سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا میں دو سپر پاورز سرمایہ دارانہ نظام کا حامل امریکہ اور اشتراکی نظام کی حامل سوویت یونین ہوا کرتی تھیں۔1985 میں میخائل گورباچوف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 1991 میں سوویت یونین معاشی طور پر کمزور ہو کر ٹوٹ گیا تمام ریاستیں آزاد ہو گئیں اور واحد سپر پاور امریکہ رہ گئی۔ اسی دوران چین نے معاشی ترقی کرکے اپنے آپ کو دنیا بھر میں اکنامک پاور کے طور پر منوا لیا۔ صدر ٹرمپ تیل پیدا کرنے والے ممالک پر قبضہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ وینزویلا میں تو صدر مادورو کی حکومت ختم کر دی۔ ایران میں یہ ماڈل کامیاب نہ ہو سکا۔ اسی لئے صدر ٹرمپ کو معاشی تجارتی تعلقات کے فروغ اخلاقی دباؤ ابنائے ہرمز کے حل کے لئے چین کا دورہ کرنا پڑا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو روزہ دورے پر بیجنگ پہنچنے پر گریٹ پیپلز ہال میں صدر ٹرمپ کا پر تپاک ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا انہوں نے چینی صدر شی سے ملاقات کی۔ ان کے وفد میں ایلن مسک اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اور صنعتکار شامل تھے ۔ صدر ٹرمپ کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ کو عظیم لیڈر قرار دیا انہوں نے چینی صدر کو ستمبر میں دورہ امریکہ کی دعوت بھی دی۔ چین کے صدر شی نے کہا کہ ہم دنیا کے لئے اور در کھولیں گے ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں پارٹنر بننا ہے ۔چینی رہنما نے امریکہ کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان پر غلط اقدام سے دونوں ملکوں میں تصادم کا خطرہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا چین ابنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کرے گا اور ایران کو اسلحہ سپلائی نہیں کرے گا۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ابنائے ہرمز کھلنی چاہیے، ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ دونوں ممالک نے مشرق وسطی کی کشیدہ صورت حال ، یوکرین جنگ اور تائیوان کے موضوع پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا صدر ٹرمپ نے بتایا کہ چین نے امریکی بوئنگ کمپنی سے 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر اتفاق کیا۔ امریکی وزیر خارجہ روبیو نے کہا کہ ہم چین کو ایران پر دباو ڈالنے کے لئے راضی کر لیں گے۔ گیلیم نامی قیمتی دھات کے 90 فیصد زخائر چین میں ہیں اس کی امریکہ کو فروخت کے بارے کوئی معاہدہ نہیں ہوا ۔ چین امریکہ سے مزید تیل خریدے گا جس سے چین کا ابنائے ہرمز پر انحصار کم ہو جائے گا۔ فاکس نیوز سے باتیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین نے ابنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کرنے کا کہا ہے۔ چین ایران کو کسی قسم کا اسلحہ اور سازو سامان نہیں دے گا ۔اسے امریکی نیوی کی طرف سے ابناے ہرمز کی ناکہ بندی ہر بھی اعتراض ہے۔ ابنائے ہرمز اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے فکرمند ہے۔ چین امریکہ ایران تنازع کے خاتمے کا حامی ہے چینی قیادت نے پاکستانی ثالثوں کو کہ دیا ہے کہ امریکہ ایران مسلہ حل کرنے میں اپنی سفارت کاری کو تیز کریں تاکہ دنیا میں امن قائم ہو مہنگائی کا خاتمہ ہو اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں۔ پاکستانی ثالثوں نے امریکی تجاویز ایرانی قیادت تک پہنچائی تھیں ۔ امریکی صدر ٹرمپ کو ایرانی جواب کا انتظار تھا ۔ ایرانی قیادت نے بڑی عرق ریزی سے امریکی تجاویز کا جائزہ لیا اور دس روز بعد درج زیل جواب دیا۔ جنگ کا خاتمہ ہرمز میں عدم مداخلت ، حملے نہ کرنے کی یقین دہانی, معاشی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ جنگ میں نقصان کا ہرجانہ اور منجمند اثاثوں کی بحالی شامل ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کے اس جواب کو یکسر مسترد کر دیا اور ایران کے جواب کا مزاق اڑایا۔ ایرانی تجاویز کے بارے میں ابھی امریکی قیادت نے کوئی حتمی فیصلہ کرنا تھا کہ صدر ٹرمپ چین کے دورے پر چلے گئے ۔ امریکہ چین سے سویا بین گوشت اور دیگر زرعی اجناس خریدے گا چین امریکہ سے 200 جہاز خریدے گا ۔ امریکی صنعتکار چین میں سرمایہ کاری کریں گے۔ بقول ٹرمپ چین نے ابنائے ہرمز کھلوانے کے بارے میں مداخلت کا وعدہ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر نے پوچھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکہ اسے اسلحہ سپلائی کرے گا تو میں خاموش رہا حالانکہ اس کے بارے میں ہی جانتا ہوں۔ صدر ٹرمپ دورہ چین میں ایران امریکہ تنازعے کے بارے میں چینی حمایت حاصل نہ کر سکے۔ چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ دوبارہ نہیں ہونی چاہیے ،امریکہ اور ایران کو اپنے تنازعات بات چیت سے حل کرنے چاہیں اس بیان سے چین کی خارجہ پالیسی واضع ہوتی ہے۔ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی نئی راہیں کھلیں گی ۔ صدر ٹرمپ نے چین سے واپسی کے بعد ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں بیان بازی شروع کر دی ہے ۔ ایران کی جانب سے 20 سال تک یورینیم کی فزودگی کی معطلی پر ٹرمپ متفق نظر اتے ہیں ۔جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر فیور کے طور پر کی ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ پھر وہی انداز ایک طرف دھمکیاں اور دوسری جانب معاہدے کے لئے التجائیں امریکی صدر ایران جنگ کے بعد بری طرح پھنس چکے ہیں ایک طرف مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کا خطرہ، امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ووٹ بینک کا کم ہونا اور دوسری جانب مواخذے کی تلوار بھی ان کے سر پر لٹک رہی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا فزودہ شدہ یورینیم روس منتقلی کے بارے میں صدر پوثین سے بات چل رہی ہے ۔ پاکستانی ثالث ختم نہیں ہوئی مشکلات کا شکار ہے اس کا زمے دار امریکہ یے اور ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں امریکی صدر کے دورے کے بعد اس ماہ کے اخر میں وزیراعظم شہباز شریف چین کا اہم دورہ کریں گے مبینہ طور پر روسی صدر پوٹین بھی چین کا دورہ کرنے والے ہیں ۔ چین بھی چاہتا ہے کہ امریکی اور ایران کے درمیان جلد جنگ بندی ہو جائے لیکن صدر ٹرمپ کے منٹوں میں بدلے بیانات کی وجہ سے کوئی معاہدہ ہوتا ہوا نظر نہیں اتا۔ چین روس برطانیہ اور اقوام متحدہ کو امریکہ ایران کے درمیان پڑ کر اس مسلئے کا حل نکالنا چاہئے تاکہ دنیا مہنگائی کساد بازاری اور تباہی سے بچ جائے ۔

