سانحہ مشرقی پاکستان کی وجوہات کے تعین اور مستقبل میں بہتری کی تجاویزآنے کے پانچ دہائیاں بعدہی سہی، آخرکار افواجِ پاکستان کی مشترکہ کمانڈ اور آپریشن کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی مرحلہ عبور ہوا ۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے اجتماعی حربی نظام کی تشکیل کے لئے ‘ڈیفنس فورسز ہیڈکوآرٹرز’ کا قیام اور ‘چیف آف ڈیفنس فورسز’ کی تقرری ، اصل میں پاکستان کے دفاع کی وہ انتہائی ضرورت تھی جسے پورا ہونے میں اتنا وقت لگ گیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کو سیاسی لحاظ سے جتنی بھی تنقید کا نشانہ بنایاجائے، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے وزیراعظم مانیں جائیں گے جنہوں نے تاریخی اہمیت کے فیصلے کئے۔ آئینی ترامیم ہوں، وفاقی آئینی عدالت کا قیام ہو، پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہو، ذاتی کوشش سے آئی ایم ایف سے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا بندوبست کرناہو،معاشی ابتری کے کنوئیں کے کنارے جھولتے ملک میں آئے اکتوبر 2022 کے تاریخی سیلاب کے سامنے کی صورتحال ہو، 10 مئی کے معرکہ حق میں پاکستان کی فتح ہو، پاکستان کی سفارتی سطح پر نئے میلاپ کی حیرت زدہ کہانی، یا ‘ڈیفنس فورسز ہیڈکوآرٹرز’ کا قیام اور ‘چیف آف ڈیفنس فورسز’ کی تقرری، بہرحال یہ واقعات ، تاریخ کا ایک انمٹ باب ہی کہلائیں گے۔ ‘ڈیفنس فورسز ہیڈکوآرٹرز’ کے قیام اور ‘چیف آف ڈیفنس فورسز’ کی تقرری سے متعلق پاکستان کی سیاست اور میڈیا میں ہونے والی گفتگو، تنقید ،طعنہ وتشنیع اور الزامات وپراپیگنڈے کے طوفان کو دیکھ کر مجھ جیسے ، ابلاغ ِ عامہ کے ایک طالب علم کے حیرت اور فکر سے پسینے چھوٹتے رہے۔ وجہ وہ سنسنی خیزی نہیں تھی جو درجہ حرات کی انتہائوں کو چھوتے، غیض وغضب میں ڈھلے بیانات اور سرخیوں کے نتیجے پر پیدا ہوئی بلکہ اس سارے معاملے کے پسِ منظر سے لاعلمی تھی جس نے مجھ طفلِ مکتب کو پریشان کردیا۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ وطن کے دفاع سے متعلق کسی بحث میں اتنے اہم پہلو اور اُس بنیادی وجہ کو ہی فراموش کردیا جائے جو بنیادی طورپر اس دفاعی ادارے کے قیام اور اس کے پہلے سربراہ کی تقرری کی وجہ بنی۔ محض ایک فرد کو کسی بھی وجہِ عناد پر الزامات کی بھڑاس نکال کر نشانہ بنانے پر ہر کوئی اپنی رائے بناسکتا ہے لیکن کم ازکم علمی ، تحقیقی اور تجزیاتی پہلو سے یہ بڑی ہی مایوس کُن صورتحال تھی کہ سب کی گاڑی کا پہیہ ‘سیاسی کھوبے’ میں پھنسا رہا اور کسی نے اس معاملے پر حقائق کی دلدل میں اترنے کی زحمت نہ کی ۔ ایک طالبانہ کوشش میں، یہ واضح کرنا ضروری سمجھا کہ تین دسمبر 2025 کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر تقرری اور ‘ڈیفنس فورسز ہیڈکوآرٹرز’ کے قیام کی کچھ تاریخ بیان کردی جائے تاکہ وہ حقیقی پہلو بھی اس افراتفری میں واضح ہوجو اس فیصلے کی وجہ بنا۔1950 کے آغاز میں حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ جوائنٹ سٹاف کمیٹی ہونی چاہیے ۔ مشرقی پاکستان میں بگڑتے حالات اور بھارت کی طرف سے حملے کے خدشات کے دوران کوئی مشترکہ عسکری نظام موجود نہیں تھا اور تمام فورسز اپنی اپنی سطح پر دفاع وطن کے تقاضوں کیلئے اپنی اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی تھیں جس سے حربی میدان میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ممتاز ومحترم محقق پرویز چیمہ صاحب نے لکھا ہے کہ ”1971 کی جنگ کسی مقصد کے بغیر اور سول حکومت اور جنگ میں برسرپیکار افواج یعنی آرمی، بحریہ اور فضائیہ کے درمیان کسی کوآرڈینیشن کے بغیر لڑی گئی۔ ” منصوبہ بندی اور اُس پر عملدرآمد کے حوالے سے ماضی میں جو کمزوریاں سامنے آئیں تھیں، اُنہیں دور کرنا ، پاکستان کے دفاع کا ایک اہم اور لازمی تقاضا تھا ۔ مشرقی پاکستان کے سانحے کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے چیف جسٹس حمودالرحمن کی سربراہی میں ایک فیڈرل کمیشن تشکیل دیا۔ اس کا اہم نکتہ سول ملٹری تعلقات میں ناکامی کی وجوہات کا مطالعہ اور سفارشات کی تیاری بھی تھی۔ ‘ہائر ڈائریکشن آف وار ایکٹ’ کی تجویز دی گئی اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تشکیل پر زور دیا گیا۔ مارچ1976 میں تمام سفارشات کی منظوری دی گئی اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا باضابطہ عہدہ وجود میں آگیا۔ اس کمیٹی میں بری ، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو شامل کیاگیا اور اجتماعی طور پر انہیں دفاعِ وطن کا ذمہ دار بنایا گیا۔ کمیٹی کے سربراہ کا انتخاب ترتیب وار تینوں فورسز سے کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ 1980 میں افواجِ پاکستان کے درمیان اشتراک عمل کو مزید بہتر بنانے کیلئے مزید کوششیں ہوئیں۔ چیٔرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی ۔جے۔ سی۔ ایس۔ سی ) کا عہدہ 1976 میں تیسرے آئینی ترمیمی ایکٹ کے ذریعے بنایا گیا ۔اب تک اس عہدے پر مجموعی طورپر 19 فور سٹار منصب کے چیفس ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق آرمی، 2 کا تعلق بحریہ اور تین کا تعلق فضائیہ سے تھا۔ 9 دسمبر 2025 کو 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے یہ عہدہ ختم کر دیا گیا ہے ۔ جنرل محمد شریف پہلے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر ہوئے، وہ اس عہدے پر یکم مارچ 1976سے 22 جنوری 1977 تک فائز رہے۔ اُن کے بعد ایڈمرل محمد شریف (22 جنوری 1977 سے 13 اپریل 1980)، جنرل محمد ضیاء الحق (13 اپریل 1980 سے 22 مارچ 1984)، جنرل رحیم الدین خان (22 مارچ 1984 سے 28 مارچ 1987)، جنرل اختر عبد الرحمٰن (29 مارچ 1987 سے 17 اگست 1988)، ایڈمرل شاہد کریم اللہ (10 نومبر 1988 سے 17 اگست 1991)،جنرل جہانگیر کرامت (17 اگست 1991 – 9 نومبر 1994)، ایٔر چیف مارشل فاروق فیروز خان (10 نومبر 1994 سے 9 نومبر 1997)، جنرل پرویز مشرف (9 نومبر 1997 سے 7 اکتوبر 1998)، ایٔر چیف مارشل مصحف علی میر (7 اکتوبر 1998سے 7 اکتوبر 2001)، جنرل محمد عزیز خان (7 اکتوبر 2001 سے 7 اکتوبر 2004)، جنرل احسان الحق (7 اکتوبر 2004 سے 7 اکتوبر 2007)، جنرل طارق پرویز (7 اکتوبر 2007 سے 7 اکتوبر 2010)، جنرل خالد شمیم وائیں(8 اکتوبر 2010 سے 8 اکتوبر 2013)، جنرل زبیر محمود حیات (قائم مقام چئیرمین) (8 اکتوبر 2013 سے 27 نومبر 2013)، جنرل راشد محمود (27 نومبر 2013 سے 28 نومبر 2016)، جنرل زبیر محمود حیات (28 نومبر 2016 سے 27 نومبر 2019)، جنرل ندیم رضا(27 نومبر 2019 سے 27 نومبر 2022) اور جنرل ساحر شمشاد مرزا(27 نومبر 2022 سے 27 نومبر 2025) بھی چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا اس عہدے پر آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہے ۔ امریکہ، برطانیہ اور روس سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی مختلف افواج کے درمیان اجتماعی فیصلہ سازی اور عسکری کارروائیوں میں ہم آہنگی لانے کیلئے یہ نظام مختلف ناموں سے موجود ہے۔اس نئے نظام سے سپاہِ پاکستان کی عسکری اور پیشہ ورانہ قوت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔(حذیفہ افضل ماس کام کے طالب علم ہیں اور میڈیا کمیونیکیشن کے شعبے میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرچکے ہیں)

