کالم

پاڑہ چنار ۔۔۔!

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع پاڑہ چنار قدرتی حسن، تاریخی اہمیت، قبائلی روایات اور جغرافیائی انفرادیت کا ایک حسین امتزاج ہے ۔پاڑہ چنار اسلام آباد سے تقریبا 386 کلومیٹر جبکہ لاہور سے 636 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ علاقہ ایک جزیرے کی مانند ہے کیونکہ اس کے تین اطراف افغانستان کی سرحد لگتی ہے۔ سطح سمندر سے تقریبا 5597فٹ بلند یہ خوبصورت شہر اپنی ٹھنڈی آب و ہوا، بلند پہاڑوں، سرسبز وادیوں، بہتے چشموں اور برف پوش چوٹیوں کی وجہ سے پاکستان کے حسین ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔گرمیوں کے موسم میں بھی یہاں کی فضا خوشگوار رہتی ہے جبکہ سردیوں میں برف باری پورے شہر کو سفید چادر اوڑھا دیتی ہے۔تاریخی روایات کے مطابق اس شہر کا قدیم نام توتکی تھا لیکن بعد ازاں چنار کے درخت اور پارا قبیلے کی نسبت سے اس کا نام پاڑہ چنار پڑ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ تقریبا دو سو برس قبل اس خطے میں پشتونوں کے طوری قبیلے کی ایک شاخ پارا خیل آباد تھی۔ اس قبیلے کے ایک قبائلی رہنما جنہیں پارا یا پاری کہا جاتا تھا، انہوں نے چنار کا ایک ننھا سا پودا لگایا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ پودا ایک تناور اور گھنے درخت میں تبدیل ہوگیا۔ لوگ فصلوں کی کٹائی اور گرمیوں کے موسم میں اسی درخت کے نیچے اپنے خیمے نصب کرتے تھے۔رفتہ رفتہ یہی درخت علاقے کی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ قبائلی مشران یہاں بیٹھ کر جرگے کرتے، اہم فیصلے طے کرتے اور معاشرتی مسائل حل کرتے تھے۔ اس تاریخی چنار کا پرانا تنا آج بھی علاقے کی تہذیبی شناخت کے طور پر موجود ہے اور ماضی کی عظمت کی یاد دلاتا ہے۔ ہم ساجد طوری کی خصوصی دعوت پر پاڑہ چنار گئے۔ راستے بھر پہاڑوں کے حسین سلسلے، ٹھنڈی ہوائیں، سرسبز وادیاں اور قدرتی مناظر انسان کو ایک نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ پاڑہ چنار پہنچ کر محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، قربانی، محبت اور فطرت کاحسین امتزاج ہے۔پاڑہ چنار ضلع کرم کا سب سے بڑا شہر اور ضلعی ہیڈکوارٹر ہے۔برطانوی دور میں اسے شمال مغربی سرحدی صوبے کا ایک اہم فوجی اور سیاسی مرکز بنایا گیا تھا۔ انگریزوں نے اپنی فوجی حکمت عملی کے تحت یہاں چھانیاں، قلعے اور سرکاری عمارتیں تعمیر کیں۔مغل دور میں بھی یہ علاقہ اپنی خوشگوار آب و ہوا کی وجہ سے حکمرانوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ پاڑہ چنار اور اس کے گرد و نواح میں کئی دلکش سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ شلوژان باغ اپنی سرسبزی، رنگ برنگے پھولوں، چشموں اور بلند درختوں کی وجہ سے بے حد خوبصورت مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہاں بہتے پانی کی آواز، ٹھنڈی ہوائیں اور فطرت کا سکون انسان کے ذہنی انتشار کو ختم کردیتا ہے۔ اسی طرح سپن غر پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی سکرم سر پاک افغان سرحد پر واقع ہے جو اپنی برف پوش چوٹیوں اور قدرتی عظمت کی وجہ سے سیاحوں کیلئے کشش رکھتی ہے۔وادی زراں میں واقع مست بابا زیارت روحانی سکون اور قدرتی خوبصورتی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ چپری بنگلہ انگریز دور کا تعمیر کردہ ایک تاریخی ریسٹ ہاس ہے جو 1930 میں بنایا گیا تھا۔ پاڑہ چنار کا پنجابی بازار اپنی تاریخی اور تجارتی اہمیت کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ بازار وسطی اور جنوبی ایشیا کے قدیم ترین تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ مقامی لوگ اسے ایشیا کا تاریخی پنجابی بازار بھی کہتے ہیں۔ اس بازار کی تاریخ تقریبا دو سو سال پرانی ہے۔ برطانوی دور میں جب پاڑہ چنار کو ایک اہم فوجی اور سیاسی مرکز بنایا گیا تو اس بازار کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ یہ بازار قلعے کی مانند تھا جس کے چاروں طرف حفاظتی دیوار اور پانچ بڑے تاریخی دروازے موجود تھے۔ جنی گن گیٹ، شنگاڑی گیٹ، پیواڑی گیٹ اور مانسین گیٹ اس کی تاریخی شناخت تھے۔ اس بازار کی گلیوں میں آج بھی ماضی کی خوشبو محسوس کی جاسکتی ہے۔ انگریز دور میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہندو، سکھ اور مسلمان تاجر یہاں آکر آباد ہوئے چونکہ ان کی مادری زبان پنجابی تھی اس لیے مقامی پشتون قبائل نے اس بازار کو پنجابی بازار کہنا شروع کردیا۔ تقسیم ہند سے پہلے اس بازار کی بڑی تجارت اور ہول سیل مارکیٹیں پنجابی ہندوں اور سکھوں کے پاس تھیں۔ اس دور میں اس کے مقابلے میں ایک اور بازار قائم ہوا جسے نسبتا غریب ہونے کی وجہ سے خوار بازار کہا جاتا تھا۔ بٹوارے کے بعد زیادہ تر ہندو تاجر ہجرت کر گئے لیکن کئی سکھ خاندان آج بھی یہاں آباد ہیں۔ یہ لوگ پشتو لہجے میں گفتگو کرتے ہیں، مقامی ثقافت کا حصہ بن چکے ہیں اور تجارت سے وابستہ ہیں۔ یہی چیز پارہ چنار کی تہذیبی وسعت اور بین الثقافتی ہم آہنگی کی علامت ہے۔پاڑہ چنار افغانستان کے دارالحکومت کابل سے تقریبا 110 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہی قربت اسے تجارت کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ یہاں سے کپڑا، الیکٹرانکس، روزمرہ اشیائے ضرورت اور آٹو پارٹس افغانستان برآمد کیے جاتے ہیں جبکہ وہاں سے خشک میوہ جات درآمد ہوتے ہیں۔ پاڑہ چنار کی سرخ مونگ پھلی، چلغوزے، اخروٹ اور سیب پورے پاکستان میں پسند کیے جاتے ہیں اور بڑی مقدار میں مختلف شہروں کو سپلائی کیے جاتے ہیں۔ضلع کرم قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں صابن کا پتھر، سنگ مرمر اور کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جس کی وجہ سے منرل بزنس تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس شعبے پر جدید خطوط پر توجہ دی جائے تو یہ خطہ پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔پاک افغان سرحد پر آمد و رفت کی پابندیوں اور سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے مقامی تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور سپلائی چین برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف تجارت بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہم دریا کرم کے کنارے بیٹھے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اس دوران ساجد طوری سے عصر حاضر کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے نہایت مدلل انداز میں کہا کہ یہاں کے لوگ محب وطن ہیں اور پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ افغانستان پر عالمی طاقتوں کی یلغاروں نے پورے خطے کو متاثر کیا اور اس کے اثرات پاڑہ چنار سمیت سرحدی علاقوں پر بھی پڑے۔ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی ہیں جس سے علاقائی استحکام متاثر ہوتا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مضبوط اور متوازن تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ بدامنی اور کشیدگی کا نقصان ہمیشہ عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ساجد طوری نے موجودہ معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔ عام آدمی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے شدید مشکلات کا شکار ہے۔اشرافیہ کو چاہیے کہ وہ آئی ایم ایف اور دیگر قرضوں پر انحصار نہ کرے بلکہ ملک میں کفایت شعاری کو فروغ دے۔ حکمران طبقہ عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیوں کا سلسلہ بند کردے۔انہوں نے مزید کہا کہ اشرافیہ اور عوام متحد ہوکر اخلاص سے محنت کریں تو مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہے۔ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن ایک مخصوص طبقہ دولت بیرون ملک منتقل کرتی رہی ہے، یہی دولت اپنے ملک واپس لایا جائے ، صنعتوں کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو میرٹ پر مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے