پاکستان کے چاروں صوبے (پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان) کا موجودہ ڈھانچہ ایک دن میں وجود میں نہیں آیا بلکہ ایک تاریخی اور آئینی عمل کے نتیجے میں یہ صوبے بنے۔ ان صوبوں کے بن جانے کے بعد نئے صوبے بنانے کی سوچ کو دفن کر دیا گیا۔ ایسا کرنا کسی دشمن کی چال ہی ہو سکتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھارت جب آزاد ہوا تو اس کے اس وقت آٹھ صوبے تھے اور اب اس کے 28 صوبے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا ملک پیدائشی طور پر دو حصوں میں دیا گیا ایک کانام مشرقی پاکستان اور دوسرے کا نام مغربی پاکستان تھا۔ جبکہ کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا۔ پھر پاکستان کے ایک حصے مشرقی پاکستان کو الگ کر کے ایک نیا مسلم ملک بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔ پھرجسے مغربی پاکستان کہتے تھے اس میں مغربی کو ختم کر کے صرف پاکستان کا نام مل چکا ہے۔ اس پاکستان میں بلوچستان ، سندھ، پنجاب اور سرحد بنادیا گیا۔ ان صوبوں کو تاریخ کچھ یوں ہے ۔ پنجاب 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت مغربی پنجاب پاکستان میں شامل ہوا اور صوبہ پنجاب کہلایا۔ تقسیمِ ہند کے تحت مشرقی پنجاب بھارت کو اور مغربی پنجاب پاکستان کے حصے میں آیا۔ انتظامی حیثیت سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے طور پر ابتدا سے ہی موجود ہے۔ اسی طرح برطانوی دور میں سندھ، بمبئی کا حصہ تھا 1936 برطانوی حکومت نے سندھ کو بمبئی سے الگ کر کے علیحدہ صوبہ بنایا۔ 1947 میں تقسیم کے بعد یہ صوبہ پاکستان کا حصہ بن گیا۔خیبرپختونخوا صوبہ سرحد 1901: انگریزوں نے پنجاب کے مغربی سرحدی اضلاع کو الگ کرکے "North-West Frontier Province (NWFP)” بنایا۔ 1947: ریفرنڈم کے ذریعے یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہوا۔ اس صوبے کے نام کی تبدیلی: 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبہ سرحد کا نام تبدیل ہوکر خیبر پختونخوا رکھا گیا۔ بلوچستان قیام کے وقت سے ہی بلوچستان سب سے پیچیدہ علاقہ تھا۔ برطانوی دور میں یہاں تین حصے تھے: برٹش بلوچستان (کوارنٹائن ایریا، کمشنر کے ماتحت) بلوچ ریاستیں (قلات،خاران، لسبیلہ، مکران وغیرہ یہ نیم خودمختار بلوچستان ایجنسی تھیں 19471948 میں بلوچ ریاستوں نے الحاق کے معاہدے کے تحت پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔1970 جنرل یحییٰ خان کے دور میں ون یونٹ ٹوٹا اور بلوچستان کو باضابطہ طور پر ایک صوبہ بنایا گیا۔پنجاب 1947 تقسیم ہند کے وقت بنا جبکہ سندھ 1936 علیحدہ صوبہ بنا اور 1947 میں پاکستان کا حصہ بن گیا۔ خیبر پختونخوا 1901 میں NWFPبنا 1947 میں پاکستان میں شامل ہوا اور 2010 میں نیا نام اس صوبے کو دیا گیا۔ بلوچستان مختلف ریاستوں اور علاقوں کے الحاق سے 1947 1948ہوا 1970 میں صوبہ بنایا گیا۔ اس کے بعد سے نئے صوبوں کے بنانے کی آوازیں تو اتی رہی۔ جیسے سرائیکی کا صوبہ بنانے کے لیے ہمارے ملک ممتاز حسین ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے ملتان سے سرائیکی صوبہ بنانے کی تحریک شروع کی۔ یہ تحریک اب بھی جاری ہے اسی طرح ہم نے بھی خطہ پوٹھوہار صوبہ بنانے کی اواز بلند کی۔ اس پر کالم لکھے لیکن کسی حکومت نے اس طرف دھیان نہیں دیا۔ جس کا نتیجہ اب اپ کے سامنے ہے۔ ملک میں افراتفری کی ایک وجہ یہ بھی ہے ملک میں ہم نے مزید صوبے بنانے پر کام نہیں کیا ۔ موجودہ حکومت اس قابل ہے کہ ملک میں نئے صوبے دو تین نہیں کم از کم آٹھ دس صوبے مزید بنائیں۔ ایسے موقع بار بار نہیں ملتے۔ بظاہر تو لگتا ہے اس کے لئے سوچ بچار کیا جا رہا ہے ۔لیکن اب سوچ بچار سے آگے بڑھنا ہو گا ہم پہلے ہی تاخیر کا شکار ہیں۔اللہ کرے یہ حکومت مزید صوبے بنانے کی کوششوں میں کامیاب ہو جائے۔ایسا کرنے سے ملک مضبوط ہو گا۔ وفاق مزید مضبوط ہوگی۔ موجودہ صوبائی ڈھانچہ 1970 میں قائم ہوا تھا اور اب تک چل رہا ہے۔اب ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ صوبوں کو لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے۔ اس سے ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ دنیا کے بہت سے ممالک جن میں ایتھوپیا، بھارت ناجیریا جیسے ممالک ہیں جہاں نئے صوبے بنانے سے ان ممالک کی حکمت عملی کامیاب ہو چکی ہے۔پاکستان میں پنجاب میں چار صوبے بنانے کی گنجائش ہے۔ ساحلی وسطی مشرقی شمالی صوبے بن سکتے ہیں اسی طرح سندھ کو شہری اور دیہی حصوں میں تقسیم کر کے نئے صوبے ممکن ہیں۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ بہتر حکمرانی کیلئے تقسیم کیا گیا۔ ناجیریا نے خانہ جنگی کے بعد چار سے بارہ صوبے بنائے اور ملک کو بچایا۔ ہم نے ون یونٹ بنا کر صوبوں کو پانچ سے کم کر کے دو کیا اس سے آدھا ملک گنوا دیا۔ اج ہمیں نئے صوبوں کی اشد ضرورت ہے۔ ایسا کر کے ایک نیا ترقی کا باب کھول سکتے ہیں ۔ ابھی حالات ساز گار ہیں اس لیے ایسا کرنا ممکن ہے اگر دیر کر دی تو پھر یہ شائد ممکن نہ ہو۔ لہٰذا موجودہ حکمرانوں سے اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتے ہیں پلیز نئے صوبوں کو بنائیں اس سے ملک مضبوط ہوگا۔ملک میں سیلاب آ رہے ہیں اگر ملک میں مزید ڈیم بنا لیتے تو ان تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا تھا۔ اس پر سیاست کی گئی اور اج ہم نقصان سے دوچار ہیں۔ اس وقت نئے صوبوں کے بنائے جانے پر قوم متحد ہے۔ حالات سازگار ہیں۔ لہذا مزید تاخیر نہ کی جائے۔مزید دیر نہ کی جائے۔جتنے نئے صوبے بنا سکتے ہیں بنائیں دیر نہ کریں۔دیر سے منیر نیازی کی یہ غزل یاد آ رہی ہے۔ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ۔ یہ غزل آج کے حکمرانوں اور عوام کے نام ۔
ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت کے وقتِ ملاقات پر جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی، یاری نبھانی ہو
بہت دل چسپ منظر میں، کہیں کھو جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو دِل دینا ہو، کسی کا توڑ دینا ہو
طمع ہو یا خطا ہو، اعترافِ دردمندی کا
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کالم
پاکستان میں مزید صوبوں کی اشد ضرورت ہے
- by web desk
- اگست 25, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 294 Views
- 6 مہینے ago

