گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026نے پاکستان کو دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک قرار دیا ہے جو کئی اہم پہلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے خصوصا سرحد پار سے دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اضافہ اور افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کے محفوظ ٹھکانوں کا وجود یہ رپورٹ پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال خطے میں امن و استحکام کی کوششوں اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی پر اہم روشنی ڈالتی ہے۔
سرحد پار سے دہشت گردی کا بڑھتا ہوا خطرہ اب نہ قابل برداشت ہے پاکستان پر دہشت گردی کے حملوں کا بڑھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ سرحد پار سے دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں جن میں سب سے اہم تحریکِ طالبان پاکستان اور آئی ایس کے پی ہیں۔ یہ تنظیمیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔افغانستان نے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروپوں کے لیے ایک پناہ گاہ کے طور پر کام کیا ہے جس سے ان گروپوں کو پاکستان میں حملے کرنے کا موقع مل رہا ہے۔افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو اس بات کا سامنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہیں اور تربیت کے مراکز قائم ہیں جہاں سے یہ گروہ پاکستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے افغانستان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں موجود ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف سخت اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے خلاف ان کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کا کردار بہت اہم ہے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے حملوں کے باوجود بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے نقصان کو روکنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ آپریشن عزمِ استحکام جیسے بڑے فوجی آپریشنز نے دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی ہے۔
پاکستان نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے بڑے آپریشنز شروع کیے ہیں جن میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تاہم دہشت گردی کے خطرات ابھی بھی موجود ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کی ہے جس میں سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ سیاسی مصروفیت اور معاشی و سماجی ترقی پر بھی زور دیا گیا ہے۔اس حکمت عملی کا مقصد فوری خطرات کیساتھ ساتھ دہشت گردی کے بنیادی محرکات جیسے غربت، عدم مساوات اور سماجی عدم استحکام کا بھی مثر حل فراہم کرنا ہے۔ دہشت گردوں کی بھرتی کو روکنا ایک بہت بڑا سوال ہے پاکستان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نوجوانوں کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے ہیں تاکہ دہشت گردی کے لیے بھرتی کو روکا جا سکے۔خاص طور پر بلوچستان میں جہاں علیحدگی پسند گروہ سرگرم ہیں وہاں تعلیمی اور ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں اور وہ شدت پسندی کی طرف راغب نہ ہوں۔بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسے گروہ پاکستان کے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور عالمی دہشت گردی کی تعریف کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔
پاکستان نے ان تنظیموں کے خلاف عالمی سطح پر مثر اقدامات کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے فریم ورک کے تحت ان تنظیموں کو دہشت گرد گروہ قرار دلوانے کیلئے عالمی سطح پر تعاون بڑھا رہا ہے۔پاکستان کی حکومت نے اپنے افغان ہمسایے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کو پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کے استعمال کو روکنے کیلئے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔
اس تعاون کی کامیابی پاکستان کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف اقدامات پاکستان کے استحکام کیلئے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی عالمی کوششوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے عالمی اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی برادری کے ساتھ اپنی تعاون کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بلوچستان لبریشن آرمی کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے مختلف ممالک کیساتھ رابطہ کاری کی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر تعاون کو بڑھانے کیلئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔پاکستان کی سیکیورٹی صرف ملکی سطح تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا خطے اور عالمی استحکام پر بھی اثر پڑتا ہے۔جب تک پاکستان دہشت گردی کے اس چیلنج سے نبرد آزما نہیں ہوتا پورے خطے کی سلامتی خطرے میں رہ سکتی ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں اور اس کی حکومتی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے تاہم ابھی بھی خطرات برقرار ہیں۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 پاکستان کی سیکیورٹی کی حالت کو عالمی سطح پر پیش کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف فرنٹ لائن پر ہے۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کیخلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کو اپنے داخلی چیلنجز خاص طور پر افغانستان کیساتھ تعلقات اور دہشت گردوں کی بھرتی کو روکنے کیلئے مختلف شعبوں میں کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
کالم
پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات
- by web desk
- مارچ 28, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 263 Views
- 2 مہینے ago

