلبا کو اس طرح کے پروگراموں میں زبردستی شریک کرنا مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔اس معاملے پر وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ،اگر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل ہوتا، تو اس طرح کا حکمنامہ جاری کرنے کی کوئی جرآت نہیں کرتا۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس اب ریاست نہیں بلکہ یونین ٹریٹری ہے۔ اس فیصلے میں میرا کوئی رول نہیں ہے، فائل میرے پاس نہیں پہنچی اور میں اس فیصلے سے خوش نہیں ہوں۔وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ یہ آرڈر باہر سے جاری کیا گیا ہے اور وہ خود اس سے بے خبر تھیں۔ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کابینہ کی سطح پر نہیں لیا گیا۔ یہ فیصلہ وزیرِ تعلیم نے نہیں لیا، نہ ہی کابینہ نے اس پر کوئی بحث کی۔ ہمیں اپنے اسکولوں کے معاملات خود طے کرنے چاہییں، باہر سے ہدایات نہیں آنی چاہئیں۔

