زلمے خلیل زاد کی جانب سے یہ تجویز ہے کہ پاکستان کو کابل کے ساتھ دوحہ طرز کے کسی معاہدے کی طرف بڑھنا چاہیے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ تجویز خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی حرکیات پاکستان کی ارتقائی انسداد دہشت گردی حکمت عملی اور افغانستان میں موجود اسلامی امارت کی کمزور ہوتی ہوئی ساکھ کو نظر انداز کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے خلاف ابھرنے والے مضبوط قومی اتفاق رائے کو کم تر سمجھنے کے مترادف ہے۔گزشتہ چند برسوں میں پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوامی سوچ دہشت گردی کیخلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ ماضی میں جہاں اس مسئلے پر ابہام، اختلاف رائے اور پالیسی تذبذب پایا جاتا تھا آج انسداد دہشت گردی ایک طے شدہ قومی ضرورت بن چکی ہے۔ اب یہ کوئی سیاسی بحث نہیں بلکہ ایک اجتماعی فیصلہ ہے جس پر وسیع قومی اتفاق موجود ہے۔دوسری جانب افغانستان میں قائم اسلامی امارت وہ محدود بین الاقوامی قبولیت بھی کھو چکی ہے جس کی وہ کبھی خواہش مند تھی۔ اقوام متحدہ کی حالیہ پابندیوں، نگرانی کی رپورٹس اور شواہد پر مبنی تجزیوں نے واضح طور پر افغانستان کو متعدد دہشت گرد تنظیموں کیلئے سازگار ماحول قرار دیا ہے۔ یہ الزامات محض سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ ٹھوس شواہد پر مبنی ہیں۔ عالمی تنہائی کی وجہ کسی تعصب میں نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی سے متعلق وعدوں کو پورا کرنے میں امارت کی ناکامی میں پوشیدہ ہے ۔اسی تناظر میں دوحہ معاہدے کو کسی کامیاب ماڈل کے بجائے ایک ناکام تجربہ سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔اگرچہ اس معاہدے نے وقتی طور پر سفارتی سہولت فراہم کی لیکن یہ دہشت گردی کے پھیلا کو روکنے یا سرحد پار دہشت گرد ڈھانچوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ موجودہ حالات میں دوحہ جیسے کسی فارمولے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش اسٹریٹجک طور پر غیر دانشمندانہ ہوگی۔انسداد دہشت گردی حکمت عملی جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات اور زمینی حقائق سے ظاہر ہے کسی ایک پہلو تک محدود نہیں۔ یہ ایک جامع، مربوط اور کثیر جہتی پالیسی ہے جس میں خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیاں، سخت بارڈر مینجمنٹ، دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی نگرانی اور گمراہ کن پروپیگنڈے کیخلاف واضح بیانیہ شامل ہے۔ اس مربوط انداز نے دہشتگردوں کیلئے عملی گنجائش کو نمایاں طور پر محدود کیا ہے۔ بلوچستان میں اہم دہشتگرد عناصر کی گرفتاری اور کراچی میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کی بروقت روک تھام اس نئی حکمت عملی کی کامیابی کا عملی ثبوت ہیں۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ مسلسل، انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیاں نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں جبکہ غیر قابل اعتماد عناصر کیساتھ سفارتی جوئے کھیلنا کسی فائدے کا باعث نہیں بنتا۔ داعش خراسان کیخلاف نئے دو طرفہ فریم ورک کی تجاویز بھی زمینی حقائق سے کٹی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان نے اس تنظیم کو مستقل دبا، موثر کارروائیوں اور انٹیلی جنس رسوخ کے ذریعے پہلے ہی کمزور کر دیا ہے۔ اس خطرے کو مشترکہ چیلنج بنا کر نئے ڈھانچوں کی ضرورت ظاہر کرنا اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ پاکستان نے یہ معاملہ بغیر کسی بیرونی انحصار کے خود حل کیا ہے۔یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ سفارتکاری اور ریاستی رویے جامد نہیں ہوتے۔ 2021 میں جو چیز قابل عمل دکھائی دیتی تھی وہ آج کے سیکیورٹی ماحول میں لاگو نہیں کی جا سکتی۔ آج کا منظرنامہ نئے خطرات، بے نقاب شدہ مفروضات اور ناکام تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق سے تشکیل پایا ہے ۔ آخر میں یہ توقع رکھنا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کو ایسے نظام کے ساتھ جوڑ دے جس کی سیاسی اور معاشی بقا طویل عرصے سے عدم استحکام سے وابستہ رہی ہو حقیقت پسندانہ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے نظاموں کی بقا امن اور معمولات کے بجائے کشیدگی پر انحصار کرتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کیلئے ایسے کسی فریم ورک کے ساتھ اپنی سلامتی وابستہ کرنا اسٹریٹجک طور پر غیر منطقی ہوگا۔

