کالم

پاکستانی معاشرے میں مذہب کا کردار

پاکستانی معاشرہ اپنی ساخت میں بظاہر مذہبی اقدار کا امین دکھائی دیتا ہے۔ گلی محلوں سے لیکر ایوان اقتدار تک مذہب کی گونج سنائی دیتی ہے ۔جمعہ کے خطبے سے لیکر سیاسی تقریر تک ہر جگہ اسلام کی بات کی جاتی ہے ۔ہر فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور ہر تحریک کو مذہبی رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے مگر جب ہم معاشرے کے باطن میں جھانکتے ہیں تو یہ مذہبیت اکثر محض ایک لبادہ محسوس ہوتی ہے جو اصل چہرے کو چھپانے کیلئے اُوڑھا گیا ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مذہب اسلام جسے امن، رواداری، عدل اور مساوات کا علمبردار بنا کر پیش کیا گیا ہے وہی مذہب جب پاکستانی سماج میں داخل ہوتا ہے تو اُس کی اصل روح کہیں کھو جاتی ہے۔ دین کا نام لینے والے اکثر اوقات خود دین کی تعلیمات سے ناآشنا دکھائی دیتے ہیں۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة جیسے فرائض پر زور دیا جاتا ہے مگر سچائی، دیانتداری ، رحم دلی اور انسان دوستی جیسے بنیادی اخلاقی اصول پس پشت ڈال دیئے جاتے ہیں۔ ایک طرف ہزاروں لوگ مساجد میں صف باندھ کر عبادت کرتے ہیں تو دوسری طرف اِنہی نمازیوں میں کئی افراد جھوٹ، دھوکہ اور ناانصافی کو رُوزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائے رکھتے ہیں۔ہمارے ہاں مذہب کا استعمال ذاتی مفادات، گروہی ایجنڈوں اور سیاسی چالوں کیلئے کیا جانا عام ہو چکا ہے۔ سیاست دان جب ووٹ مانگتے ہیں تو دین کے نام پر، تاجر جب خریدار کو لبھاتے ہیں تو اسلامی روایت کا حوالہ دے کر اور مذہبی رہنما جب خطبہ دیتے ہیں تو مخالف فرقے یا طبقے کو بُرا کہہ کر اپنی برتری قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں یوں مذہب ایک مقدس ضابطہ حیات کے بجائے محض ایک حربہ بن کر رہ گیا ہے جو جس کے ہاتھ لگا، اُس نے اپنے انداز میں استعمال کیا۔معاشرتی سطح پر بھی یہ تضاد نمایاں ہے۔ عورت کے حقوق پر بحث ہو تو مذہب کا حوالہ آتا ہے مگر جب خواتین کو وراثت سے حصہ دینے یا تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی بات کی جائے تو اِنہی مذہبی دلائل کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ بچوں کے ساتھ بدسلوکی ہو، اقلیتوں کے حقوق ہوں یا مزدور کے استحصال کی بات ہو، مذہب سب کیلئے واضح ہدایات رکھتا ہے مگر عملی زندگی میں ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ہمارا معاشرہ بیک وقت مذہبی بھی ہے اور غیراخلاقی بھی، عبادت گزار بھی اور کرپٹ بھی، قرآن پڑھنے والا بھی اور دھوکہ دینے والا بھی۔یہ تضاد دراصل ایک اجتماعی منافقت کو ظاہر کرتا ہے جو اُس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک مذہب کو ظاہری شعار سے نکال کر باطنی اصلاح اور سماجی عدل کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ ہمیں بحیثیت قوم اِس سچائی کا سامنا کرنا ہوگا کہ دین کی اصل روح کو سمجھے بغیر صرف ظاہری مذہبیت سے نہ فرد کی اصلاح ہو سکتی ہے نہ معاشرے کی۔ جب تک مذہب کو دل کی گہرائی سے، نیت کی سچائی سے اور عمل کی سچائی سے اپنایا نہ جائے، یہ لبادہ صرف دھوکہ ہی دیتا رہے گا۔پاکستان کو ایک بہتر، بااخلاق اور حقیقی معنوں میں اسلامی معاشرہ بنانے کیلئے لازم ہے کہ ہم مذہب کو ذاتی نجات کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اجتماعی فلاح کا راستہ سمجھیں ۔ مساجد کو صرف عبادت گاہ نہ بنائیں بلکہ تربیت گاہ بنائیں ۔ دینی تعلیم کو صرف حفظ اور تلاوت تک محدود نہ رکھیںبلکہ فہم و عمل تک پھیلائیں اور سب سے بڑھ کر اپنی ذاتی زندگی میں وہ تبدیلی لائیں جو ہمارے دین کا اصل پیغام ہے ورنہ مذہب کا یہ لبادہ صرف ظاہری دھوکہ ہی رہے گا اور ہماری زبوں حالی کا سفر یونہی جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے